شاید ہم بھول گئے ہوں کہ1857ء کی جنگ آزادی برصغیر کے جس شہر سے شروع ہوئی تھی‘ اس کا نام میرٹھ تھا۔ یہاں وہ چنگاری چٹخی تھی جو سرّبقاء ہے۔ اس شہر کے بارے میں میرے بعض خوبصورت تاثرات ہیں۔ ہمارے سلیم (احمد) بھائی‘ ان کے استاد حسن عسکری اور کرار حسین وہیں کے تھے اور انتظار حسین بھی تو اسی شہر کی مٹی ہیں‘ مگر آج اس شہر نے جو صدمہ دیا ہے‘ اس نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ہے۔ خیال تھا کہ اس سے بہتوں کی انکھیں بھی کھل جائیں گی‘ مگر لگتا ہے ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ معلوم ہے کہ وہاں کیا سانحہ ہوا ہے۔

میرا ارادہ کرکٹ پرفی الحال لکھنے کا نہیں تھا۔ ڈر تھا کہ کہیں یہ اور پہلے والی جیت نجم سیٹھی کے کھاتے میں نہ ڈال دی جائے۔ ویسے بنگلہ دیش سے ہمارا وہ معاملہ نہیں جو بھارت سے ہے‘ یہ کوئی محبت اور نفرت کی بات نہیں‘ کھیل میں ہوتا یہ ہے کہ ہمارے اندر چھپا ہوا انسان باہر آجاتا ہے۔ جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا تھا تو چند ہی برس بعد ڈھاکا کے سٹیدیم میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہاکی میچ ہوا تھا۔ پوری دنیا دنگ رہ گئی کہ چند ہی برس پہلے بھارت کی مدد سے پاکستان سے الگ ہونے والی قوم پاکستان کو اس طرح داد دے رہی ہے کہ بھارتیوں کو بعد میں کہنا پڑا‘ ہمیں تو یہ لگتا تھا کہ پاکستانی ہوم گرائونڈ میں کھیل رہے ہیں۔

بنگلہ دیشیوں کا اندر کا انسان باہر آگیا تھا۔پوری دنیا ششدر رہ گئی تھی۔ پھر یہاں بھارت کے ساتھ کرکٹ کا میچ ہوا تو یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ اس بار بھی یہی ہوا کہ پاک بھارت میچ میں وہاں حاضرین کی ہمدردیاں اس طرح پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ تھیں جیسے پاکستان انہی کی ٹیم ہو۔ البتہ ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ پاکستان کا بنگلہ دیش سے مقابلہ ہو‘ تو وہ پاکستان کا ساتھ دیں۔ افسوس یہ مقابلہ ہوا تو بنگلہ دیشی پہلی بار اس ٹورنامنٹ میں اچھا کھیلے۔ ایسے اچھا کھیلے کہ اپنے سب ریکارڈ توڑ دیئے اور پاکستان کو بھی جیت کے لئے ایسا ٹارگٹ دیا کہ جسے حاصل کر لیا جائے تو یہ خود ایک ریکارڈ ہوگا۔ پاکستان نے یہ ریکارڈ ساز فتح حاصل کر لی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کا میچ بھی ایک جذباتی ڈراما بن گیا تھا۔ وگرنہ بنگلہ دیش سے ہار جیت کبھی ہمارا جذباتی مسئلہ نہیں رہا۔ برا ہو سیاست کا کہ جب پہلی بار پاکستان بنگلہ دیش سے ہارا تو کہا گیا کہ ایسا پاکستان نے دانستہ بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس دلانے کے لئے کیا ہے۔ ان دنوں بھی ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت تھی‘ اس نے اگلے روز بنگلہ دیش میں عام چھٹی کر دی اور ایسے الفاظ سنے کہ پوری پاکستانی قوم کا دل منہ کو آگیا۔ اب بھی وہی حسینہ واجد‘ زیادہ کروفرکے ساتھ اور زیادہ ظلم و زیادتی کے ساتھ برسراقتدار ہے۔ اس نے کرکٹ کو بھی سیاست بنا رکھا ہے‘ ڈر تھا کہ اگر وہ جیت گئے‘ تو اس کا وہ ایسا سیاسی جشن منائے گی کہ بھارت بھی اپنی شکست کا زخم بھول جائے گا۔

اس لئے اس فتح کی ایک اور طرح کی خوشی بھی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ہم نے اس طرح میچ جیتا ہو‘ مگر اس کی بات ہی اور ہے۔ ناقابل یقین سی جیت دکھائی دیتی ہے۔

میں نے جس بات سے آغاز کیا تھا‘ اس کی تلخی کم کرنے کے لئے شاید ذہن دوسری طرف نکل گیا ہے۔ یہ اتنا ہولناک واقعہ ہے کہ دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ افسوس اس پر اپنا ضمیر خاموش ہے۔ یہ واقعہ اسی میرٹھ شہر میں پیش آیا جہاں67 کشمیری طلبہ یونیورسٹی ہاسٹل میں باقی طلبہ کے ساتھ میچ دیکھ رہے تھے۔ بھارت ہار گیا‘ پاکستان جیت گیا۔ اس پر وہاں بیٹھے ان طلبہ نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیئے۔ بس پھر کیا تھا‘ فوراً پولیس کو بلا کر انہیں ہاسٹل سے نکال دیا گیا‘ بعد میں وائس چانسلر نے انہیں یونیورسٹی سے بھی یہ کہہ کر خارج کر دیا یہ غدار اب پاکستان جا کر تعلیم حاصل کریں۔

ایک زمانہ تھا بھارت کا عام مسلمان بھی ایسے جذبات رکھتا تھا۔ اب اسے ایسا دبا دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ بولتا بھی نہیں۔ صرف یہی نہیں ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک نوجوان نے اس میچ کا نتیجہ سننے پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تو اسے بھارتی فوجیوں نے ذبح کر ڈالا۔ میں تو حیران ہوں کہ میرٹھ سے دوسری تحریک آزادی کیوں شروع نہیں ہوگئی۔ یہی تو وہ شے ہے جہاں وہ چنگاری چٹخی تھی جو سرّبقا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ کام کسی ایرے غیرے یا غنڈے‘ شودے نے نہیں کیا۔ پڑھے لکھے طبقے سے سر زد ہوا ۔ دوسرا سانحہ بھارت کی مسلح افواج کے جوانوں کا ردعمل ہے۔

دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارا دانشور اس کا تذکرہ یوں کرتا ہے جیسے کوئی معمولی بات ہو۔ کہتا ہے آزادی پورے برصغیر کے لئے صدمات لے کر آئی۔ گویا یہ سب آزادی کا شاخسانہ ہے‘ تقسیم ہند کا کیا دھرا ہے۔ اس سوچ پر ماتم نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے۔ یہ ایسی ہی عقل کی چاند ماری ہے جیسے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر یہ لوگ تان اس پر توڑتے ہیں کہ سب قرار داد مقاصد کا نتیجہ ہے۔ نہ وہ قرارداد پاس ہوتی‘ نہ یہاں اسلام کا چرچا ہوتا۔ نہ مولوی کو اتنی طاقت ملتی اور نہ طالبان پیدا ہوتے۔ ہے نا یہی طریق استدلال۔ ذرا ایک لمحے کے لئے غور کرکے بتائیے کہ اس پس منظر میں یہ بات کرنا کھلی غداری نہیں ہے۔ بھارتی ذہنیت سے کام لیا جائے تو ان لوگوں کو یہ مشورہ نہیں دینا چاہئے کہ جائو بھارت چلے جائو۔ وہاں تمہارے نظریات کو بھی پذیرائی ملے گی اور تمہارے اسلوب حیات کے لئے تمام دروازے کھلے ہوں گے۔ یہ انتہائی شقی القلبی کی بات ہے کہ آدمی اس موقع پر حب الوطنی سے تہی ہو تو کم از کم حق و انصاف کی تو بات کر دے۔ کون اعتبار کرے گا آپ کی باقی باتوں کا۔ سیاست پر آپ کے تجزیئے بھی تو پھر اسی نظر سے دیکھنا ہوں گے۔

سیاسی تجزیوں کی بات آگئی تو ویسے ہی ہوتے ہیںجیسا وہ کرکٹ پر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں رچرڈ‘ لارا‘ اظہر الدین سب ٹھیک‘ مگر کرکٹ میں کوئی کھلاڑی شاہد آفریدی سے بہتر نظر نہیں آتا۔ یہ وہ موقع نہیں کہ میں اس پر تبصرہ کروں‘ اس وقت تو آفریدی ہمارا ہیرو ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دوسرا آفریدی کوئی ہے نہیں‘ مگر جوش میں ہوش کا دامن تو ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

میں نے پھر کوشش کی ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے کی تلخی کم کرکے بیان کروں‘ یہ میں نے کچھ اچھا بھی نہیں کیا۔ کم از کم سمجھ دار لوگ تو اس کا احساس کریں اور صحیح صحیح بتائیں کہ ہندوستان میں تعصب کی آگ کس قدر شدید ہے۔ ہم جو بار بار انڈیا کی وسیع القلبی کے گن گاتے اور خود پر تبریٰ بھیجتے رہتے ہیں‘ ہمیں اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ نفرت بھارت کے خمیر میں ایسی گندھی ہوئی ہے کہ اسے آسانی سے نکالا نہیں جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کشمیریوں کے دلوں میں دہکنے والی آزادی کی یہ آتش چنار سرد نہیں کی جا سکتی ۔

آخر عالمی ضمیر کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ کشمیر بھارتیوں کا ہے نہ ہو سکتا ہے۔

اور ہمارے لال بجھکڑ بھی کیوں نہیں سمجھتے کہ ایسا نہیں کہ ہم ہی برے ہیں اور دوسرے پوتر ہیں۔

چلتے چلتے‘ ایک بات اور۔ وہ یہ کہ آج کل ہمارے اکثر دوستوں کے سر پر بنگلہ دیش کی محبت کا بھوت سوار ہے۔ یقینا وہ ہمارے بھائی ہیں‘ ہمیں آج بھی دل و جان سے عزیز ہیں‘ مگر بنگلہ دیش کا مقدمہ ایسے نہ لڑو کہ یہ حسینہ واجد کا مقدمہ بن جائے۔ کئی بار قوموں پر غلط قیادت مسلط ہوجاتی ہے اور یہ تاریخ کا جبر ہوتا ہے۔ یہ تو تاریخ ہی کا جبر نہیں‘ سامراج کا جبر بھی ہے۔ کچھ سمجھو نا۔


بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '