Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی عوام تیار رہیں

افغانوں کے بارے میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ وہ یا تو جنگ کرتے ہیں یا جنگ 
لڑنے کی تیاری کرتے ہیں۔ ہم نے افغانوں کو دونوں حالتوں میں دیکھا ہے، انھیں جنگ کی تیاری کرتے ہوئے بھی اور لڑتے ہوئے بھی۔ ہماری پاکستانی زندگی میں افغانوں کو وقت کی دو سپرپاور سے باری باری جنگ لڑنی پڑی۔ پہلے آنجہانی سوویت یونین سے بعد میں امریکا سے اور اس سے قبل وہ اپنے وقت کی سپر پاور برطانیہ عظمیٰ سے بھی جنگ لڑچکے تھے۔ ان تینوں جنگوں میں افغان فتحیاب ٹھہرے۔ برطانیہ اور روس دونوں تو توبہ توبہ کرتے ہوئے افغانوں سے جان چھڑا کر بھاگ گئے اور اب امریکا بھاگنے کی تیاری کررہا ہے۔ ان دنوں بدقسمتی سے ہمارا افغانوں سے واسطہ پڑا ہوا ہے لیکن ہم نہ برطانیہ اور روس کی طرح اجنبی ہیں اور نہ امریکا کی طرح طاقت میں مست، ہم طالبان کہلانے والے ان افغانوں کے ہموطن اور ہم مذہب ہیں۔ بلوچوں، سندھیوں اور پختونخوا کے شہریوں کی طرح ہمارے روزمرہ کے کلچر اور رہن سہن میں کچھ فرق ضرور ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی کسی بھی صوبے میں سکونت اختیار کرسکتا ہے۔ ولی خان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پٹھانوں کی جتنی جائیداد اور وہ بھی جتنی قیمتی جائیداد لاہور میں ہے اتنی پشاور میں نہیں ہے اور آج کہہ سکتے ہیں کہ جتنے شمال کے پختون جنوبی کراچی میں آباد ہیں اتنے کسی دوسرے شہر میں نہیں۔ شمال سے جنوب تک پاکستانی سب ایک ہیں ان میں کسی نام سے کوئی غیر نہیں ہے سب اپنے ہیں۔ یہ طالبان غیر ملکی فوجی یلغاروں کے نتیجے میں ان سے مقابلہ کرنے کے لیے افغانستان میں متعارف ہوئے اور وہاں غیر ملکی غلبے کے جواب میں ایک قائد کے تحت اپنی تنظیم قائم کرلی جو افغانستان تک محدود تھی اور قائد کو اسلامی تاریخ کے مطابق امیر المومنین کہا جانے لگا۔

یہ ہمارے غلط ملط حکمرانوں کے اعمال کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کے کچھ شہری طالبان کہلا کر گویا باغی بنے ہوئے ہیں اور ہماری حکومت کی دانش اور معاملہ فہمی کی داد دیجیے کہ ہم نے سرکاری سطح پر انھیں جیسے پاکستان سے علیحدہ کوئی طاقت بنا دیا ہے جو پاکستان کے خلاف محدود سطح پر برسرپیکار ہے اور ہم یہ ’جنگ‘ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں جیسے دو فوجیں جنگ کے کسی مرحلے پر کیا کرتی ہیں۔ ان مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا جس بدصورتی اور پھوہڑپن سے یہ نازک مسئلہ حل کیا جا رہا ہے خدا ہی خیر کرے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ جھجھک دور ہوگئی ہے جو پاکستان جیسے کسی نوساختہ ملک کو بچاکر رکھتی ہے اور خطرے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اب تو جو بھی اٹھتا ہے وہ بلا تکلف اور بلا جھجھک ملک کو توڑنے کی دھمکی دے دیتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی زبان گدی سے کھینچ لے اور کیسے کوئی ایسی جرأت کرے کہ جب ہمارے اپنے فوجی اور غیر فوجی قائدین نے علی الاعلان ہمارا ملک توڑ کر باقی ماندہ پر فخر کے ساتھ حکومت کی ہو اور قوم نے اسے اپنا ہیرو سمجھا ہو۔ معلوم نہیں کس بری گھڑی میں لکھنے لکھانے اور صحافت کو اختیار کیا تھا کہ اب ہر اچھائی برائی کو بیان کرنا پڑتا ہے اور چونکہ ضمیر تھوڑا بہت زندہ ہے یا مجھے شبہ ہے کہ اس میں ابھی کچھ زندگی کی رمق باقی ہے جو اس ملک کا درد محسوس کرتی ہے اس لیے لکھنا اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

اگرچہ میں پیدائشی طور پر ابھی تک قلم کی جگہ اپنے سامنے ہل چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہر وقت کھیتوں کے لیے آسمان کی طرف پانی کے لیے دیکھتا رہتا ہوں لیکن صحافت کی دنیا میں عمر گزار دینے سے زندگی بدل سی گئی ہے پھر بھی کسی بھی اچھی بری حالت میں انگریزوں کے زمانے سے چلی آنے والی زمین پر جاکر وقت گزار سکتا ہوں اور آزاد شہری آسائشوں کے بغیر زندگی کرنے کا حوصلہ بھی ہے لیکن جو مزا آزادی کا ہے ایک آزاد ملک کے شہری ہونے کا ہے وہ کہاں، پرانے لاہور کے ایک خوش باش باسی کے الفاظ میں ’’جو مزا چھجو دے چوبارے او نہ بلخ نہ بخارے‘‘ مجھے کبھی کبھار ایک فلسطینی کی بات یاد آتی ہے میں اس کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ کیا میں پاکستان کا شہری بن سکتا ہوں، میں نے جب اس ضمن میں معذرت کی تو اس نے کہا تم ہم سے پوچھو جن کا کوئی وطن ہی نہیں اور کسی نہ کسی آزاد عرب ملک کے پرمٹ پر زندگی گزر رہی ہے۔ یہ سن کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ اپنا وطن کیا ہوتا ہے۔

اس فلسطینی کا تب کوئی وطن نہیں تھا وہ ہر عرب ملک میں ایک مہاجر تھا جس کو مہمان ملک والے پسند نہیں کرتے تھے پھر بھارت کے ساتھ ایک جنگ کے موقع پر (جی ہاں ہم کبھی بھارت کو دشمن سمجھ کر اس سے جنگ بھی کرلیا کرتے تھے) ایک بار سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر پریس کانفرنس کررہے تھے تو کسی نے پوچھا کہ لاہور پر بھارت کا قبضہ ہوگیا تو کیا ہوگا کیونکہ ان دنوں بھارت کے کمانڈر انچیف نے کہا تھا کہ میں جلد ہی لاہور جمخانہ میں شراب کا نصف پیگ پیوں گا۔ اس پر الطاف گوہر نے فوراً جواب دیا کہ پھر میں تو نہیں ہوں گا آپ میں سے اگر کوئی ہوا تو وہ دیکھ لے گا۔ ہمارے ان سینئر شہریوں کے لیے پاکستان کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ آج ہم پاکستانی اپنے ملک کی سلامتی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ جنہوں نے عالم کفر کو شکست دے کر ہندوستان کے کُفرستان میں یہ ملک بنایا تھا۔

پاکستان کے عوام سے پوچھیں کہ ملک کا کیا بنے گا تو وہ شاید ناراض ہوجائیں کہ ایسی گستاخانہ باتیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ مشرقی پاکستان کے عوام بھی یہ ثابت ہے کہ متحدہ پاکستان کے ساتھ تھے لیکن عوام کی طاقت ان کی قیادت میں ہوتی ہے جو ان کو کسی مقصد کے لیے متحد کرتی ہے۔ وہ خود کچھ نہیں کرسکتے چنانچہ مشرقی پاکستان کے عوام دیکھتے ہی رہ گئے۔ اب مغربی پاکستان کو بھی ایک قائد چاہیے جو اپنے ملک کی حفاظت میں جان لگا دے وہ تنہا نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ اٹھارہ بیس کروڑ جانیں اور بھی ہوں گی۔ عرض ہے کہ پاکستانی ہوشیار ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ مدد کرے گا۔

 عبدالقادر حسن  

No comments:

Powered by Blogger.