Header Ads

Breaking News
recent

پاک سعودی تعلقات مزید وسیع کرنے کی ضرورت

سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ سعودی عرب نے قدرتی آفات سمیت ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اتوار کو سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر مملکت ممنون حسین سمیت دیگر وزراء سے ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد نے ان نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کو خوشحال‘ توانا اور معاشی میدان میں متحرک دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ پاک سعودی تعلقات تاریخی اور منفرد ہیں‘ دونوں ایک دوسرے کے قریب ترین دوست اور حلیف ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کوئی نئی بات نہیں‘ پاکستان میں سعودی فوجی اہلکار ایک عرصے سے تربیت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سعودی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں بھی پاکستان نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے جسے وہاں کی حکومت قدر اور تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال امیر ملک سعودی عرب کا عالمی سطح پر اہم مقام ہے دوسری جانب پاکستان دفاعی میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے مگر مالی مسائل مزید پیشرفت میں آڑے آ رہے ہیں۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے دونوں ممالک دفاعی شعبے میں مزید تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کے موقع پر یہ بالکل درست تجویز پیش کی کہ دونوں ملک دفاعی پیداوار کے مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں‘ اس سے نہ صرف دونوں ملک دفاعی آلات میں خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ یہ سامان عالمی مارکیٹ میں بھی پیش کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ دفاعی منصوبے شروع کرتے ہیں تو اس کا فائدہ دونوں ممالک کو پہنچے گا۔ مالی وسائل ملنے سے پاکستان دفاعی میدان میں جہاں بڑی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں اپنا اسلحہ فروخت کر کے کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے وہاں سعودی عرب کو بھی امریکا اور یورپ کے مقابلے میں سستا اسلحہ ملے گا اور وہ دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط ہوگا۔ پاک سعودی تعلقات کا دائرہ کار دیگر شعبوں تک بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

پاکستان کو اس وقت توانائی بحران کا سامنا ہے اور توانائی کے منصوبے شروع کرنے میں مالی مشکلات سدراہ ہیں‘ یہ اربوں ڈالر کے منصوبے ہیں۔ اگر سعودی عرب ان منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ بلاسود آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے تو پاکستان توانائی کے بحرانی گرداب سے بآسانی نجات پا سکتا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات میں بھی سعودی عرب پاکستان کی مدد کر کے اس کے مالی مسائل حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ توانائی کے متعدد منصوبوں میں تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ سستا تیل ملنے سے پاکستان اپنے توانائی کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں باہمی تجارتی تعلقات زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ چیمبرز آف کامرس قائم کرکے اہم پیشرفت کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اپنے ہاں سستی زمینیں فراہم کرے تو وہاں پاکستانی تجارتی مارکیٹیں اور پلازے قائم کر کے پاکستانی مال بڑے پیمانے پر فروخت کیا جا سکتا ہے‘ اس طرح پاکستانی تاجروں کو سعودی عرب کی صورت میں بڑی تجارتی منڈی مل جائے گی۔

پاکستان سعودی حکومت سے زیادہ سے زیادہ تجارتی سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے اس کے علاوہ جو پاکستانی ورکرز سعودیہ میں کام کر رہے ہیں ان کی ملازمت کے تحفظ کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کی جائیں تاکہ وہ زیادہ بہتر اور آزادانہ ماحول میں کام کر سکیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پاکستانی انجینئرز‘ ٹیکنیشن اور ڈاکٹرزکی خدمات سے فائدہ اٹھا کر جہاں ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے وہاں پاکستان کے مالی مسائل حل کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ زراعت‘ طب‘ سائنس اور دیگر شعبوں میں مشترکہ تحقیقاتی ادارے قائم کیے جائیں‘ اس سے دونوں ممالک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا دائرہ مزید شعبوں تک پھیلایا جائے۔

Pakistan and Saudi Arabia Relations

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.