Header Ads

Breaking News
recent

یو ای اے:ڈرونز کے ذریعے سرکاری دستاویزات کی ترسیل

دنیا کے دوسرے ممالک تو بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں یا اڑن کھٹولوں (ڈرونز) کو اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے یا جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات نے ان کا نیا مفید استعمال ڈھونڈا ہے اور اس نے ڈرونز کو سرکاری دستاویزات کو شہریوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے کابینہ امور کے وزیر محمد الجرجاوی نے سوموار کو اس منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای ڈرونز کو سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال کرے گا اور دنیا میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا۔

یواے ای کے تیار کردہ ڈرونز بیٹری سے چلیں گے۔یہ تتلی (بٹرفلائی) کے مشابہ قریباً نصف میٹر لمبے ہیں۔ان کے اوپر کے حصہ میں چھوٹے پارسلز رکھنے کے لیے جگہ ہوگی۔ان کا رنگ سفید ہے اور ان پر یواے ای کا پرچم بنا ہوا ہے۔

چارروٹروں سے چلنے والے ان ڈرونز کو ابتدائی طور پر دبئی میں چھے ماہ کے آزمائشی عرصہ کے دوران قومی شناختی کارڈز ،ڈرائیونگ لائسنس اور دوسرے پرمٹس کو شہریوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

وزیرمحمد جرجاوی کا کہنا ہے کہ آزمائشی عرصے کے دوران ان کی پائیداری اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور آیندہ ایک سال کے دوران ڈرون سروس کو پورے یواے ای میں بروئے کار لایا جائے گا۔

ان کے ڈیزائنرمقامی انجنیئر عبدالرحمان السرکل کے مطابق ڈرونز اور ان میں موجود سامان کے تحفظ کے لیے انگلیوں کے نشانات اور آنکھ کی شناخت والے سکیورٹی نظام کو استعمال کیا جائے گا۔

اس ڈرون سروس کو موسم سمیت بعض رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ یواے ای میں موسم گرما میں درجہ حرارت بالعموم 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے اور ریت کے طوفان بھی آتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ امازون ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکٹو جیف بزوس نے گذشتہ سال اپنے لاکھوں صارفین کو ڈرونز کے ذریعے اشیاء بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تحفظ اور ٹیکنیکل ایشوز کے پیش نظر یہ منصوبہ آیندہ دس سال کے دوران حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے گا۔

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.