Header Ads

Breaking News
recent

ارد شیرکاوس جی: جن کی تحریریں جرأت، بصیرت اور روشن خیالی کا نمونہ تھیں


ایسے دور میں جب ہماری صحافت سے راستی کا رواج ختم ہورہا ہے،ایسی تحریروں کا سامنے آنا خوش آیندہے جنھیں حق گوئی وبیباکی کا بہترین نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

لکھنے والا وہ جس کی زبانِ قلم ہزارخوف کے باوجود دل کی رفیق رہی ۔وہ حقیقی معنوں میں کسی سے ڈرتے ورتے نہیں تھے۔بات ڈنکے کی چوٹ کہنے کا ہنرجاننے کے خواہش مندوں کو اردشیر کاوس جی کے سوا دو سوکالموں پر مشتمل مجموعے “Vintage Cowasjee”کولگ کرپڑھنا چاہیے ،جس کو ان کی دوست امینہ جیلانی نے مرتب کیا ہے۔ ارد شیر کاوس جی کی تحریروں میں تمام ترہمدردی مظلوم سے مخصوص اور لڑائی ظالم کے ساتھ نظرآتی ہے ۔ان کی نگارشات اس سادہ سی حقیقت کی ترجمان ہیں کہ دنیا میں طبقات دو ہی ہیں:ظالم اور مظلوم۔باقی باتیں اضافی ہیں مگربالادست زیردستوں کو اور ہی باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ ان کا دھندہ چلتا رہے۔ممتازشاعرظفراقبال کا شعرہے:

مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا

مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے

کاوس جی کی تحریریں عوام کو اصل دشمنوں کے بارے میں بتاتی ہیں ۔وہ ہمارے ہاں کے ان چنیدہ دلاورقلم کاروں میں سے تھے، جو بدی کی قوتوں کے سامنے خم ٹھونک کرسامنے آتے اورستم زدگاں کے کندھے سے کندھا ملاکرکھڑے ہوتے ۔ ضمیر کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھتے۔منتخب سچ بولنے سے مجتنب رہتے۔حقائق بلاکم وکاست بیان کرتے۔ وہ قائد اعظم کے تصورات سے بہت متاثر تھے اور انھی کی روشنی میں پاکستان کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے تھے۔قرارداد مقاصد کو وہ قائد اعظم کی راہ سے انحراف جانتے اور قائداعظم کی 11اگست1947 کو قانون سازاسمبلی میں تقریرکے مندرجات پرعمل پیرا ہونے میں قوم کی نجات خیال کرتے، جس میںبانیٔ پاکستان نے ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان ومال کا تحفظ قراردیا اور یہ بھی کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں طور پراپنے اپنے عقائد کے مطابق، زندگی بسرکرنے کی اجازت ہوگی۔افسوس!ہمارے ہاں، اس کے بالکل الٹ ہوا اور اب صورتحال میں سدھار کے بجائے اور ابتری آگئی ہے ، اقلیتوں کوتوچھوڑ ہی دیں، مسلمانوں کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں۔

کاوس جی کا یقین تھا کہ سچ بولے بغیر قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔اپنے ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ اہل پاکستان نے خود کو یقین دلا رکھا ہے کہ سچائی ایک نایاب اور قیمتی شے ہے، جسے انتہائی تنگ دلی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جرأت مندی کاوس جی کی تحریر کا بنیادی وصف ضرور ہے لیکن ساتھ میں دوسری امتیازی خوبیوں نے بیان اوربھی زورآور بنادیاہے۔وہ جس موضوع پرقلم اٹھاتے،اس کا گہرا ادراک انھیں ہوتا۔معلومات کا انبار بڑے سلیقے اور منظم طور سے صفحے پربکھیرتے چلے جاتے۔بیچ بیچ میںکاٹ دار جملے پڑھنے کو ملتے۔صاف شفاف ذہن سے تجزیہ کرتے۔ ان کی تحریروں کے موضوعات میں جس قدرتنوع رہا، اس عہد کے شاید ہی کسی دوسرے لکھنے والے کے ہاں ملے۔ جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی کرپشن پران کا قلم خوب چلتا۔ ان کی تحریروں کی مدد سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قوم نے اپنی صورت کو کس قدربگاڑ لیا ہے، اور اسی بنا پر کاوس جی کے خیال میں ہم مہذب کہلانے کے حق دارنہیں۔

کاوس جی کوحادثاتی کالم نویس قراردیا جاسکتا ہے۔1984ء میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کی تزئین وآرائش کے حوالے سے کالم لکھا تو پھران کا قلم رواں ہوگیا۔اس کے بعد تواترسے’’ ڈان‘‘ میں ایڈیٹر کے نام خطوط شائع ہونے لگے،جنھیں قارئین نے سراہا۔ ۔1988ء میں انھوں نے کچھ دوستوں کی تحریک پر ’’ڈان ‘‘کے ایڈیٹر احمد علی خان کو کالم بجھوائے جو انھیں پسند آئے اور پھر ان کے ہفتہ وارکالم کا سلسلہ شروع ہوگیاجو تقریباً بائیس برس جاری رہا۔ ان کے بقول: ’’ہرہفتے لکھنا ایک طویل اور تھکا دینے والا کام ہے مگراس کا فائدہ بھی ہے۔لکھے گئے کالموں میں کئی واقعات ریکارڈ ہوجاتے ہیں اور ان جھروکوں سے ماضی میں جھانکنا اچھا لگتاہے۔‘‘ معروف صحافی خالدحسن کے مرنے پرکالم میں انھوں نے ان کی ویب سائٹ کے سرنامہ پر درج، چراغ حسن حسرت کا یہ بیان دہرایاکہ ’’کسی کو بھی صحافیوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے ، خاص طور سے خود صحافیوں کو کہ ان کا لکھا صبح جس اخبار میں چھپتا ہے وہ شام میں مچھلی لپیٹنے کے کام آتا ہے۔‘‘ اس سے ملتی جلتی مثال انھوں نے اپنے آخری کالم میں بھی دی ’’ برنارڈ لیون ، جنھوں نے1970سے لے کر1997ء تک لندن ٹائمز کے لیے بہت عمدہ کالم لکھے، ایک مرتبہ کالم نگاروں کوبیکری والے قرار دیا تھا۔ بیکر ہرصبح تازہ بریڈ بناتے ہیں اور یہ استعمال ہوجاتی ہے، اور اس کے بعدپھرایک اور صبح اور نئی بریڈ۔چنانچہ کالم بھی وہ تازہ بریڈ ہوتے ہیں، جو ہضم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد اخبارات کو پڑھ کرپھینک دیا جاتا ہے۔‘‘

اردو شیر کاوس جی کے کالموں سے جو معلومات ہم تک پہنچتی ہیں، ان میں سے چند ایک کا ہم ذکر کئے دیتے ہیں۔ان تحریروںمیںغلام مصطفی کھرکے فرزند ارجمند بلال کھر کا ذکربھی ہے،جس نے بیوی پرتیزاب پھینک کرمردانگی کا ثبوت دیا۔ مختاراں مائی کی داستان غم کا بیان بھی ہے،اورجنرل (ر)پرویز مشرف کا وہ فرمان عالی شان بھی، کہ ہمارے ہاں! ویزے اور دولت کمانے کے لیے بھی ریپ کروالیا جاتا ہے۔غیرت کے نام پرجان سے گزرنے والی مظلوم بیبیوں سے انھیں ہمدردی ہے۔ گمشدہ افراد کے مسئلے پروہ آوازبلند کرتے ہیں۔حاکم وقت کے شہر میں ورود سے خلق خداکو جس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے، اس اہم مسئلے پربھی قلم کو جنبش دیتے ہیں۔کراچی میں گٹرباغیچہ بچاؤتحریک کے روح رواںنثاربلوچ کا نوحہ بھی لکھتے ہیں،جو قبضہ مافیا کے گلے کی پھانس بن چکے تھے۔ماحول میں زہرگھولنے والوں کے بارے میں قلم حرکت میں آتاہے ۔ٹمبرمافیاکو بے نقاب کرتے ہیں۔درختوں کا کٹنا انھیں آزردہ کرتا ہے۔ بچھڑنے والے احباب کودرمندی سے یاد کرتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ سے متعلق ایسی معلومات بھی سامنے لاتے ہیں،جوعام نظروں سے اوجھل ہیں ، جیسا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والی دستاویزات سے ایوب خان کی امریکیوں کو یہ یقین دہانی کہ اگروہ چاہیں تو پاکستانی فوج ان کی فوج بن کرکام کرسکتی ہے۔وہ ان دو جرنیلوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، جونوازشریف کے پاس پاس ڈرگ ٹریڈ سے متعلق ایک منصوبے کی منظوری لینے آئے اور بے نیل مرام واپس لوٹے۔ وہ اس نام نہاد بااصول مرحوم صدر کے داماد کا کچاچٹھا بھی کھولتے ہیں۔

جس نے پیپلزپارٹی کو سبق سکھانے کے لیے جام صادق علی کی جلاوطنی ختم کراکر وزیراعلیٰ بنوایااور بقول کاوس جی اس بات کا ملحوظ نہ رکھا کہ اس سے سندھ کے عوام کس قدر خسارے میں رہیں گے 1988ء میں پیپلزپارٹی کاراستہ روکنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد بنوانے میں بھی جناب غلام اسحاق خان کی کوششوں کو دخل تھا۔ اس اتحاد کی تشکیل میں کردار کے بارے میں جنرل (ر) حمید گل کے اعتراف اور ایم کیو ایم حقیقی کو وجود میں لانے کا جنرل (ر) جاوید ناصر نے جو کریڈٹ لیااس کا حوالہ بھی کاوس جی دیتے ہیں۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صحافیوں سے ناراض ہوکرلندن سے جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں، ان کو تو اب الیکٹرانک میڈیا کے طفیل ہم سب سن لیتے ہیں۔وہ جس زمانے میں پاکستان میں تھے،تب بھی اہل قلم پرگرجا برسا کرتے، ایسی ایک مثال کاوس جی نے اپنے کالم میں دی ہے،جس کے مطابق1990ء کی الیکشن مہم کے دوران جرات مند صحافی رضیہ بھٹی کی ادارت میں نکلنے والے’’ نیوزلائن‘‘ کے ایک مضمون پر الطاف حسین نے ایک جلسے میں دھمکی آمیزلہجے میں اس جریدے کی ٹیم کے بارے میں خاصی سخت گفتگو کی تھی ۔آئین ساز ذوالفقارعلی بھٹو نے کس انداز میں مختصرسے عرصے میں من مرضی کی ترامیم سے آئین کاحلیہ بگاڑااس بابت بھی بتاتے ہیں، اور اسی دور میں سانگھڑ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی گرفتاری کے شرمناک واقعہ کا ذکربھی کرتے ہیں۔1997ء میں سپریم کورٹ پرحملہ پاکستانی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پریاد رکھا جائے گا۔اس حملے کے ذمہ دار کاوس جی کی کڑی تنقید کی زد میں آئے۔

مسلم لیگ(ن)کی حملہ آوراس حکومت سے قبل پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، اوراس نے بھی عدلیہ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہ کیا ۔اس ضمن میں کاوس جی خاص طورپرچیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ناصراسلم زاہد کا حوالہ دیتے ہیں، جنھیں حکومت نے ناراض ہوکرفیڈرل شریعت کورٹ بھیج دیا۔بیوی کا تبادلہ کردیا۔داماد کو بھی تنگ کیا۔کاوس جی کی تحریروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کے طرزحکمرانی کو ناپسند کرتے۔ان کے کسی فیصلے کی اگربھولے سے اس قلم کارنے تعریف کی ہے توجمعہ کے بجائے اتوار کی ہفتہ وارچھٹی کا فیصلہ ہے، جو مسلم لیگ ن کے دوسرے دورحکومت میں ہوا۔ اردشیرکاوس جی کی دانست میں اس کام کو کرنے کی خواہش 1977ء کے بعد آنے والے دوسرے حکمرانوں کے ہاں بھی رہی تو،مگر وہ جرات نہ کرسکے۔ پرویزمشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ دوبار خراب حکومت کرنے کے باوجود وہ یہ گارنٹی دینے کو تیارنہیں کہ نوازشریف اب کبھی وزیراعظم نہیں بنیں گے ۔اور پھرہم سب نے دیکھا کہ نوازشریف تقریباً چودہ برس بعد تیسری بار وزیراعظم بن گئے اورکاوس جی کی بات رہ گئی، وگرنہ ہم نے توایسی ہستیوں کے بارے میں بھی سنا ہے، جنھوں نے مریدین کو یقین دلارکھا تھا کہ نوازشریف وزیراعظم توکجا رکن قومی اسمبلی بھی نہیں بن پائیں گے۔ اس لیے ہمارے خیال میںسیاسی معاملات کو روحانی آنکھ کے بجائے ظاہر کی آنکھ سے دیکھ کر رائے قائم کرنی چاہیے ۔

ذوالفقارعلی بھٹوکے اقتدارمیں آنے سے قبل کے زمانے سے کاوس جی ان کے شناسا تھے،وہ حکمران بنے تو نہ جانے کس بات پران سے بگڑے اور جیل بھجوادیا ۔وہ72دن قید رہے۔آخر وہ اس سزا کے کیوں سزاوارٹھہرے؟اس کی وجہ ہم آپ کو کیا بتلائیں کہ اس بارے میں مرتے دم تک خود کاوس جی کو معلوم نہ ہوسکا۔قید سے وہ بھٹو کے نام تحریری معافی نامہ لکھ کرآزاد ہوئے۔اس قسم کی تحریرچئیرمین بھٹو کے نام ان کے والد نے بھی لکھی۔ اکبربگٹی نے کاوس جی کو بتایا کہ بھٹو نے ایک باران کا لکھا معافی نامہ دکھایا تھا۔اپنے دوست کا یہ عمل انھیں خوش نہ آیا کہ خود بگٹی کی ڈکشنری میں معافی کا لفظ نہ تھا۔ ان کے خیال میںچاپلوسی وہ برائی ہے جو قوموں کو برباد کردیتی ہے،یہ بات انھوں نے اپنے اس کالم میں لکھی جس میں انھوں نے ایوب دور میں پیرعلی محمد راشدی کی خوشامد درآمد کے رویے پربات کی اور بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایوب خان کو کنگ بن کرموروثی بادشاہت قائم کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ حکومتی عہدہ قبول کرلینے کے بعد بڑے بڑے اصول پسند بھی حکمران کی منشاکو ہی عزیزجاننے لگتے ہیں۔

جیسا کہ کاوس جی نے ممتازقانون دان خالد انورکی مثال دی ہے کہ بطور وزیرقانون انھوں نے احتساب قوانین کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ حکمران خاندان ان کے شکنجے میں نہ آسکے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے سلسلے میں ان کی خدمات پر بعد از مرگ ایوارڈ دیاتوآصف علی زرداری نے قوم کو مبارکباد دی تو کاوس جی نے محترم صدرکو یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کی کابینہ میںبلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ صاحب بھی موجود ہیں، جنھوں نے غیرت کے نام پردوخواتین کو زندہ درگورکرنے کواپنی قبائلی روایات کے مطابق قرار دیااور وہ حضرت بھی وزیر ہیں جو لڑکی کو ونی کرنے والے جرگے کے رکن تھے۔سیاستدانوں کے لتے لینے والے کاوس جی نے اپنے ایک کالم میں ولیم رینڈولف ہیرسٹ کا یہ قول نقل کیا ’’سیاست دان اپنی نوکری بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ محب الوطن بھی بن سکتا ہے۔‘‘ سیاست دانوں میں وہ اصغرخان کو سب سے بڑھ کر پسند کرتے۔ 1996ء میں تحریک انصاف کا قیام عمل میں آیا توکاوس جی نے عمران خان کے نام کھلے خط میں انھیں تجویز کیا کہ سیاسی امور پرانھیں اصغرخان سے مشورت کرنی چاہیے۔ان کے کہنے پریا پھراپنی مرضی سے عمران کی سیاسی سفر میں اصغرخان سے ذہنی قربت رہی اور وہ دوسرے اصغرخان ہونے کا طعنہ اب تک سہہ رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک تقریب میں دیرسے آنے پرعذر کیا توارد شیر نے لکھا کہ اچھا لیڈرعوام کو انتظارنہیں کراتااور اگرایسا ہوجائے تو اسے تاخیرسے آنے کا جوازپیش کرنے کے بجائے معذرت کرلینی چاہیے۔ارد شیر کاوس جی کو ہم سے بچھڑے چودہ ماہ ہوگئے ۔ان کے چلے جانے کے بعد بھی ویسے ہی حالات ہیں، جن کا رونا وہ روتے رہے۔ بقول، احمد مشتاق

تبدیلیٔ حالات کے چرچے تو بہت ہیں

لیکن وہی حالات کی صورت ہے ابھی تک

ایک اہم تبدیلی جو ان کے جانے کے بعد رونما ہوئی، جس سے ان کی روح کو تکلیف ہوئی ہوگی وہ یہ ہے کہ قائد اعظم کی 11اگست1947ء کی جس تقریر کا حوالہ بارباران کی تحریروں میں آتا، اب بعض نابغے دھڑلے سے اس کے وجود سے ہی انکار کررہے ہیں۔

٭٭٭

’’ تمام مذہبی کٹرپن اندھا،احمقانہ اوروحشیانہ ہوتا ہے۔فرقہ وارانہ کٹرمذہبی پن اتنا ہی برا ہے جتناکہ مذہبوں کے درمیان غالی تعصب۔ کٹرمذہبی پن عقل کا گلہ گھونٹ دیتاہے اور کٹرمذہبی آدمی اپنے جوش جنوں میں سب کومجبور کرنے پرتلا ہوتا ہے کہ جس پراسے ایمان ہے،دوسرے بھی اس پرایمان لے آئیں۔ ‘‘

(11جون 2000ء)

٭٭٭

٭ ’’میری خواہش ہے کہ آنے والے سال مزید خوشیاں لائیں اور اس سرزمین کو امن نصیب ہو اور وہ لوگ جو اس ملک پرحکمرانی کرنا چاہتے ہیں، انھیں بھی تھوڑی سی عقل نصیب ہو۔‘‘

٭ ’’جہاں تک جناح صاحب کا تعلق ہے انھوں نے اپنی گیارہ اگست والی یادگارتقریر میں، جس کا چند ایک وہ لوگ حوالہ دیتے ہیں جوان کے نقش قدم پرچلنا چاہتے ہیں، اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ یہ ملک کن خطوط پرگامزن ہوگا۔کچھ لوگ اپنی حکومت کے محدود نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔جہاں تک انتہا پسندوں کا تعلق ہے، بدقسمتی سے ان کی تعداد اس ملک میں کم نہیں ہے، ان کواول تواس تقریرسے کوئی سروکارنہیں ہے،یا پھروہ اس سے اپنی مرضی کے مطالب نکالتے ہیں۔مسٹرجناح کا نظریہ اس قوم نے فراموش کردیاہے۔یہاں لفظ سیکولربغاوت کے مترادف ہے، یہاں تک کہ برداشت اور رواداری کے ذکرکو بھی مشکل ہی سے برداشت کیاجاتا ہے، جبکہ انتہا پسندی کا سایہ معاشرے میں مزید گہراہوتا جارہا ہے۔‘‘

٭ ’’اس ملک کے تمام حکمرانوں، وردی والوں اور وردی کے بغیر ، ہر دونے جناح کے پاکستان کی تلاش کاعزم کیا مگراپناڈولتا ہوا اقتداربچانے کے لیے کیا وہی جواس کے برعکس تھا۔ ‘‘

(25دسمبر 2011ء کو تحریر کردہ آخری کالم سے اقتباسات)

محمود الحسن   

Ardeshir Cowasjee

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.