کئی بین الاقوامی مطبوعات میں تیزی سے تغیر پذیری کی جانب گامزن اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تذویراتی پیش رفتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں کچھ جائزے عالمی منظرنامے کے ان کلیدی رجحانات سے آگہی کیلئے معاون ہیں جس سے دنیا کی خوشحالی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں شائع ہونے والی 2 رپورٹوں کی نوعیت اور اطلاقی وسعتیں مختلف تھیں تاہم ان میں عالمی تبدیلی کی فطرت اور سمت کے حوالے سے کئی باتیں بصیرت آمیز تھیں۔ ان میں دنیا کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ اہم جغرافیائی و تذویراتی تغیرات سے گزر رہی ہے اور اسے مربوط و پیچیدہ چیلنج درپیش ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی مطبوعہ رپورٹ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کا عالمی امور پر سالانہ جائزہ ہے۔ دوسری مطبوعہ اشاعت 2014ء کے عالمی ایجنڈے پر عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ ہے، یہ رپورٹ دنیا بھر کے مختلف شعبوں کے 1500 ماہرین کی آراء کے سروے پر مشتمل ہے جس میں حکومتی عہدیدار، تدریس کے شعبے سے وابستہ افراد، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوان شامل ہیں، ان افراد کے سامنے 2014ء اور اس کے بعد کے رجحانات اور چیلنجوں کی نشاندہی کا سوال رکھا گیا تھا۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی جانب سے متبادل دنیاؤں کے حوالے سے مرتب کردہ ایک اور رپورٹ دسمبر2013ء میں جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں 2030ء میں بڑے رجحانات اور کایا پلٹ پیشرفتوں اور اس سے متعلق ممکنہ تناظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حالانکہ آئی آئی ایس ایس کا تذویراتی سروے گزشتہ برس کی پیشرفتوں پر تبصرہ ہے، اس کے جائزے کا مرکز نگاہ طویل مدتی تذویراتی رجحانات ہیں۔ اس کی 2013ء کی رپورٹ کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ سیاسی رہنما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد درپیش معاملات کی رفتار اور بہاؤ سے حکمت عملی کے تحت نبردآزما ہو رہے ہیں۔

گزشتہ برس کی طرح 2014ء میں حکمت عملی کے تحت بسر کرنے والا سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکمت عملی پر مبنی ان مختلف ردعمل کا نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا، جس میں تنازعات کیلئے حل کی کمی اور بین الاقوامی سطح پر تناؤ نامناسب انتظام کاری شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق عارضی حل دیگر غیر اطمینان بخش طرزعمل کیلئے وقت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ثابت ہوا۔ اس بارے میں رپورٹ میں شام کے مسئلے پر بین الاقوامی ردعمل اور مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی تحریکوں کی مثالیں بطور حکمت عملی کی گنجائش کے حوالے سے دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں اصرار کیا گیا کہ کئی لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ حکمت عملی ہمہ گیر نہیں اور ناممکن ہوچکی ہے۔ ایسا محض 7/24 کے نیوز میڈیا کے وضع کردہ ماحول کے باعث ہی نہیں ہوا جس نے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے کی ممالک کی استعداد کو کم کردیا ہے بلکہ اس کی وجہ قیادت کی ناکامی اور وسیع ترمقاصد کا تعاقب کیلئے تیار نہ ہونا ہے جس سے پائیدار نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے۔

تذویراتی مقاصد مرتب کرنا اور پھر ان پر سختی سے کاربند رہنا ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسی طرح بڑی طاقتوں اور چھوٹے ممالک کی جانب سے تسلسل کے ساتھ خارجہ پالیسی پر کاربند رہنا بھی ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ میں اس پیشرفت پر اظہار افسوس کے ساتھ بین الاقوامی امور کی موثر تذویراتی طرزفکر کی تبدیلی پر سمجھوتے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کیلئے حکومتوں کا معاشروں اور حکومتوں کا اپنے رہنماؤں سے زیادہ قربت درکار ہے۔ اس رپورٹ میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ تذویراتی نتائج کی حامل پیشرفتوں کیلئے وسیع اور گزشتہ دنوں میں اپنائی جانے والی تذویرات سے زیادہ مربوط تذویرات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر آگے ایسا نہیں ہوا تو دنیا میں تذویراتی انتشار کا تسلسل قائم رہے گا۔

امریکی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اوباما کی جانب سے بین الاقوامی امور سے دوری اختیار کرنے اور ملک کے داخلی امور پر توجہ مرکوز کرنے کا طرزعمل امریکہ کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک میں کم مداخلت کے دور کی نوید سناسکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی خارجہ پالیسی کو مسائل کے حل کیلئے ذرائع کی فراہمی کے طور پر یا نئے سمتیں افشاں کرنے کے بجائے ضابطہ کاروں کا سلسلہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ ممالک میں عسکری مداخلتوں کی ایک دہائی کے بعد جنم لینے والے جنگ سے اکتاہٹ رجحان اور عسکری قوت کی حدود کو تسلیم کئے جانے اور ساتھ ہی داخلی سطح پر معاشی بحالی کے چیلنج سے گھرا ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2008ء کے اقتصادی بحران کے دورس اثرات مرتب ہوئے اور دنیا کئی اطوار سے تبدیل ہو گئی اور مغرب دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں الجھنے سے احتراز کرنے کی راہ پر گامزن ہوا۔ آئی آئی ایس ایس اور ڈبلیو ای ایف کی رپورٹوں میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو دنیا کے سب سے بڑے تذویراتی مسئلے کے طور پر گردانا ہے۔

ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں جواب دہندگان نے 2014ء میں مشرق وسطیٰ میں معاشرتی تناؤ کے سب سے برے رجحان کے طور پر نشاندہی کی ہے۔ تینوں مطبوعات میں ایک ہی موضوع کی بازگشت نظر آئی جو کہ تیزی سے تبدیلی سے ہمکنار ہوتے ہوئے دور میں حکومتوں کی کارکردگی پر نمایاں ہوتی ہوئی عوامی ناراضی اور بڑھتی ہوئی توقعات تھیں۔ ڈبلیو ای ایف کی جانب سے جن 10 اہم رجحانات کا حوالہ دیا گیا اس میں کئی اس جانب نشاندہی کرتے ہیں۔ جن میں ایک رجحان عوام کا دنیا کی معاشی پالیسیوں پر کم ہوتا ہوا اعتماد ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ معاشی تناؤ کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی سے متعلق ایک اور رجحان آمدنی میں عدم مساوات کا بھی ہے جس نے ترکی سے لے کر برازیل تک احتجاج کو ہوا دی۔ ساختیاتی بے روزگاری بھی ریاستوں کے داخلی استحکام پر اثر انداز ہو رہی ہے اور عالمی تحفظ کیلئے ایک چیلنج بن کر سامنے آرہی ہے۔ ڈبلیو ای ایف رپورٹ کے مطابق عوام کی جانب سے ایک رہنما کی جگہ دوسرے کو لانے کا مطالبہ ان کی نہ پوری ہونے والی ضروریات کی غمازی کے سوا کچھ نہیں۔ عالمگیریت کے ثمرات کی غیرمساوی تقسیم سے ترقی پذیر ممالک میں سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا خطرہ بڑھے گا کیونکہ یہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور ملازمتوں کے مواقع کم ہیں لیکن اگر سخت چیلنج درپیش ہیں تو ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ دور میں مواقع کی بھی نشاندہی کی ہے،2014 ء کے 10 چوٹی کے رجحانات میں ایشیاء میں متوسط طبقے کے ابھرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس رپورٹ میں کشور مہبوبانی نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے رجحانات کی اس پیشرفت کو حیرت انگیز اور تاریخ کی بھونچال برپا کردینے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا۔

ان کا کہنا ہےکہ مثبت پیشرفت سے ایشیاء میں معیار زندگی میں بہتری آنے اور غربت میں کمی ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے تاہم وہ بھی اس حوالے سے محتاط ہیں کہ اس پیشرفت سے دنیا کے وسائل پر طلب کا زور بڑھے گا جسے بہرحال پورا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے اس حصے میں ایشیاء میں غیرمساوی معاشی ریکارڈ کا تذکرہ نہیں کیا گیا جبکہ خطے کے کچھ ممالک اہم اصلاحات کرکے غیرمعمولی ترقی حاصل کررہے ہیں، دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک اصلاحات سے پہلو تہی کرکے معاشی جمود کا شکار ہیں اور اس لئے براعظم ایشیاء کے رواں صدی میں ترقی کی جانب ہونے والے ممالک کی فہرست سے علیحدہ ہو گئے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ برسوں کیلئے عالمی ایجنڈے کے خدوخال وضع کئے گئے اور زیر زمین چٹانوں سے گیس نکالنے کے عمل کے مستقل اور اس کے تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی۔

توانائی کے شعبے میں یہ پیشرفت عالمی منظر نامے میں کایا پلٹ ثابت ہو سکتی ہے اور توانائی کے شعبے میں انقلاب کا موجب بن سکتی ہے۔ تینوں رپورٹوں میں اس پیشرفت کے دورس تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ امریکہ کے توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کے امکانات کو تینوں رپورٹس میں واشنگٹن کی جانب سے اس زمرے میں مشرق وسطیٰ کے مرکز نگاہ کی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ نے پہلے ہی اس محرک کو امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا عکاس قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے کانگریس کے مشترکہ خطاب کے دوران کہا تھا کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں خودانحصاری حاصل کرنے کے ہدف کے سلسلے میں گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں ان ممالک کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جہاں زیرزمین چٹانوں میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور تکنیکی طور پر اس کا حصول ممکن ہے۔

اس ضمن میں چین سرفہرست، امریکہ چوتھے جبکہ ارجنٹائن کا نمبر دوسرا ہے۔ این آئی سی گلوبل ٹرینڈذ رپورٹ میں طرز حکمرانی کے خلاء کو تبدیلی کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے جو کہ یہ تعین کرے گی کہ آئندہ دودہائیوں میں کس قسم کی دنیا ابھر کر سامنے آئے گی۔ رپورٹ نے ایک کلیدی سوال پیش کیا کہ طاقت کے تقسیم ہونے اور کئی مختلف کرداروں کے معرض وجود میں آنے سے آیا حکمرانی اور بین الاقوامی اداروں کی اشکال معروضی دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں وضع کریں گی یا اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق کچھ ممالک جمہوری خسارے کے باعث مشکلات میں گھرے رہیں گے، ان کی ترقیاتی سطح ان کی طرز حکمرانی کی سطح کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے جبکہ دیگر ممالک تیزرفتار سماجی و سیاسی تبدیلی کے موڑ پر مستحکم تبدیلیاں کرنے سے قاصر رہیں گے۔

طرز حکمرانی کے چیلنجوں پر ایک معروف امریکی اسکالر جوزف نائی شائنز نے بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ جمہوریتوں کو لازمی طور پر منتخب حکومتوں پر کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی اور انفارمیشن ایج کے نئے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کیلئے کام کرنا چاہئے تاہم اس موضوع پر آخری الفاظ ایک ایسی کاروباری شخصیت کی جانب سے آئے جس کا نام رپورٹ میں درج نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک ایسے جمہوری نمونے کو وضع کرنا ہوگا جس میں رہنماؤں کو معاشرے کے طویل مدتی مفاد کیلئے اپنے قلیل دور حکومت کی قید سے آزادی ملے۔ اس بات کا اطلاق پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ہوتا ہے۔


بشکریہ روزنامہ ' جنگ '