Header Ads

Breaking News
recent

امریکی امداد شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط



پاکستان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی سی آئی اے کے لئے جاسوسی کرنے اور ایبٹ آباد آپریشن میں اہم کردار ادا کرنے کی بنا پر ایک ’’غدار‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا نام ذہن میں آتے ہی 2 مئی 2011ء کے اُس سیاہ دن کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جب امریکی افواج نے ملکی سرحدوں کی پامالی کرتے ہوئے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کیا تھا۔ امریکہ آج کل ایک بار پھر اپنے ’’محسن‘‘ کی رہائی کے لئے سرگرم ہے، اس سلسلے میں پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے امریکی کانگریس نے 2014ء میں مختص کئے گئے بجٹ میں پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی رقم شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرکے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے جس کی امریکی صدر اوباما نے بھی توثیق کردی ہے۔ بل کے مسودے کے مطابق پاکستان کو یہ امداد اُس وقت تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک وہ شکیل آفریدی پر امریکہ کی مدد کرنے سے متعلق لگائے گئے الزامات واپس لے کر اُسے رہا نہ کردے۔ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل بھی امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ امریکی کانگریس اور عالمی میڈیا میں وقتاً فوقتاً اٹھاتا رہا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ، پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں بھی شکیل آفریدی کو رہا کرنے کے لئے دبائو ڈالتی رہی ہے۔ واضح ہو کہ اکتوبر 2013ء میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر اوبامہ اور ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ نے وزیراعظم پر زور دیا تھا کہ وہ شکیل آفریدی کو رہا کردیں جبکہ اس سے قبل کچھ امریکی سینیٹرز شکیل آفریدی کو امریکی شہریت دینے کی بھی سفارش کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ شکیل آفریدی کو 2 مئی 2011ء کو اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں ہونے والے امریکی آپریشن کے 20 دن بعد پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے پشاور کے علاقے حیات آباد سے گرفتار کیا تھا۔ شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ اُس نے اسامہ کی تلاش کے لئے سی آئی اے کی ایماء پر ایبٹ آباد میں ویکسین کی ایک جعلی مہم شروع کی کیونکہ امریکہ آپریشن سے قبل اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں واقع کمپائونڈ میں موجودگی کی تصدیق چاہتا تھا جس کیلئے اسے کمپائونڈ میں رہائش پذیر افراد کا ڈی این اے درکار تھا۔ اس مقصد کیلئے امریکی سی آئی اے نے خیبر ایجنسی میں شعبہ صحت کے انچارج ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات حاصل کیں جس نے ڈی این اے کے حصول کے لئے علاقے میں جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی اور اس کی آڑ میں کچھ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو اسامہ کے کمپائونڈ میں بھیجا جو وہاں موجود افراد کے ڈی این اے لینے میں کامیاب ہو گئیں۔ امریکی سی آئی اے نے اس مشن کیلئے شکیل آفریدی کو بھاری رقم ادا کی اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا کہ جلد ہی اسے فیملی سمیت امریکہ بلالیا جائے گا۔ شاید اس راز پر پردہ ہی پڑا رہتا اگر ایبٹ آباد آپریشن کے بعد لیڈی ہیلتھ وزیٹرز جنہیں شکیل آفریدی نے جعلی ویکسی نیشن مہم کیلئے اسامہ کے کمپائونڈ میں بھیجا تھا، کو اصل حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے شکیل آفریدی سے انہیں اس مہم میں استعمال کرنے اور اصل حقیقت چھپانے پر ناراضی کا اظہار کیا جس کے بعد یہ حقیقت ایجنسیوں پر آشکار ہوئی اور شکیل آفریدی کی گرفتاری عمل میں آئی جس نے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ واضح ہو کہ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پنٹا بھی اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ شکیل آفریدی نے سی آئی اے کو ایسی معلومات دیں جو ایبٹ آباد آپریشن کے لئے مددگار ثابت ہوئی۔ بعد ازاں شکیل آفریدی پر شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات رکھنے اور انہیں اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ نے اسے 33 سال قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی لیکن حکومت اس مقدمے کی سماعت دوبارہ کررہی ہے کیونکہ شکیل آفریدی کے وکلاء کا کہنا تھا کہ عدالت کے سابق جج نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ حکومت پاکستان کا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ شکیل آفریدی پر انصاف حاصل کرنے کے لئے عدالت کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔

شکیل آفریدی آج کل پشاور جیل میں سزا بھگت رہا ہے۔ سخت سیکورٹی کے باوجود کچھ عرصے قبل پاکستانی ایجنسیوں کو بدنام کرنے اور شکیل آفریدی کو دنیا میں ہیرو کے طور پر پیش کرنے کے لئے اسی جیل سے شکیل آفریدی کا ایک انٹرویو غیر ملکی میڈیا میں منظر عام پر آیا اور انٹرویو نشر کرنے والے امریکی فاکس نیوز کے نمائندے ڈومینک ڈی نٹیلی نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے یہ انٹرویو شکیل آفریدی سے پشاور جیل میں کیا تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ شکیل آفریدی سے یہ مبینہ انٹرویو موبائل فون کے ذریعے لیا گیا تھا جس میں شکیل آفریدی نے آئی ایس آئی پر بے بنیاد الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ انٹرویو میں شکیل آفریدی نے بتایا کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے اُسے فیملی سمیت افغانستان فرار ہونے کا مشورہ دیا تھا تاہم اِس نے اُس وقت اِس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد اسے گرفتار کرکے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع خفیہ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں رکھا گیا، دوران تفتیش اس پر تشدد کیا گیا اور کہا گیا کہ اس نے آئی ایس آئی کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کی مدد کی ہے کیونکہ آئی ایس آئی امریکہ کو اپنا بدترین دشمن مانتی ہے۔ مذکورہ انٹرویو میں شکیل آفریدی نے مزید کہا کہ جہادیوں کے خلاف جنگ کا نعرہ ایجنسیوں کی امریکہ سے پیسے بٹورنے کی ایک چال ہے۔ شکیل آفریدی نے مزید کہا کہ اسے سی آئی اے کیلئے کام کرنے پر فخر ہے۔ جیل سے لئے گئے شکیل آفریدی کے اس انٹرویو کے باعث حکومت اور ایجنسیوں کو خفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ حکومت ہمیشہ یہ دعوے کرتی رہی ہیں کہ شکیل آفریدی کو انتہائی سخت سیکورٹی میں رکھا گیا ہے۔

پاکستان پر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے امریکی دبائو میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ شکیل آفریدی نے ایک عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن جسے پاکستان بھی دہشت گرد تسلیم کرتا تھا، کو گرفتار کرانے میں اس کی مدد کی، اس لئے شکیل آفریدی کا یہ اقدام قابل ستائش ہے جو کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا لیکن حکومت پاکستان کا یہ موقف ہے کہ اگر شکیل آفریدی کو اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ معلومات تھیں تو وہ ان سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو آگاہ کرتا نہ کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سودے بازی کرتا، اس طرح شکیل آفریدی کا یہ اقدام ملکی آئین و قانون کے خلاف ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شکیل آفریدی کی چلائی گئی جعلی ویکسی نیشن مہم کے نتیجے میں پولیو مہم شدید متاثر ہوئی اور لوگوں کا پولیو مہم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

جس کے نتیجے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح سے شکیل آفریدی کو پاکستان سے رہائی دلا کر دنیا کو یہ پیغام دے کہ وہ اپنے ایجنٹوں اور وفاداروں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے دشمن اور مخبر کو ہیرو بناکر پیش نہ کرے کیونکہ اس کے اس رویّے سے اس کے خلاف مخالفانہ جذبات میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکی امداد کو شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جو پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں، اس میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ قوم اس طرح کی شرائط اور دبائو کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کرے گی۔ ہمیں ان خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان جنگجوئوں کے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں پر حملے اور سیکڑوں ساتھیوں کو چھڑا لے جانے کے بعد اس بات کا بھی امکان ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے جنگجو پشاور جیل پر حملہ آور ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ شکیل آفریدی کو ایک غدار اور امریکی سی آئی اے کا جاسوس ایجنٹ تصور کرتے ہیں جبکہ اسی جیل میں کالعدم تنظیم کے سربراہ صوفی محمد بھی قید ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صورتحال پاکستان کیلئے مزید ہزیمت اور پریشان کن ہو گی۔ شاید انہی خدشات کے مدنظر کچھ روز قبل سینٹرل جیل میں شکیل آفریدی کی سیکورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کے 20 اہلکاروں پر مشتمل عملے کو اچانک تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی بعید از اخراج قرار نہیں دیا جاسکتا کہ امریکہ اپنے ’’ہیرو‘‘ کو پشاور جیل سے نکالنے کیلئے ایبٹ آباد جیسی دوسری مہم جوئی کی حماقت کر بیٹھے، اس لئے شکیل آفریدی جیسے قوم کے غدار کو جلد از جلد عبرت ناک انجام تک پہنچانا ہی قوم کے مفاد میں بہتر ہو گا۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.