Header Ads

Breaking News
recent

وہ لہو جو اجنبی ٹھہرا


امریکہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے حلف اٹھا کر یہ عہد کرنا پڑتا ہے کہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حفاظت کے لئے ضرورت پڑنے پر ہتھیار اٹھائوں گا اور اس کی لڑاکا فورس میں شامل ہو جائوں گا۔

دنیا کے تمام ممالک میں شہریت کے حصول کے لئے الفاظ کے ردو بدل کے ساتھ یہ حلف وفاداری لیا جاتا ہے اور پیدائشی شہریوں پر ازخود یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب بھی ملکی سالمیت خطرے میں ہو،وہ اپنا تن من دھن وار دیں۔ اسرائیل میں 18 سال سے زائد عمر کا ہر شہری فوج میں خدمات سرانجام دینے کا پابند ہے۔ فرانسیسی مدبر اور قائد Georges Clemenceau کے بقول جنگ اتنا اہم معاملہ ہے کہ اسے محض فوج پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔اسی لئے امریکہ جیسے ملک میں بھی کم از کم 512 نجی ملیشیاز موجود ہیں جنہیں پٹریاٹ گروپس کہا جاتا ہے۔ جب امریکہ نے ویتنام پر حملہ کیا تو لگ بھگ بیس ہزار امریکیوں نے اس جنگ میں فوج کے شانہ بشانہ ہتھیار اُٹھائے مگر میرے ملک کے عظیم دانشوروں کا خیال ہے کہ جب پاکستان دولخت ہونے لگا اور بھارت نے مکتی باہنی کی آڑ میں جارحیت کی تو اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں نے البدر و الشمس کی صورت نجی ملیشیاز بنا کر ناقابل معافی و ناقابل تلافی جرم کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقی پاکستان میں انسانیت تارتار ہوئی۔ہاں یہ سچ ہے کہ قومیت کا آسیب لاکھوں انسانوں کو نگل گیا۔یہ بات بھی درست ہے کہ عصمتیں پامال ہوئیں اور آبروریزی کے واقعات ہوئے مگر کیا یہ سب زیادتیاں پاک فوج اور اس کے ساتھ لڑنے والے سویلین سرفروشوں نے کیں؟ مکتی باہنی فرشتوں کی جماعت تھی؟ علیحدگی کے لئے لڑنے والے سب بنگالی سنت عیسوی کے سچے اور پکے پیروکار تھے اور ایک تھپڑ پر دوسرا گال آگے کرتے رہے یا گاندھی جی کے بھگت تھے کہ فلسفہ عدم تشدد کو ہی حرز جاں بنائے رکھا؟ہاں اگر وہ سب باچاخان اور نیلسن منڈیلا کی مفاہمانہ روش پر کاربند رہے تو ہمیں بلا حیل و حجت بنگلہ دیش سے معافی مانگ لینی چاہئے اور نہ صرف عبدالقادر ملا کی پھانسی پر قومی اسمبلی کی قرارداد واپس لینی چاہئے بلکہ اپنے ان فوجیوں کو بھی بنگلہ دیش کے سپرد کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے جن پر الزامات ہیں لیکن اگر یہ جنگ تھی اور فریق مخالف نے ہمارے دشمن کو ساتھ ملا کر یہ جنگ لڑی تو پھر جنگوں میں یہی کچھ ہی ہوتا ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو کے ایک معروف اخبار نے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس کے ذریعے ایک رپورٹ شائع کی کہ 1967ء کے دوران 101 ایئر بورن ڈویژن کی ایلیٹ ٹائیگر فورس نے سیکڑوں نہتے ویتنامیوں کو ہلاک کیا اور درندگی کا یہ عالم تھا کہ امریکی فوجی لاشوں کو کاٹ کر بوٹوں کے تسموں میں پِرو کر مالا کی طرح گلے میں پہنا کرتے تھے لیکن شواہد ملنے کے باوجود امریکی محکمہ دفاع نے جنگی جرائم کی تحقیقات کرانے سے انکار کر دیا۔

سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اب تک جتنے کالم شائع ہوئے ان میں سے کسی میں تصویر کا یہ رُخ پیش نہیں کیا گیا کہ مظلومیت کی تصویر بنے بنگالیوں نے کیا ستم ڈھائے۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے پہلے میجر ضیاء الرحمن نے اپنے حلف سے روگردانی کی، کرنل جنجوعہ کو چٹاکانگ کے سرکٹ ہائوس لے جا کر بیوی بچوں سمیت ذبح کر دیا اور کئی دن تک غیر بنگالیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا رہا ۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر شرمیلا بوس کی کتاب Dead Reckoning کے مطابق بنگالی قوم پرستوں نے بھی انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ چٹاکانگ، جیسور،سانتاہر اور کھلنا میں اردو بولنے والوں کو چُن چُن کر مارا گیا۔ایک موقع پر پاکستانی فوج کارروائی کے لئے گئی تو بنگالی باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے افراد کی لاشوں سے دریا میں پانی کا بہائو رُک گیا تھا اور پانی سرخی مائل ہو چکا تھا۔مصنفہ کے مطابق ہزاروں غیر بنگالیوں کو ’’المناک حیوانیت‘‘ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ غیر جانبدار مصنفہ کی تحقیق کے مطابق فوجی آپریشن میں 30لاکھ بنگالیوں کے مارے جانے کا دعویٰ بھی درست نہیں۔ اگر مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا جائے تو ایک لاکھ افراد قتل ہوئے۔اس کتاب کی اشاعت کے بعد جب برطانوی اخبار گارڈیئن نے تبصرہ شائع کیا تو تبصرہ نگار نے لکھا’’جب بھی بنگالیوں سے پوچھا جاتا کہ کتنے لوگ مارے گئے تو وہ آنکھیں پھاڑ کر کہتے،کئی لاکھ ۔شاید ان بنگالیوں کی گنتی میں دو ہی الفاظ تھے،لاکھ اور کروڑ‘‘۔

علیحدگی کی کامیاب تحریکوں کے نتیجے میں آج تک جتنے بھی ملک معرض وجود میں آئے،کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ پرانا حساب کتاب بیباک کیا جائے۔ براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک سوڈان کئی عشروں تک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا کیونکہ جنوبی علاقوں میں آباد 21فیصد مظاہر پرست اور 5 فیصد عیسائی الگ ریاست کے خواہاں تھے۔امریکہ نے مداخلت کی اور جنوبی سوڈان کے نام سے 9جولائی 2011ء کو ایک نیا ملک بنا تو ڈنکا قبیلے اور نیور قبیلے میں اقتدار کی رسہ کشی ضرور ہوئی مگر کسی نے یہ ضرورت محسوس نہیں کہ 500قبائل میں سے ان 27قبیلوں کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں جو ان کی جدوجہد آزادی کے خلاف تھے اور سوڈانی ریاست کے وفادار تھے۔ سابق نائب صدر Riek Machar نے چند دن پہلے صدر Salva Kiir کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش تو ضرور کی لیکن ان دونوں میں سے کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ جدوجہد آزادی کے دوران ہونے والی 15لاکھ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے کوئی کمیشن بنایا جائے۔ اگر تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور بھارت اس راہ پر چل نکلتے تو آج بھی دونوں طرف غدار پھندوں پر جھول رہے ہوتے۔نیلسن منڈیلا پرانا حساب بیباک کرنے پر آ جاتے تو آج بھی جنوبی افریقہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہوتا۔

یوم سقوط ڈھاکہ سے چند روز قبل بنگلہ دیش نے عبدالقادر مُلا کی لاش کا تحفہ دیا تو میں نہیں رویا کہ سرفروشی کی تمنا ہو، جرم ِ وفا پہ ناز ہو تو دار و رسن کی شکایت کیسی۔ لیکن واں عشاق ہوں کُشتنی اور یاں کوچۂ جاناں کو گریز گفتنی تو دل فگاروں کی آنکھ کیسے نم نہ ہو اور قلم کی چشم نم سے لہو کیوں نہ ٹپکے؟ افق کے اس پار جانے والے عبدالقادر ملا کی جدائی میں نڈھال غمزدوں کو تو قرار آ ہی جائے گا، جماعت اسلامی بنگلہ دیش بھی ابتلا و آزمائش کی اس بھٹی سے کندن بن کر نکل آئے گی مگر مجھے یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اگر خدانخواستہ کل کو پاکستان کے کسی کونے میں مشرقی پاکستان جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو تنخواہ دار فوج تو اپنا فرض سمجھ کر لڑے گی کیونکہ شکست کی صورت میں بھی اسے بے یارومددگار چھوڑے جانے کا اندیشہ نہیں مگرعبدالقادر مُلا کے انجام سے باخبر پاکستانی اپنے حلف کے مطابق دفاع وطن کے لئے ہتھیار اُٹھا پائیں گے؟؟ اگر وطن عزیز پر کڑا وقت آیا تو البدر و الشمس کی تاریخ دہرائی جا سکے گی؟اگر اس چمن کو پھرخون کی ضرورت پڑی تو دیوانوں اور فرزانوں کے وہ گروہ میسر ہو پائیں گے جو پاکستانی کے لئے ہی قربان ہوں اور پاکستان میں ہی اجنبی قرار پائیں؟خدا جانے فیض احمد فیض اور عبدالقادر ملّا افق کے اس پار کیا سوچتے ہوں گے فیض نے ملّا سے رسم و راہ کی ہو گی یا نہیں البتہ شہید پاکستان کی زبان پر یہ الفاظ ضرور مچل رہے ہوں گے

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مامقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

محمد بلال غوری

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

No comments:

Powered by Blogger.