Header Ads

Breaking News
recent

خانہ جنگی کی بھاری قیمت ادا کرتے شامی بچے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے بیرونِ ملک پناہ 
لینے والے شامی بچوں کا نہ صرف سلسلۂ تعلیم منقطع ہوگیا ہے بلکہ انہیں کم اجرت پر زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
ادارے کی ذیلی تنظیم اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں یا ’یو این ایچ سی آر‘ نے کہا ہے کہ 2013 کے اختتام تک لبنان اور اردن میں رہنے والے تقریباً تین لاکھی شامی بچے سکول سے دور رہ جائیں گے۔ 
متعلقہ عنوانات 
ان میں سے متعدد بچے جو سکول نہیں جا پاتے وہ کام کرنے جاتے ہیں اور سات سال کی عمر تک کے بچے بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔
شام کے 22 لاکھ تارکین وطن میں سے نصف بچے ہیں اور اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق جنگ زدہ علاقوں سے دور رہنے کے باوجود انھیں سنگین خطرات لاحق ہیں۔
تنطیم کی رپورٹ میں شام کی خانہ جنگی کے نتیجے میں شام اور شام سے باہر پناہ گزین بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بچے جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر انٹونیو گوٹریس نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ’اگر ہم نے تیزی سے عمل نہیں کیا تو معصوموں کی ایک نسل پر قابل نفرت جنگ کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔‘

یو این ایچ سی آر کے تخمینے کے مطابق 37 ہزار بچے بغیر کسی سرپرست کے ہیں
شام کی تین سال سے جاری خانہ جنگی سے متعلق برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک تقریبا گیارہ ہزار بچے مارے گئے ہیں۔
یو این ایچ سی آر نے جولائی اور اکتوبر 2013 کے درمیان اردن اور لبنان میں رہنے والے شامی بچوں اور ان کے اہل خانہ سے انٹرویوز کا ایک سلسلہ چلایا۔
محققین نے اس سلسلے میں 81 پناہ گزین بچوں کا انٹرویو کیا۔ ان کے علاوہ اردن اور لبنان میں رہنے والے مزید 121 بچوں کے ساتھ گروپ مباحثہ منعقد کروایا گیا۔

انھوں نے اس بابت تارکین وطن کے ساتھ کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے اور غیر سرکاری تنظیموں سے بھی رابطہ کیا۔

اس جائزے کے دوران بے وطن بچوں میں ملازمت، محنت کشی اور تنہائی کی بلند شرح دیکھی گئی۔

یو این ایچ سی آر کے تخمینے کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ خانوادے بغیر والد کے ہیں جبکہ 37 ہزار بچے بغیر کسی 

سرپرست کے ہیں، نہ تو ان کی والدہ ہے اور نہ ہی والد۔

شام کے گیارہ لاکھ تارکین وطن میں سے 385007 لوگ لبنان میں ہیں، 294304 ترکی میں جبکہ 291238 اردن میں ہیں

شام کے گیارہ لاکھ تارکین وطن میں سے 385007 لوگ لبنان میں، 294304 ترکی میں جبکہ 291238 اردن میں ہیں۔ ان کے علاوہ ان کی اچھی خاصی تعداد عراق اور مصر میں بھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کی اس بڑی تعداد کا اثر ان ممالک پر بھی پڑا ہے جہاں یہ پناہ گزین ہیں۔
اس رپورٹ کے مصنفوں کے مطابق لبنان کے رہنے والے 80 فیصد شامی بچوں کو سکول میسر نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے آخر تک لبنان میں سکول نے جانے والے بچوں کی تعداد وہاں جانے والے بچوں سے بڑھ جائے گی۔
اس کے علاوہ بہت سے بچے کسی ملک کے شہری نہیں ہیں کیونکہ یہ پناگزین کیمپوں میں پیدا ہو رہے ہیں اور جس ملک میں یہ پیدا ہو رہے ہیں اس ملک کے حکام ان کی پیدائش کو درج نہیں کر رہے ہیں۔
لبنان میں جن 781 نومولود اطفال کا سروے کیا گیا ہے ان میں سے 77 فیصد کے پاس کوئی سرکاری برتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔ اردن کے زعتری ریفیوجی کیمپ میں صرف 68 بچوں کو جنوری تا اکتوبر سنہ 2013 کے درمیان سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا ہے۔




Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.