Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں جنگلات کا رقبہ کیوں تیزی سے کم ہو رہا ہے؟

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر سے تعلق رکھنے والے گل محمد کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ ایک درخت کاٹنے سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔ انہیں اگر فکر ہے تو اپنے پیٹ کی کیونکہ پہاڑوں میں رہتے ہوئے ان کے پاس نہ تو کوئی روزگار ہے اور نہ ایندھن کا کوئی دوسرا ذریعہ جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ لہٰذا ان کا یہ معمول ہے کہ ہر ہفتہ یا دس دنوں میں وہ اپنے گزر بسر کے لیے گاؤں کے پہاڑوں میں جا کر ایک درخت کاٹ کر گھر لاتا ہے جسے وہ ایندھن کے طورپر استعمال کرتا ہے یا پھر اسی درخت کو فروخت کر دیتا ہے۔

گل محمد کا کہنا ہے کہ ان کا گاؤں پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے جہاں اکثریتی افراد کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'یہاں کوئی بجلی نہیں، گیس نہیں اور نہ دیگر زندگی کے بنیادی سہولیات میسر ہیں لہٰذا گھر کا چولہا چلانے اور پیٹ پالنے کےلیے یہاں کے لوگ درخت نہیں کاٹیں گے تو اور کیا کریں گے۔' گل محمد کے مطابق 'یہاں شہر سے لوگ آتے ہیں جو ہم سے نو سو یا ہزار روپے میں ایک ایک درخت خریدتے ہیں اور پھر وہ اپنے ساتھ گاڑیوں میں لے کر جاتے ہیں۔' پاکستان میں ماہرین کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی عروج پر رہی جس سے مجموعی طورپر ملک بھر میں جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری تدریسی ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کےمطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ہکٹر رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر تک رہ گیا۔ ادارے کے مطابق 2002 میں جنگلات کا رقبہ بڑھ کر 45 لاکھ ہکٹر تک پہنچ گیا جس کے تحت مجموعی طورپر ملک میں پانچ اعشاریہ ایک فیصد رقبہ درختوں پر مشتمل ہے۔ تاہم جنگلات پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او اور دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے مسلسل ہر سال جنگلات کا رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے جس کے تحت یہ رقبہ تین فیصد تک رہ گیا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر جنگلات گلگت بلتستان، خیبر پِختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں 70 فیصد جنگلات صرف ضلع دیامر میں پائے جاتے ہیں۔ اس ضلع کی سرحدیں خیبر پختونخوا سے ملتی ہے۔ دیامر میں ماحولیات پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ہمالیہ کنزرویشن ڈویلپمینٹ کے ڈائریکٹر خان محمد قریشی کا کہنا ہے کہ ان کے ضلع میں بیشتر جنگلات مقامی لوگوں کی ملکیت ہے اور شاید اسی کا فائدہ اٹھاکر ٹمبر مافیا یہاں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ' ٹمبر مافیا' کے افراد سادہ لوح دیہاتیوں سے ان کا خون درختوں کی کاٹنے کی صورت میں چوس رہا ہے کیونکہ درخت یہاں کی سب سے بڑی دولت ہے جو ان کےلیے خون کا کام کرتی ہے۔ ‘

ان کے مطابق جنگلات کے کاٹنے اور اگانے کے ضمن میں مقامی لوگوں اور حکومت کے درمیان کئی معاہدے بھی موجود ہے لیکن ان معاہدوں پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں ٹمبر مافیا ان معاہدوں کا سہارا لے کر علاقے کو بنجر بنا رہی ہے۔ دیامر کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ کٹے ہوئے درختوں کے سر نظر آتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس علاقے میں کس بے دری سے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر سڑک کے قریب بھی درخت کاٹے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چلاس اور دیگر شہری علاقوں میں جگہ جگہ سڑک کے کنارے درختوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں جہاں اسکی کھلے عام خریدو فروخت بھی جاری ہے۔

بعض مقامات پر کٹے ہوئے درختوں کی مارکیٹ تک رسائی بھی آسان ہے اور ان کی آمد و فت پر کوئی روک ٹوک بھی نہیں جس سے ملکی قوانین اور حکومتی اداروں کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ادارہ برائے تحفظ ماحولیات (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے انچارج ڈاکٹر بابر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں پچیس فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ رقبہ چار فیصد تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے کاٹنے سے نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے مجموعی طورپر سماج پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں۔

ان کے بقول ' جنگلات ہماری زندگی ہے اور اسے بچانے کےلیے ہمیں اپنے روئیوں میں تبدیلی لانا ہو گی ورنہ آنے والے دنوں میں ان کے بھیانک نتائج سے ہم خود کو بچا نہیں پائیں گے۔' پاکستان میں جنگلات کا تیزی سے خاتمہ ایک انتہائی اہم اور سنگین معاملہ ہے لیکن یہ مسلہ جتنا اہم ہے اتنی سنجیدگی حکومتی ایوانوں میں نظر نہیں آتی۔ تاہم بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقامی آبادی کو روزگار اور توانائی کے متبادل ذرائع فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک جنگلات کی غیرقانونی کٹائی روکنا ممکن نہیں ہے۔


رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گلگت بلتستان
 

No comments:

Powered by Blogger.