Header Ads

Breaking News
recent

وہ شخص جس نے پاکستان پر چانس لیا

دو مئی 2011 کو براک اوباما نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے اسامہ بن لادن کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اسامہ ایبٹ آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مارے گئے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی شہ سرخیوں میں تھا اور وجہ ایک بار پھر اچھی نہیں تھی۔ یہ وہ پاکستان تھا جس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے تھے، روپیہ قدر کھو رہا تھا اور یہاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی کمی آ رہی تھی۔ یوں کہیں کہ پاکستان ممکنہ طور پر دنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہو چکا تھا کہ جہاں کوئی غیرملکی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہو۔ لیکن سویڈین سے تعلق رکھنے والے میٹس مارٹنسن کا خیال کچھ اور ہی تھا۔ اسامہ کی ہلاکت کے صرف چھ ماہ بعد اکتوبر 2011 میں انھوں نے پاکستان کے پہلے غیر ملکی ایکوئٹی فنڈ کا اجرا کیا۔

ابتدا میں انھیں اس منصوبے میں پیسہ لگانے والا کوئی سرمایہ کار نہ ملا اور انھوں نے اپنے اور اپنے والدین کے دس لاکھ ڈالر اس فنڈ میں لگا دیے۔ آج اس فنڈ کی قدر دس کروڑ ڈالر ہے۔ سٹاک ہوم سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت اسے بیچنا آسان نہیں تھا۔ خاص طور پر جب پاکستان نے نیٹو کی رسد بند کی تو بازارِ حصص کی قدر میں دس فیصد کی کمی دیکھی گئی۔‘ لیکن مارٹنسن نے اپنا سرمایہ نہیں نکالا اور سنہ 2012 میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے جب حکومت نے بیرونِ ملک سے رقم واپس لانے والوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم شروع کی۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’بازارِ حصص میں تیزی آئی اور ہم نے تین ماہ میں پانچ کروڑ ڈالر جمع کر لیے۔‘ یہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری ملک سے باہر جانے والی رقم سے بڑھ گئی تھی۔ اب تقریباً نصف دہائی بعد میٹس مارٹنسن نے ثابت کیا ہے کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔ اس لیے کہ پاکستان یکم جون 2017 کو ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں شامل ہوا ہے جو اس چیز کی نشانی ہے کہ حالات بدل رہے ہیں اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں چین، انڈیا اور برازیل سمیت 23 ایسے ممالک شامل ہیں جن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

پاکستان کے مرکزی انڈیکس کے ایس ای 100 نے مسلسل اندازوں سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ جنوری میں 100 ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی تو اب اس کی قدر 164 ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس وقت اگر آپ یہی رقم ایم ایس سی آئی میں لگاتے تو اس کی قدر 137 ڈالر ہی ہوتی۔ یہ وہ کامیابی ہے جس نے پاکستان کی ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں شمولیت کی راہ ہموار کی ہے۔ کسی بھی ملک کا ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس کا حصہ ہونا سرمایہ کاروں کو اس کی بڑھوتری کے امکانات اور اس کے اداروں کی شفافیت کے بارے میں یقین دہانی کرواتا ہے۔
پاکستان ماضی میں اس انڈیکس کا حصہ ہوا کرتا تھا لیکن پھر اس کے درجے میں کمی کر دی گئی کیونکہ 2008 میں سٹاک ایکسچینج حصص کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی کے بعد چار ماہ بند رہی تھی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نہیں نکال سکے تھے۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر ندیم نقوی کا کہنا ہےکہ ’ہمیں 2008 میں باہر نکال دیا گیا تھا اور وجہ تھی وہ اقدامات جو پاکستان نے ملک سے غیرملکی سرمایہ کاری کے اخراج کو روکنے کے لیے کیے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑا دھچکا لگا تھا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس انڈیکس میں دوبارہ شمولیت کے لیے جہاں اصلاحات کیں وہیں لابیئنگ کا سہارا بھی لیا۔ پارلیمان نے سنہ 2012 میں پاکستان سٹاک ایکسچینجز ایکٹ منظور کیا جس سے کارپوریٹ گورننس بہتر ہوئی اور اصلاحات کی گئی تاکہ 2008 میں جو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔‘

چینی اثر
گذشتہ چند برس میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کی اہم وجہ ملک کی مڈل کلاس کی ترقی ہے جو کسی حد تک ملک میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ چین سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ملک میں سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے اور بندرگاہیں بن رہی ہیں۔ ندیم نقوی کہتے ہیں کہ ’یہ تو آغاز ہے۔ آپ آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں اس کا اصل اثر دیکھیں گے جس سے شرحِ ترقی بھی بڑھے گی۔‘ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ لگایا ہے اور وہ اب اس کے 40 فیصد کے مالک ہیں۔

تاہم اب بھی کچھ خدشات ہیں جو غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے قبل ایک بار سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ٹیمپلٹن ایمرجنگ مارکیٹس گروپ کے ایگزیکیٹو چیئرمین مارک موبیئیس گذشتہ 15 برس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پاکستان کی انا کے لیے اچھا ہے۔ انھیں یہ احساس اچھا لگتا ہے کہ وہ اب فرنٹیئر مارکیٹ انڈیکس کا حصہ نہیں۔ اس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ تاہم اب بھی حکومتوں کی تبدیلی اور انڈیا سے کشیدگی جیسے حقیقی مسائل موجود ہیں۔‘ مشکلات کے باوجود کے ایس ای کا بلندیوں کی جانب سفر جاری ہے اور رواں برس وہ تمام علاقائی انڈیسز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایشیا کے بہترین انڈیسز میں سے ایک رہا ہے۔

میٹس مارٹنسن کا کہنا ہے کہ 'عام خیال یہی ہے کہ پاکستان میں گذشتہ بیس سال تباہ کن رہے لیکن یہ دنیا کی بہترین ایکوئٹی مارکیٹس میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیشہ سے سرمایہ کاری کے لیے سودمند جگہ تھی بس بات بہادری دکھانے اور خطرہ مول لینے کی تھی۔'

کرشمہ وسوانی
بی بی سی نیوز
 

No comments:

Powered by Blogger.