Header Ads

Breaking News
recent

پاناما : خدارا ! اصل کام بھی تو کریں - ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

یہ قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف گزشتہ کئی ماہ سے سیاستدانوں، ریاست کے اہم اداروں، الیکٹرانک میڈیا اور اعلیٰ عدلیہ سمیت پوری قوم کی توجّہ پانامالیکس پر مذکور ہے اور وزیراعظم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان کے بچّوں نے ملک سے باہر جو جائیدادیں بنائی ہیں ان کیلئے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا اور دوسری طرف 7؍ دسمبر 2016 کو صدر مملکت نے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ کا اجراء کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص برائے نام ٹیکس ادا کر کے لوٹی ہوئی دولت، ٹیکس چوری کی دولت اور دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت سے پاکستان میں جائیدادیں خرید سکتا ہے اور محکمہ انکم ٹیکس یہ پوچھنے کا مجاز نہیں ہو گا کہ خریدار کے پاس یہ رقوم کہاں سے آئی تھیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ اس ایمنسٹی اسکیم کو چاروں صوبوں کی عملی معاونت حاصل ہے۔ اس اسکیم سے جو غیر معینہ مدّت تک جاری رہے گی صرف پہلے 6 ماہ میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے یعنی 200 ارب روپے سالانہ کا نقصان۔ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجراکی ذمہ داری وفاق کے ساتھ چاروں صوبوں پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن زیادہ ذمہ داری تحریک انصاف کی ہے کیونکہ:

(1) تحریک انصاف کے منشور 2013 میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اس اصول پر عمل کرنا چاہئے کہ جس جائیداد کی مالیت کم ظاہر کی جائے اسے قومی ملکیت میں لیا جانا چاہئے۔ اپنے اقتدار کے پانچویں برس میں ہی اگر تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں جائیدادوں کے ’’ڈی سی ریٹ‘‘ مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لے آتی تو پھر وفاق کے پاس اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجراکا جواز ہی نہ رہتا اور 200 ارب روپے سالانہ کے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اب بھی تحریک انصاف کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ صوبے میں ’’ڈی سی ریٹ‘‘ کو مارکیٹ کے نرخوں کے بربر لے آئے۔ یہ صوبے میں مثبت تبدیلی اور آئین کی 18 ویں ترمیم و منشور پر عملدرآمد کی نہ صرف شاندار مثال ہو گی بلکہ دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کرنے پر مجبور ہوں گے۔

(2) تحریک انصاف ہی پانامالیکس کے ضمن میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ سپریم کورٹ میں لے کر گئی تھی چنانچہ ناجائز دولت سے بنائے ہوئے اثاثے خواہ ملک کے اندر ہوں یا باہر دونوں پر قانون حرکت میں آنا چاہئے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ وطن عزیز میں قومی خزانے اور قومی مفادات کو مختلف طریقوں سے بلا روک ٹوک نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ چند حقائق پیش ہیں:

(1) ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت کیلئے قومی خزانے میں ایک پیسہ جمع کرائے بغیر مروّجہ قانون کے تحت آج بھی قانونی تحفّظ حاصل کیا جا رہا ہے۔

(2) ناجائز رقوم سے ڈالر خرید کر بینکوں میں بیرونی کرنسی کے کھاتوں کے ذریعے سرمائے کی ملک سے باہر منتقلی بدستور جاری ہے۔

(3) ناجائز آمدنی سے بنائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے ایسے اثاثے ملک کے اندر بنائے گئے ہیں جن کی نہ صرف تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں بلکہ یہ اثاثے حکومت کی دسترس میں بھی ہیں۔ ان ’’ملکی پاناماز‘‘ پر ہاتھ نہ ڈالنا ناقابل فہم ہے۔ اس سے اگر حکومت چاہے تو چند ماہ میں تقریباً 2,000 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ ریاست کے تمام ستون سیاستدان، وکلا، علما، اساتذہ، دانشور، میڈیا اور مختلف شعبوں کے ماہرین مندرجہ بالا تباہ کاریوں کے ضمن میں عمومی طور پر خاموش ہیں۔ معاشرہ بھی اس حد تک کرپٹ یا بے حس ہو چکا ہے کہ اس میں ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں ہو رہا۔ پانامالیکس کے ضمن میں الیکٹرانک میڈیا میں کئی سو ٹاک شوز ہو چکے ہیں جن میں اس معاملے کے سیاسی و قانونی پہلوئوں پر بحث و مباحثہ ہوا ہے لیکن قومی سلامتی و قومی مفادات سے متصادم مندرجہ بالا امور کو عموماً زیر بحث لایا ہی نہیں گیا۔

اس حقیقت کو اب تسلیم کرنا ہو گا کہ پانامالیکس کے مقدمے اور عدالتی کارروائیوں پر ہونے والے غیر محتاط تبصروں سے ریاستی ادارے مزید کمزور ہوئے ہیں اور ان کے درمیان سنگین محاذآرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ آئے وہ متنازع ہی رہے گا۔ یہ بھی واضح ہے کہ پاناما پیپرز کے ضمن میں ہنگامہ آرائی کا اصل مقصد صرف سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اگلے عام انتخابات مسائل کے حل کے بجائے منافرت اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر لڑے جائیں گے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ وفاق اور چاروں صوبوں میں جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں انہوں نے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفّظ کیلئے اپنے اپنے انتخابی منشور سے صریحاً انحراف کیا ہے۔

 چاروں صوبے زرعی شعبے اور جائیداد سیکٹر کو مؤثر طور پر ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے آمادہ نہیں چنانچہ وہ تعلیم و صحت کی مد میں وعدے کے مطابق رقوم مختص نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے 2007 میں بینکوں کے قرضوں کی غلط طریقوں سے معافی کا ازخود نوٹس لیا تھا اور 2009 میں اس کیس کی سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ قرضوں کی معافی کے اسٹیٹ بینک کے 2002 کے سرکلر 29 کا بھی جائزہ لیا جائے گا جس سے بڑے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ عدالت نے دوران سماعت یہ بھی کہا تھا کہ قرضے معاف کروا کر رقوم بیرون ملک منتقل کر دی گئی ہیں۔ پانامالیکس کے موجودہ مقدمے کے تناظر میں یہ ازحد ضروری ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد صادر فرمایا جائے جو سپریم کورٹ میں دس برسوں سے التوا کا شکار ہے، وگرنہ ان قرضوں کی وصولی ناممکن ہو جائے گی اور احتساب یکطرفہ رہے گا۔

پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ جاری حسابات کا خسارہ محفوظ حد سے بڑھ چکا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان قرضوں کے شیطانی چکّر میں پھنس چکا ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں جبکہ نیشنل ایکشن پلان بدستور نامکمل اور غیر مؤثر ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر جو سرمایہ کاری کی جانی ہے اس کی شرائط بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کرنے کے بجائے حکومت کی کوششوں کا محور چین سے نئے قرضوں کا حصول ہے۔ اس بات کا ادراک اب کرنا ہی ہو گا کہ عالمی مالیاتی ادارے، بیرونی سرمایہ کار اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز مندرجہ بالا متضاد پالیسیوں و اقدامات اور منفی پیشرفت کو حیرت و استعجاب سے دیکھ رہے ہیں جس کے تباہ کن نتائج اس وقت سامنے آئیں گے جب دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ کو پاکستان کی معاونت کی ضرورت مزید کم ہو جائے گی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

(آمین)
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
 

No comments:

Powered by Blogger.