Header Ads

Breaking News
recent

قلعہ نندنہ : ابو ریحان البیرونی نے یہیں سے زمیں کا قطر ناپا

قلعہ نندنہ دسویں صدی عیسوی سے متعلقہ ہے جس کا رقبہ 45 کنال اور 16 مرلے ہے۔ یہ قلعہ چوا سیدن شاہ سے 12 میل مشرق کی طرف واقع ہے نندنہ پاس اصل میں چوا سیدن سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ یہاں سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔ ابو ریحان البیرونی نے یہیں سے زمیں کا قطر ناپا تھا جو موجودہ قطر سے 43 فٹ کے فرق کے ساتھ تھا سر اورل کے مطابق یہ راستہ سکندر کی ا فواج نے بھی دریائے جہلم کو پار کرنے کے لئے اختیار کیا جو اس نے جلال پور (بوکے قالیہ ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور محمود غزنوی کی فوجوںء میں میدان جنگ بنا ۔ اس طرح محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نند نہ پر ہو گیا یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقررکیا۔ نندنہ قلعہ کا ذکر تاریخ میں991 عیسوی میں ملتا ہے جب لاہور کے راجہ نے مشرق کی طرف سے حملہ کی کو شش کی13 ویں صدی کے شروع میں اس پر قمرالدین کرمانی کا قبضہ تھا جس سے جلا ل الدین خوارزمی نے قلعہ کا قبضہ لیا ۔

جلال الدین خوارزمی کو چنگیز خان نے 1012ء میں دریائے سندھ کے کنارے شکست دی تو اسی کے امیر ترقی کے زیر تسلط یہ قلعہ آیا ۔ التمش کی فتوحات کے زمرہ میں بھی نندنہ قلعہ کا نام آتا ہے۔ التمش کے بیٹے محمود نے 1247ء میں کوہ نمک کے راجہ کو سزا دینے کے لیے حملہ کیا جو چنگیز خان کی فوج کا ہمرکاب تھا اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زما نہ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا ۔ اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پرنمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے ۔ 

No comments:

Powered by Blogger.