Header Ads

Breaking News
recent

غربت نہیں ۔ اخلاقی زوال ؟

یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں کہ اس پر فوری طور پر ایک سطری فیصلہ صادر کر دیا جائے ۔ یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ کوئی پانچ دہائیاں قبل میں گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد گھر سے بذریعہ ریل لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ اس دور میں ریلوے کا نظام خاصی حد تک منظم تھا۔ گاڑی گوجرانوالہ پہنچی تو اچانک خاصا رش ہو گیا کیونکہ گوجرانوالہ سے صبح کے وقت بہت سے لوگ کام کرنے لاہور آیا کرتے تھے اور شام کی ٹرین سے واپس لوٹ جاتے تھے۔ چند منٹ رکنے کے بعد گاڑی چلی تو میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ بہت سے لوگ گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہوئے تھے اور کچھ لٹکے ہوئے تھے۔ ابھی گاڑی نےکوئی دس پندرہ منٹ کا سفر ہی طے کیا ہو گا کہ میری آنکھوں کے سامنے پائیدان پر کھڑا ایک مزدور نما نوجوان ریل کی پٹڑی کے ساتھ لگے کھمبے سے ٹکرایا اور لوٹ پوٹ ہوتا نیچے گر گیا۔ 

میں نے فوراً گاڑی کی زنجیر کھینچی اور غمگین نظروں سے گرنے والے نوجوان کو دیکھنے لگا۔ گاڑی کو رکنے میں چند منٹ لگتے ہیں۔ سامنے ایک چرواہا جانور چرا رہا تھا۔ وہ اس نوجوان کو گرتے ہو ئے دیکھ کر اس کی طرف بھاگا تو مجھے یوں لگا جیسے وہ زخمی مسافر کی مدد کے لئے آ رہا ہے لیکن میرا صدمہ اس وقت دوگنا ہو گیا جب میری نگاہوں کے سامنے چرواہے نے بے ہوش زخمی مسافر کے پائوں سے جوتے اتارے اور بھاگ کر فصلوں میں گم ہو گیا۔ گرنے والا ایک غریب انسان تھا۔ اس نے کوئی قیمتی جوتے یا لباس پہنا ہوا نہیں تھا۔ ذرا سوچئے کہ جوتے اتار کر بھاگنے والا اس مال مسروقہ یا مال حرام سے کتنا خوشحال ہو گیا ہو گا؟ اس منظر نے جہاں میرے دل پہ صدمے کے چرکے لگائے وہاں اپنی قوم کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا۔ جب میں قوم کی بات کرتا ہوں تو مراد اکثریت سے ہے کیونکہ میں نے زندگی کے طویل سفر میں قوم کے معتد بہ حصے کو ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ، بے ایمانی، لوٹ کھسوٹ، لالچ، حرص، جھوٹ، دھوکہ دہی اور قانون شکنی میں مبتلا دیکھا ہے۔ 

چھوٹی چھوٹی اور بظاہر بے ضرر مثالوں سے لے کر ملکی و قومی سطح تک جھوٹ، فراڈ، لوٹ کھسوٹ، ظلم و زیادتی اور بے اصولی کا سمندر بہہ رہا ہے۔ جس میں امیر اور غریب دونوں بہہ رہے ہیں۔ مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے جب دانشور ہر خرابی اور ہر قومی مرض کی جڑ غربت یا جہالت میں تلاش کرتے ہیں کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے غریب، امیر، با اثر، بے اثر، جاہل اوراعلیٰ تعلیم یافتہ سبھی کو اخلاقی حمام میں بے لباس دیکھا ہے۔ غریب نائب قاصد اگر سو روپوں میں کوئی غلط کام کرنے پر تیار ہو جاتا تھا تو اعلیٰ تعلیم یافتہ افسر کا ریٹ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے تھا۔ ایماندار، رزق حلال کھانے والے اور بااصول حضرات بھی موجود تھے اور موجود ہیں اور ان کا دم غنیمت ہے لیکن بدقسمتی سے ایسے حضرات کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر.....!!!

گزشتہ دو تین دہائیوں میں ریلوے کے کئی حادثات ہوئے جن میں سینکڑوں لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے اور ان گنت لوگ اپنے اعضا گنوا کر معذور ہو گئے۔ ہر حادثے کے بعد ایسی دلخراش خبریں پڑھنے اور سننے کو ملیں جنہوں نے مجھے اندر سے لہولہان کر دیا اور قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔ ہر حادثے کے بعد قریبی بستیوں کے لوگ چیخ و پکار کی آواز سن کر موقع پر پہنچے کچھ لوگ ڈبوں میں پھنسے اور زخمی و بے ہوش مسافروں کی مدد کرنے لگے جبکہ کچھ حضرات نے ڈبوں میں جکڑی زخمی خواتین کو باہر نکالنے کی بجائے ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اور بازوئوں سے چوڑیاں اتارنے کو ترجیح دی۔ چند برس قبل آزاد کشمیر میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو پوری قوم زلزلہ زدگان کے غم میں ڈوب گئی، ان گنت تنظیمیں ان کی مدد کو پہنچیں لیکن زلزلہ زدگان سے ایسی داستانیں بھی سننے کو ملیں کہ کچھ حضرات اس خدائی قہر کے دوران بھی لوٹ مار میں مصروف رہے۔ 

تقسیم ہند اورقیام پاکستان کے وقت میں کم سن تھا اس لئے مجھے علم نہیں لیکن ان گنت زبانی کہانیوں کے علاوہ سرکاری ریکارڈ، کتابیں، مشاہدات اور صحافتی رپورٹیں اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ ایک طرف قتل و غارت اور جلائو گھیرائو جاری تھا تو دوسری طرف نقل مکانی کر کے جانے والوں کے گھروں سے لوٹ مارعروج پر تھی کیونکہ قانون نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں تھی۔ کیا ریل کے حادثات، زلزلوں، قدرتی آفات یا بٹوارے میں صرف غریب ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف تھے؟ بالکل نہیں۔ اس سنگدلانہ کارروائی میں سبھی شریک تھے اور سبھی شریک ہوتے ہیں۔ احمدپور شرقیہ یا بہاول پور کے جانکاہ حادثے میں بے شمار مرد عورتیں بچے جل کر راکھ ہو گئے۔ پٹرول کا ٹینکر ایک کار کو بچاتے ہوئے الٹ گیا اور ہر طرف پٹرول بہنے لگا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ اپنے برتن اٹھائے، واٹر کولر، بوتلیں اور دیگچیاں سنبھالے پٹرول کی لوٹ میں مصروف ہو گئے۔ ڈرائیور منع کرتا رہا کہ آگ لگ سکتی ہے دور ہو جائو لیکن جب ہوس کا بھوت سوار ہو تو کوئی نصیحت اور وارننگ کام نہیں کرتی۔ میرے دانشور دوست اسے غربت کا المیہ قرار دیتے ہیں تو میرا جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھوں کہ وہ کاریں اور سینکڑوں موٹر سائیکل جو پٹرول کی بہتی گنگا سے ٹینکیاں بھرنے میں مصروف تھے اور جل کر راکھ ہو گئے کیا وہ غربت کا شکار تھے؟ نزدیکی گائوں کے کھاتے پیتے گھروں کے حضرات جو واٹر کولر لے کر پہنچے تھے، کیا وہ کئی دن کے بھوکے تھے اور انہوں نے اس پٹرول سے اپنی بھوک مٹانی تھی؟

موضوع طویل ہے میں نے دیگ سے فقط چند دانے پیش کئے ہیں۔ میں نے زندگی کے سفر میں نہایت غریب مگر نہایت ایماندار اور بااصول حضرات بھی دیکھے ہیں اور دولت کے اونچے انباروں پر بیٹھے اورہیرے جواہرات سےکھیلتے امرا کو اپنی حرص و ہوس کے سبب نہایت غریب بھی پایا ہے کیونکہ غریب وہ ہوتا ہے جس کی بھوک کبھی ختم نہ ہو۔ اس لئے میں اس لوٹ کھسوٹ، بے ایمانی، چوری چکاری کو صرف غربت و جہالت کا شاخسانہ نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک یہ ہماری قوم کے اخلاقی تنزل کا قحط ہے اورہمارا مائنڈ سیٹ اور معاشرتی کلچر بن چکا ہے جس کی بنیادی وجہ اخلاقی تربیت اور کردار سازی کا فقدان، خوف ِ خدا اور جوابدہی کے احساس کا خاتمہ ہے۔ قوم کے لیڈران، امرا (ELITE) نمایاں شخصیات عوام کا رول ماڈل ہوتی ہیں جب معاشرے کے اعلیٰ طبقات کی لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام ہوں تو لوٹ مار، حرص وہوس، اخلاقی گراوٹ اور لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند باندھنا ناممکن ہوتا ہے۔

ایک بات یاد رکھیں کہ جس معاشرے اور گھر سے جائز و ناجائز، حلال اور حرام کی تمیز مٹ جائے اس معاشرے سے اللہ پاک کی برکت اور رحمت کا سایہ بھی اٹھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود
 

No comments:

Powered by Blogger.