Header Ads

Breaking News
recent

ہماری سرکار ہے نماز ادا کرنے نہیں دیں گے

مغربی اتر پردیش کے شہر امروہہ کی دو خاص باتیں ہیں ایک یہاں کے آم کے باغ اور دوسرا فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔ چاہے تقسیم ہند کا دور ہو، یا پھر 1980 میں ہونے والے مرادآباد کے فسادات یا پھر 1992 میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے بعد کا ماحول، امروہہ ہمیشہ پرامن رہا۔ اس شہر اور ارد گرد کے دیہات نے فرقہ وارانہ کشیدگی کی آنچ کو اپنے تک نہیں پہنچنے دیا لیکن حالیہ کچھ واقعات امروہہ کے اس ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امروہہ شہر سے تقریباً 36 کلو میٹر دور ایک قصبہ ہے سیدنگلي، جہاں سے قریب پانچ کلومیٹر دور سكت پور گاؤں ہے آج کل ہندو اکثریتی یہ گاؤں فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب سرخیوں میں ہے۔ میں جب سكت پور پہنچا توایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس گاؤں میں کسی طرح کی کوئی کشیدگی ہے۔ اردگرد کے دیہات کے لوگ، جنہوں نے اخبار نہیں پڑھے تھے، ایسی کسی بھی بات سے واقف نہیں تھے۔ گاؤں کے باہر بچے کرکٹ کھیل رہے تھے، لوگ چوپالو پر بیٹھے تھے پہلی نظر میں سب کچھ بالکل معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ 'گاؤں کے مسلمانوں نے اجتماعی نماز پڑھ کر نئی روایت ڈالی ہے جس سے اکثریتی ہندو ناراض ہیں۔

تقریباً تین ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں ڈھائی ہزار ہندو ہیں جن میں زیادہ تر جاٹ ہیں جبکہ پانچ سو مسلمان ہیں جو پسماندہ ذاتوں سے ہیں۔ گاؤں کے ہی کنور سنگھ بتاتے ہیں، سكت پور میں کبھی کسی طرح کا مسئلہ نہیں رہا سب لوگ مل جل کر رہتے تھے لیکن اب مسلمانوں نے نئی مسجد بنانی شروع کی ہے اور ہندو اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ مسجد نہ بنائیں، اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں تو پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا'۔ گاؤں کے ہی ایک کنارے پر مسلم خاندان رہتے ہیں یہیں ایک مسجد ہے جس پر مینار نہیں ہے اور جو باہر سے دیکھنے میں گھر جیسی لگتی ہے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد گزشتہ چار پانچ سال سے ہے جبکہ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے چھپ چھپ کر نماز پڑھنی شروع کی اور اب مسجد بنا رہے ہیں، اور وہ یہ مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ فی الحال 'مسجد' کے باہر پی اے سی کے جوان تعینات ہیں، یہاں عبادت بند ہے اور رمضان کے مہینے میں گاؤں کے مسلمان باجماعت نماز ادا نہیں کر پا رہے۔ 75 سالہ بدلو سكت پور گاؤں میں ہی پیدا ہوئے اور پوری زندگی اسی گاؤں میں گزار دی لیکن اب وہ نماز نہ پڑھنے کے سبب اداس ہیں. وہ کہتے ہیں، 'ہم نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں، کہیں آ جا بھی نہیں سکتے، بہت پریشانی ہے'۔

کشیدگی والے دن کو یاد کرتے ہوئے بدلو کہتے ہیں، 'جس وقت ایک ہجوم حملہ کرنے چلآ رہا تھا تو گرام پردھان بادل سنگھ نے لوگوں کو روک لیا اور حالات بگڑنے سے بچ گئے'۔ بادل سنگھ کہتے ہیں، 'ہمیں تو دونوں طرف کی بات سننی پڑتی ہے، کوشش یہی ہے کہ امن کے ساتھ یہ تنازعہ حل ہو جائے اب معاملہ انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے جیسے افسر چاہیں گے ویسے ہو جائے گا'۔ گاؤں کے کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جب مسجد بنی تو ہندوؤں نے بھی چندہ اور تعاون دیا وہ دعوی کرتے ہیں کہ یہاں چار پانچ سالوں سے نماز پڑھی جا رہی ہے اور اس سے پہلے کبھی کسی طرح کی مخالفت نہیں ہوئی۔

65 سالہ نسرو کہتے ہیں، 'یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے، کیا ہم ان کی مرضی کے بغیر یہاں مسجد بنا سکتے تھے؟ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ دیا، کہا کہ تم غریب لوگ ہو تمہارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ امن تھا، اب پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا ہے'۔ نسرو کے سوال کا جواب 24 سالہ ریاست نے دیا، اب حکومت بدل گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اب ہماری حکومت ہے اور جو ہم چاہتے ہیں وہی ہو گا'۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے نسرو نے کہا، 'وہ کہتے ہیں کہ اب ہمارا ماحول آ گیا ہے، تمہارا گیا اب حکومت ہماری ہے، تمہیں نماز نہیں پڑھنے دیں گے'۔ 70 سالہ للو ٹھیکیدار جو پوری زندگی اسی گاؤں میں ہندوؤں کے درمیان گھل مل کر رہے ہیں، کہتے ہیں،' کچھ لوگ تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ نماز بند ہونے سے ہمارا خون بڑھ رہا ہے' ہم چپ ہیں کیونکہ ہم تھوڑے لوگ ہیں کیا کر سکتے ہیں'۔

جہاں مسجد ہے وہ جگہ کبھی گاؤں کے ہی دیوراج سنگھ کی تھی جنہوں نے اسے مسلمان خاندانوں کو فروخت کیا تھا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ بھی دیا تھا دیوراج کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے زیادہ تر ہندو اچھے ہیں اور انہوں نے انہیں کبھی پریشان نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ سے مدد کرتے رہے ہیں لیکن اب ان اچھے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ اس پر نسرو کہتے ہیں، 'وہ اب خاموش ہو گئے ہیں کیونکہ چند فسادی لوگوں نے انہیں ڈرا دیا کہ اب ہماری حکومت ہے۔ ویسے بھی جو بھلے آدمی ہوتے ہیں وہ کسی جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے۔

گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک سكھپال سنگھ رانا نے گاؤں کے ہندوؤں کو بھڑکایا ہے بنیادی طور پر مظفر نگر کے رہنے والے سكھپال سنگھ رانا پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور وہ فی الحال اس علاقے سے دور ہیں۔ لوگوں کے موبائل میں واٹس ایپ کے ذریعہ کچھ ویڈیو شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں رانا سكت پور میں ہجوم کی قیادت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو اشتعال انگیز نعرے بازی کر رہا ہے۔ رانا نے سكت پور میں مہا پنچایت بھی بلائی تھی جسے پولیس نے نہیں ہونے دی۔ امروہہ کے علاوہ پولیس اہلکار برجیش سنگھ کہتے ہیں کہ رانا کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔
پولیس نے گاؤں کی کچھ مسلم خواتین پر بھی ماحول خراب کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے ان خواتین کو یہ پتہ نہیں ہے کہ ان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں۔

40 سالہ شاہجہاں کہتی ہیں، 'نہ ہم کسی سے لڑے نہ ہم نہ کسی سے کچھ کہا، ہم تو مسجد گئے تھے ہم روزے سے ہیں اور ہمارے گھر والے نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "رمضان کا مہینہ ہے، ہم صحیح سے روزہ بھی نہیں کھول پا رہے ہیں نہ اذان کی آواز آ رہی ہے تراویح کی نماز بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ، پاکستان چلے جاؤ، کیوں چلے جائیں جب ہمیشہ سے ہم یہیں رہتے آئے ہیں۔' پورے معاملے میں ہندو کمیونٹی کا موقف رکھتے ہوئے گاؤں کے ہی مدن پال سنگھ کہتے ہیں، 'مسلمان پہلے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے تھے. ہمیں کوئی دقت نہیں ہے لیکن اب وہ گاؤں میں مسجد بنا کر نئی روایت ڈال رہے ہیں جسے ہم نہیں ہونے دیں گے '۔

وہ کہتے ہیں، 'گاؤں میں کبھی مسجد تھی ہی نہیں، اس سال ہی انہوں نے ایک کمرے کو مسجد کی شکل دے کر نماز پڑھنی شروع کی ہے ان کے پاس کوئی اجازت نہیں ہے انتظامیہ سے اجازت لے آئیں اور بنا لیں آپ مسجد'۔ سال 2000 میں منظور ہونے والے مذہبی مقامات سے قانون کے تحت کسی بھی مسجد کی تعمیر کے لیے ضلع انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہے۔ گاؤں کے مسلمان سوال کرتے ہیں، 'جب گاؤں میں چار نئے مندروں کی تعمیر پر کوئی تنازعہ نہیں ہے تو ہماری مسجد پر ہی تنازعہ کیوں؟

دلنواز پاشا
بی بی سی ہندی، نئی دہلی
 

No comments:

Powered by Blogger.