Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں فن تعمیر کی ابتدا

پاکستانی فن تعمیرات کے سفر کا آغاز مغلیہ دور کے تعمیراتی ورثے سے اور برطانوی نو آبادیاتی دور حکومت میں ہوا تھا۔ آزادی کے فوراً بعد تعمیراتی ماحول پر غیر ملکی نقوش بہت زیادہ نمایاں تھے۔ اس دور کے ماہرین تعمیرات مثلاً ایم اے احمد، ایچ ایچ خان، ایم اے مرزا، عبدالحسین تھاریانی اور ظہیر الدین خواجہ 1950ء کے نو آبادیاتی تعمیراتی نظرئیے سے بہت متاثر تھے۔ ان کے بنائے گئے عمارتوں کے ڈیزائنوں میں نوآبادتی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔ ان ماہرین تعمیرات میں پچاس کی دہائی کے ایک معروف ماہر تعمیرات مہدی علی مرزا اسی خصوصیت کے ساتھ فن تعمیرات کے افق پر نمودار ہوئے اور اپنے کام میں اسلوب اور بناؤکا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بہت قلیل عرصے کام کیا تاہم فن تعمیرات پر بہت مستحکم اور بے باک اثرات مرتب کئے۔ فن تعمیرات سے متعلق ان کا تصور فطری طور پر جیتا جاگتا تھا اور اس کا مظاہرہ انہوں نے بابر علی کرنل عابد اور قزلباش کے گھروں کی تعمیر کے ذریعے کیا۔ ان منصوبوں میں بنیادی خیال، فرد، فطرت اور ماحول کو یکجا کرنے میں مضمر تھا۔ ان کے تمام تصورات میں جدید تحریک کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ظہیر الدین خواجہ، یورپ سے متاثر ہونے والے ایک اور ہم عصر ماہر تعمیرات ہیں جنہوں نے مہدی علی مرزا کی طرح اس اسلوب تعمیرات کو مزید نکھارا۔ 1960ء کی دہائی میں فن تعمیرات کے فلسفے نے ایک نیا موڑ لیا اور اس کی باگ ڈور نئی نسل کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ یہ عرصہ سماجی و ثقافتی اور ڈیزائنوں کی تخلیق کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے یہ فن تعمیرات کا سنہرا دور تھا کیونکہ ساٹھ کی دہائی میں بہت بڑے ماہرین تعمیرات نیر علی دادا، نقوی صدیق، رحمٰن خان، جاوید نجم، حبیب فدا علی، کامل خان، ممتاز، یاسمین لاری، انور سعید اور دیگر بہت سے ماہرین تعمیرات نے جنم لیا جو ہمارے موجودہ فن تعمیرات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان تمام جواں عزم ماہرین تعمیرات میں کامل خان ممتاز نے اپنے کام میں بڑی مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے اپنے پیشے کا آغاز مخصوص نظرئیے کے ساتھ کیا اور اپنے احساسات کو مغلیہ فن تعمیرات کے ساتھ منسلک کیا اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں وہ اپنے اس مخصوص نظرئیے سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ انہوں نے بے شمار ڈیزائن تخلیق کئے جن میں انہوں نے مغل تعمیرات کی تفصیلات اور نزاکتوں کو واضح طور پر دکھایا۔ کامل خان ممتاز کے فن تعمیرات کا فلسفہ اجتماعیت کے تصورات پر مبنی نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے کام میں ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی تمام عمارتوں میں خواہ وہ رہائشی ہوں یا ادارتی ایک انفرادیت نظر آتی ہے اس کی ایک واضح مثال چاند باغ اسکول شیخوپورہ کی عمارت ہے۔ 

دوسری طرف بہت سے ماہرین تعمیرات جدید تحریک کے نظرئیے پر کام کر رہے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنے کام کے ذریعے کیا اس ضمن میں کراچی کی صف اول کی ماہر تعمیرات یاسمین لاری نے مختلف تجربات کیے۔ ان کی نقشہ نویسی کا خیال جدید تحریک کی بنیاد پر مبنی تھا انہوں نے عمارتوں کی تعمیر میں سادگی پر زور دیا۔ کراچی میں تعمیر کی گئی لاری کی رہائش گاہ فن تعمیر کا ایک حسین نمونہ ہے۔ لیکن اس کا تمام تصور لی کار بوریس کے مقصدی اسلوب سے متاثر تھا جس میں عقلیت پسندی کو دیکھایا گیا تھا۔ اسی قسم کا مظاہرہ کراچی میں کموڈور حق کی رہائش گاہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

شیخ نوید اسلم


 

No comments:

Powered by Blogger.