Header Ads

Breaking News
recent

سقوط غرناطہ

غرناطہ کے آخری مسلم تاجدار ابو عبداللہ کی فوج شکست کھا چکی تھی۔ ابو عبداللہ اپنی جان بچا کر شاہی محلات سے دوڑا۔ اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا ’’سات سو سال تک ہسپانیہ پر حکومت کرنے کے بعد میں ایک گدا گر کی طرح غرناطہ کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ رہا ہوں‘‘ ۔ شکست خوردہ تاجدار کی کوئی منزل مقصود نہ تھی۔ وہ لکڑی کے اس ٹکڑے کی مانند تھا جو سمندرکی موجوں کے رحم وکرم پر ہو۔ ابوعبداللہ ایک پہاڑی پر رکا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ الحمرا ! دنیا کی یہ حسین ترین عمارت ابوعبداللہ کو واپس نہ بلا سکی۔ حسین و جمیل عمارتیں بنانا اور پھر ان کے تحفظ کی قوت کھو دینا کیا کم عبرتناک ہے؟ ابوعبداللہ کی تلوار کند ہو چکی تھی۔

ایک ہارا ہوا بادشاہ، الحمرا پر اس کی آخری نگاہ تھی۔ اس کی آنکھیں پرنم تھیں۔ وہ رو رہا تھا۔ بچوں کی طرح! انسانی تقدیر آنسوئوں سے نہیں بدل سکتی! ’’میرے لال تم جس الحمرا کی حفاظت مردوں کی طرح نہ کر سکے، اس پر عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا حاصل؟‘‘: ابو عبداللہ کی ماں نے کہا۔ جس پہاڑی پر ابو عبداللہ نے آنسو بہائے تھے وہ آج تک ’’مور کی آخری آہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سفر کی دشواریوں کے باوجود وہ ساحلِ افریقہ پر پہنچ گیا۔ قرطا جینوں، رومیوں اور گاتھوں کے بعد عربوں نے ہسپانیہ پر قبضہ کیا۔ عربوں نے خاک اندلس کو عروج وارتقاء کی اس بلندی پر پہنچا دیا جوا س سے پہلے اسے نصیب نہ تھی۔ عربوں نے ہسپانیہ کے طول وعرض میں محلوں، مسجدوں، مدرسوں، حماموں، ہسپتالوں، نہروں اور پلوں کا ایک وسیع سلسلہ قائم کیا۔ ہسپانیہ کو منطقہ حارہ کے پھلوں اور سبزیوں سے پہلی مرتبہ روشناس کرایا۔ 

کاغذ اور شکر بنانے کے کارخانے قائم کئے۔ جب یورپ کے دوسرے ملکوں میں کلیسائوں کے علاوہ کہیں کتاب دکھائی نہ دیتی تھی اس وقت قرطبہ اور غرناطہ کے بازاروں میں قاہرہ اور بغداد کے ارباب فکر کی تازہ ترین کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ شاہی کتب خانہ میں چار لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔ عوام ان کتابوں سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ عربوں نے ہسپانیہ میں سونے اور چاندی کی نئی کانیں دریافت کیں۔ ہسپانیہ میں ریشمی، سوتی اور اونی کپڑوں کے بیشمار کارخانے تھے۔ ان کارخانوں کے بنے ہوئے کپڑے قسطنطنیہ (استنبول) پہنچ کر دینیوب کے ذریعہ مشرقی یورپ میں فروخت ہوتے۔ 

جس زمانہ میں انگلستان کا پادری لاطینی کے دوجملوں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ نہیں کر سکتا تھا اور جب اٹلی میں ہراس پادری کو جادوگر خیال کیا جاتا تھا جسے ریاضی کے چند ابتدائی قاعدوں کا بھی علم ہوتا، اس زمانہ میں ہسپانیہ ہی تنہا یورپی ملک تھا جس میں ہر بچے کے لئے ابتدائی تعلیم لازمی تھی اور جس کے ہر شہر میں ایک پبلک لائبریری تھی اور جہاں ہر شخص کو کتابیں جمع کرنے خبط تھا۔ جہاں کی عورتوں نے صرف و نحو اورشعروشاعری میں نام پیدا کیا۔ ہسپانیہ کے سائنس دان کیمیائی تجربوں میں مصروف رہتے۔ رصدخانوں میں سیاروں کی گردش کا مطالعہ کیا جاتا۔ جہاں ہوائی جہازوں کے تجربے کئے جا رہے تھے۔ جس کی دانش گاہوں میں دینیات، ادب، طب، ہیئت، ریاضیات، فلسفہ،تاریخ قانون، کیمیا اور طبیعات کادرس دیا جاتا تھا۔

باری علیگ
 

No comments:

Powered by Blogger.