Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان اب ایران کے نشانے پر بھی ؟

پاکستان کو ایران سے دھمکی ملی ہے، یہ دھمکی سرجیکل اسٹرئیک کی ہے، ایرانی افواج کے سربراہ نے یہ دھمکی دی ہے، پتہ نہیں ایرانی حکومت ا ور میڈیا نے اپنے کمانڈرا نچیف پر اعتراض کیا ہے کہ نہیں کہ آپ کون ہوتے ہیں ، ایک دوست اسلامی برادر ملک پاکستان کو دھمکانے والے اور ایسا خوفناک بیان جاری کرنے والے، یہ بیان ایران کی حکومت دیتی تو ہم سمجھتے کہ یہ ایران کی پالیسی کا حصہ ہے مگر کیا پتہ کہ ایرانی آرمی چیف نے اپنی طرف سے بڑ ہانک دی ہو اور اب انہیں اپنے فارن آفس یا پارلمنٹ یا میڈیا یا صدر ممکت کے سامنے پیش ہو کر وضاحتیں کرنا پڑ جائیں۔ پاکستان میں فوج نے ایک ٹویٹ کیا تو لوگ اسکی جان کو آ گئے کہ دیکھو حکم عدولی ہو گئی، چین آف کمانڈ خراب ہو گئی ، بلا تاخیر اسے زہر قاتل قرار دے ڈالا۔

مگر جب پاکستان کے خلاف بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں کہ پاکستان پر فوج کشی نہیں کریں گے، انہی کے آدمی کرائے پر لے کر ان کا خون بہائیں گے۔ تو کیا بھارتی حکومت یا سول سوسائٹی نے اسے برا بھلا کہا۔ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہوا تو ہم اس کے خلاف کاروائی کریں گے اور پھر چند برس بعد یہ دھمکی حقیقت میں بدل گئی، بش نے اور اوبامہ نے کہا کہ جہاں کہیں کسی امریکی کی جان کو خطرہ ہوا تو اس ملک کے خلاف ایکشن لیں گے اور امریکہ پچھلے پندرہ برس سے پوری دنیا کو نشانہ بنا رہا ہے، بھارتی حکومت نے اوڑی سانحے کے بعد دھمکی دی کہ وہ سرجیکل اسٹرائیک کریں گے اور پاکستان کے اند ر جہادی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے، اور پھر انہوں نے دعوی کر دیا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک ہو گئی، یہ اسٹرائیک ایک معمہ بن گئی کہ ہوئی یا نہ ہوئی مگر بھارتی حکومت دنیا کے سامنے سچی ہو گئی کہ    اسنے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا، اب وہی دھمکی، اسی ہی زبان میں ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کو دی ہے، یہ سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی ہے، اس کے دو حصے ہیں کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے جو ایران میں کارروائیاں کرتے ہیں اور گر پاکستان نے خاموشی اختیار کی تو ایران ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔
سرتاج عزیز نے رسمی طور پر کہہ دیا کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے مطلع کرو، ہم کاروائی کریں گے مگر ایران ا س پر مطمئن نہیں ہو گا، ہم نے ہمیشہ کہا کہ گڈا ور بیڈ طالبان کی تمیز کئے بغیر ضرب عضب کا آپریشن کر رہے ہیں مگر امریکہ ہماری بات پر یقین نہیں کرتا، امریکہ تو خیر اس معاملے میں حریف ہے، خود ہمارا میڈیا اور ہماری سول سوسائٹی نہیں مانتی اور اس کا الزام ہے کہ ہم حقانی گروپ کی پشت پناہی کر رہے ہیں ، ڈان لیکس کا سارا  جھگڑا ہی اسی بنیاد پر ہے، ہم گھر پھونک تماشہ دیکھنے والی قوم بن گئے ہیں، آپس میں جو تم پیزار چلتی رہتی ہے اور باقی کسر بھارت، افغانستان اور ایران نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں جھگڑا ہی یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں یا عالمی برادری میں کس نے تنہا کیا، مگر یہ تنہائی صاف نظر ا ٓ رہی ہے، مودی نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کو تنہا کر کے رکھ دے گا، اندرا گاندھی نے بھی ستر اکہتر میں پہلے تو پاکستان کو یکہ و تنہا کیا، اسے عالمی تنہائی کا شکار کیا اور پھر پاکستان کو شکار کیا۔ کیا یہ ڈرامہ پھر دہرایا جانے والا ہے۔ خدا نخواستہ!! اور ا س کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایران کے آرمی چیف کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے تھی، انہیں ایک نظر پاک ایران تعلقات کی طویل تاریخ اور مشترکہ تہذیبی ا ور ثقافتی رشتوں پر بھی ڈال لینی چاہئے تھی، سارے مسئلے دھمکیوں اور سرجیکل اسٹرائیکوں سے حل نہیں ہوتے، اگر پاکستان پر ایران نے سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ ایران کو پاکستان کی دفاعی قوت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ایران اس بھول میں نہ رہے کہ پاکستان میں سیاسی سطح پر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے مگر وہ یاد رکھے کہ ہماری دفاعی پالیسی ایک طے شدہ امر ہے ا ور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

افغانستان نے دانت دکھانے کی کوشش کی تو منہ کی کھائی ، وہ طورخم بارڈر پر لڑا، اب چمن بارڈر پر لڑا، مگر وہ پاک فوج کے حملے کی تاب نہیں لا سکا ، اب ایہ الگ بات ہے کی امریکی ا ور نیٹو افواج ا س کی مد د کو میدان میں نکل آئیں ۔ یہ ایک تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گا ، پاکستان کے ساتھ چین ہو گا، روس ہو گا، واقعی سے پاکستان تنہا نہیں ہو گا اور یہی جو سیاسی جماعتیں چونچیں لڑا رہی ہیں، یہ اکٹھی نظر آئیں گی، کیا آرمی پبلک اسکول کے خلاف دہشت گردی کے بعد پاکستان میں اتحاد نہیں ہوا۔ بالکل ہوا۔ کیا کراچی آپریشن پر پورا ملک خوش نہیں، باکل خوش ہے اور مطمئن ہے اور ہر کسی نے سکون کا سانس لیا۔

ایران کی پاکستان سے لڑائی بنتی نہیں، اس سے ایک غلطی ہو گئی کہ کل بھوشن اس کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے آتا جاتا رہا۔ تو کیا ایران اس غلطی پر اڑنا چاہتا ہے، کیا ملے گا یہ اڑی کر کے۔ ایران کے سورما تاریخ میں مشہور ہیں مگر پاکستان گیدڑوں کا ملک نہیں، پاک فوج کا ایک ایک سپاہی اور افسر سورما ہے۔ وہ داد شجاعت دینے میں کسی سے پیچھے نہیں، ایران نے بلا شبہہ عراق سے برسوں تک لڑائی کی مگر پاکستان کوعراق نہ سمجھ لیا جائے، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، ایران کا دوست ملک ہے، ہمسایہ ہے اور اسلامی رشتوں میں بندھا ہوا ہے، پاکستان کوکوئی ضرورت نہیں کہ اپنے ہمسائے سے چھیڑ چھاڑ کرے، دشمن قوتیں ضرور پاکستان سے آپریٹ کرتی ہوں گی اور ایران کو نقصان پہنچا رہی ہوں گی مگر پاکستان کی د شمن قوت بھارت تو علانیہ طور پر ایران سے کاروائیاں کرتی ہے ا ور ایک طوطا کل بھوشن ساری کہانی اگل چکا ہے، ایران کو ا س پر ندامت کا اظہار کرنا چاہئے اور اگرا سے کوئی اور حقیقی مسئلہ درپیش ہے تو اچھے ہمسایوں کی طرح مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہئے ۔

 اسد اللہ غالب 
 

No comments:

Powered by Blogger.