Header Ads

Breaking News
recent

کیا میں کوئی جانور تھا ؟ کشمیری نوجوان کا سوال

گذشتہ ماہ ایک کشمیری نوجوان کو جیپ سے باندھ کر ڈھال بنانے والے بھارتی فوج کے میجر نیتن گوگوئی کو خصوصی سرٹیفکیٹ سے نوازے جانے کے بعد ان کی بے حسی کا نشانہ بننے والے فاروق ڈار کا صرف ایک ہی سوال ہے کہ کس ملک کا قانون انسانوں کا ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے فاروق ڈار کا کہنا ہے کہ 'اگر ایسا کرنا بھارت کے کسی قانون کے تحت درست ہے تو میں کیا کہوں؟'

بھارتی ویب سائٹ سے گفتگو میں کشمیری نوجوان نے کہا 'میں ڈنڈا اٹھا کر اُن لوگوں کے پیچھے نہیں جا سکتا جو میرے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے والے فوجی افسر کو اعزاز سے نواز رہے ہیں'۔ تاہم فاروق ڈار کا انسانیت کے بارے میں اٹھایا جانے والا سوال کافی کڑا ہے، وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 'کیا میں کوئی بھینس تھا یا بیل تھا؟، کیا میں کوئی جانور تھا جو مجھے جیپ کے بونٹ کے آگے باندھ کر نمائش کی گئی؟' یاد رہے کہ گذشتہ روز فاروق ڈار کو ڈھال بنا کر جیپ سے باندھنے والے میجر گوگوئی کو بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف نے علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشنز میں مستقل کوششوں پر ایوارڈ سے نوازا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی آرمی کے جنرل بپن راوت نے رائفل برانچ کے میجر گوگوئی کو کمنڈیشن کارڈ دیا تھا۔

بھارتی فوج کے مطابق میجر گوگوئی کو ایوارڈ دینے کی وجہ نوجوان کو جیپ سے باندھنا نہیں تاہم حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانگریس کے مطابق میجر کو اس اعزاز سے نوازا جانا اس حرکت کو نظرانداز کرنے اور حمایت کے مترادف ہے۔ اعزاز کے اعلان کے بعد کانگریس کے ترجمان جنید مٹو کا کہنا تھا، 'آپ اپنی عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی نہیں کر رہے اور ایسے شخص کو نواز رہے ہیں جس کے خلاف انسانی ڈھال استعمال کرنے کی تحقیقات جاری ہیں'۔ ان کا مزید کہنا تھا 'معاملے کی انکوائری محض دھوکا ہے اور یہ حرکت کرنے والے افسر کو وزارت دفاع کی جانب سے کلین چٹ دی جا چکی ہے'۔

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کے مطابق میجر کو دیا جانے والا اعزاز کشمیریوں کے لیے کسی حیرانی کی بات نہیں، 'بھارتی فوج طویل عرصے سے کشمیر میں ایسا ہی کررہی ہے'۔ دوسری جانب فاروق ڈار کے مطابق ان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے، جس کی وجہ جسمانی گھاؤ سے زیادہ ذہنی صدمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، 'میرے پیروں اور پٹھوں میں اب بھی درد ہوتا ہے لیکن سب سے برا یہ ہے کہ میں اپنے گاؤں سے نکلنے کے قابل نہیں رہا، اگر مجھے گھر سے باہر بھی نکلنا ہو تو کسی کو ساتھ لے کر نکلتا ہوں'۔ گذشتہ ماہ 9 اپریل کو لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلنے والے فاروق ڈار کے ساتھ پیش آنے والے اس غیرانسانی واقعے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ 'میرا اپنے آپ سے وعدہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے دن کبھی گھر سے باہر نہیں نکلوں گا'۔ یاد رہے کہ 9 اپریل کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک کشمیری نوجوان کو بھارتی فوج کی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر گشت کیا جا رہا تھا۔

جس نوجوان کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنائی گئی تھی، اس کی شناخت 26 سالہ فاروق احمد ڈار کے نام سے ہوئی تھی، جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے انھیں موٹر سائیکل سے اتارا، اپنی گاڑی کے بونٹ کے سامنے باندھا اور کئی گھنٹوں تک گاؤں گاؤں گھماتے رہے۔ بھارتی میجر نیتن گوگوئی نے کشمیری نوجوان فاروق ڈار کو جیپ سے باندھ کر 10 کلو میٹر تک گشت کیا تھا اور اُس رات جب وہ گھر واپس آئے تو ان کا الٹا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.