Site is Related to Pakistan News, Pakistan Politics, Pakistan History and Pakistan Travel.

Breaking

Wednesday, May 3, 2017

اٹک کا تاریخی قلعہ

اگست1581ء میں ایک روز دوپہر مغل شہنشاہ اکبر نے ایک تقریب میں اٹک کے قلعہ کی بنیاد رکھی جب اس نے محمد حکیم مرزا گورنر کابل پر فتح پائی اس واقعہ کی یاد گار کے طور پر سنگ مرمر کی تختی پر فارسی شعر کندہ کیا گیا۔ جب سورج کی پہلی شعاع گیٹ پر پڑتی ہے تو یہ عبارت صاف پڑھی جاتی ہے۔ ابجد کے حساب سے اس قلعہ کی تاریخ 99 ہجری 1581ء نکلتی ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے متعدد مقاصد تھے ایک تو بیرونی شمالی حملہ آوروں کی دریا کے پاٹ سے عبور کرنے کی جگہ کی حفاظت، مستعدی اور دوسری وجہ مرزا محمد حکیم دودھ بھائی شہنشاہ اکبر جو اس وقت قابل کا گورنر تھا۔ بہار اور بنگال کی فتح کے بعد جو پہلے اکبر کے قبضہ میں تھیں مرزا محمد حکیم کے وزیروں نے اکبر کی غیر موجودگی میں اکبری علاقوں پر قبضہ کا مشورہ دیا۔

مرزا حکیم بنیادی طور پر کمزور آدمی تھا اور نہ ہی اتنے بڑے زرخیز علاقے پر حکمرانی کی صلاحیت اس میں تھی۔ یہ سب کچھ اگست 1581ء میں ہوا ۔ تب اکبر کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہاں دریائے سندھ کے کنارے شمالی حملہ آوروں کی روک تھام کے لیے ایک قلعہ ہونا چاہیے۔ یہ کام اکبر نے خواجہ شمس الدین خان کے سپرد کیا جو بعد میں پنجاب کا دیوان مقرر ہوا۔ اکبر کی ہدایات کی پیروی میں دو سال دو ماہ کی مدت میں قلعہ مکمل کر لیا۔ ملا عبدالقادر بدایونی لکھتے ہیں کہ ربیع الثانی 99ھ میں بادشاہ نے سندھ کے کنارے قلعہ کی تعمیر کا حکم دیا ۔ایک چھوٹا قلعہ جسے اٹک بیرص‘‘ کا نام دیا ایک اور کہانی جواس قلعہ کی تعمیر کی بابت ملتی ہے ، اکبر نے جب دیکھا کہ دریائے سندھ پار نہیں ہوتا تو اس نے اس جگہ کو ایک نام دیا، اٹک یعنی روک۔ جب اسے وہ پار کر گیا تو اس نے خیر آباد کا نام دیا۔ قلعہ کی تعمیر کے بعد اکبر نے پہلی بار قلعہ کو 1585ء میں دیکھا اور سال کا کچھ حصہ اس جگہ پر گزارا اور وہاں 1588ء میں دوبارہ گیا اور تانبے کے سکوں کی ٹکسال وہاں قائم کی۔ 

قلعہ اٹک دریائے سندھ کے کنارے راولپنڈی سے 58 میل اور 47 میل پشاور سے جرنیلی سڑک پر واقع ہے جہاں ریل کے ذریعے بھی پہنچا جا سکتا ہے۔ قلعہ سطح سمندر سے بلند ہے۔ جو ایک خطرناک علاقے اور دو چٹانوں کملیہ اور جلیلہ کے درمیان واقع ہے ان چٹانوں کا نام کمال الدین اور جلال الدین کے نام پر رکھا گیا جو روشنیہ فرقہ کے بانی کے دو بیٹے تھے جنہیں دریا میں سزا کے طور پر پھینکا گیا کیونکہ وہ اپنے باپ کے نظریات کا پرچار اکبر کے دور میں کرتے تھے۔ فن تعمیر کے لحاظ سے اٹک قلعہ واضح کرتا ہے کہ یہ خالصتاً فوجی مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا اس کی چار دیواری ایک میل چاروں اطراف سے ہے جو اٹھارہ برجوں کے ساتھ ملتی ہے ۔ تمام گولائی دار ہیں ماسوائے ایک کے جو زاویہ قائمہ پر ہے ایک گیلری ان برجوں کو آپس میں ملاتی ہے جس کے نیچے متعدد گارڈ رومز ہیں۔ قلعہ کے برج مقامی چٹانی پتھر سے بنائے گئے ہیں۔ جن پر چونے کی دبیز تہہ چڑھائی گئی ہے۔ داخلی دروازوں پر سرخ پتھر استعمال ہوا ہے جبکہ قلعہ کا دیگر حصہ لاجوردی ٹائیلوں سے بنا ہے ۔اس کا ڈیزائن ویلر نے اپنی کتاب Five Thousand Years of Pakistan میں دیا ہے۔ 

Post a Comment