Header Ads

Breaking News
recent

اقبال کی خود کشی کے ذمہ دار ہم ہیں

اقبال پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ تھا۔ اُس کی عمر 59 برس تھی۔ وہ وزارت داخلہ میں نائب قاصد کی نوکری کرتا تھا اور ریٹائرمنٹ میں اُس کا ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا تھا۔ وہ اسلام آباد میں ایک سرکاری کوارٹر میں رہائش پزید تھا۔ جیسے جیسے ریٹائرمنٹ کے دن قریب آ رہے تھے، اقبال کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اُس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ چھت رہے گی اور نہ ہی اتنا پیسہ ہو گا کہ کہیں کرائے پر گھر لے کر پنشن کے پیسوں سے گزارا کر سکے۔ ایسی حالت میں پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ کیسے نارمل رہ سکتا ہے۔ اسی فکر میں   اقبال اپنے بیٹے کو لے کر وزارت داخلہ پہنچتا ہے اور ایڈمن افسر کو درخواست دیتا ہے کہ اُس کے بیٹے کو نائب قاصد کی نوکری دے دی جائے تاکہ ایک طرف اُس کا خاندان بے روزگاری سے بچ جائیگا تو دوسری طرف وہ اور اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔

جنگ کی خبر کے مطابق متعلقہ سرکاری اہلکار نے اُسے قانونی پوزیشن بتائی کہ بیٹے کو باپ کی جگہ ملازمت اُسی صورت میں ملتی ہے جب باپ کا دوران ڈیوٹی انتقال ہو جائے۔ اس صورت میں باپ کو الاٹ کیا گیا سرکاری گھر بھی بیٹے کو الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر اقبال پاک سیکرٹریٹ میں وزارت داخلہ کے آر بلاک کی چھت پر پہنچا اور چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ خبر کے مطابق پولیس نے تصدیق کی کہ اقبال ذہنی دبائو کا شکار تھا اور ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو ملازمت دلانے کا خواہاں تھا تا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے پاس سرکاری چھت موجود رہے۔ اپنی زندگی کو ختم کر کے اقبال نے ہماری ریاست کے اُس قانونی جواز کو پورا کر دیا جس کی بنا پر اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔ 

خودکشی حرام ہے اور کسی صورت بھی اس طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا گناہ کا کام ہے لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس گناہ پر ہم نے اقبال کو مجبور کیا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اقبال کی زندگی کے خاتمہ کی ذمہ داری ہم پر، ہماری ریاست پر، ہماری حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور اس ملک کی اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ کیسا ملک ہے کہ اس کے وسائل کو اشرافیہ اور بااثر طبقات کے لیے تو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے لیکن غریب، بے گھر، لاچار کو دینے کے لیے ہماری ریاست کے پاس کچھ نہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہو گا کہ ریاست اشرافیہ کی ملی بھگت سے بڑے بڑے لوگ ملکی وسائل کو آپس میں بانٹ کھاتے ہیں، کروڑوں روپیے مالیت کے ایک ایک نہیں دو دو تین تین کنال کے حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے مہنگے ترین شہر میں پلاٹ الاٹ کیے جاتے ہیں لیکن اقبال جیسے غریب نائب قاصد کے لیے ریاست کے پاس ایک مرلہ زمین دینے کو نہیں۔ 

کوئی سات آٹھ سال پہلے جب میں نے بحیثیت صحافی حکومتی پالیسی کے تحت ملنے والے دو پلاٹ (ایک راولپنڈی اور دوسرا اسلام آباد میں) لینے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کو ایک درخواست دی کہ خدارا اس پالیسی کو بدلیں جس کے تحت ججوں، جرنیلوں، اعلیٰ سرکاری افسروں، صحافیوں سمیت با اثر طبقات پر ریاست کے وسائل نچھاور کیے جاتے ہیں تو اس پر مجھے خصوصاً اُس وقت کے صحافی تنظیموں کے کچھ رہنمائوں نے بُرا بھلا کہا، میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ حالانکہ میرا یہ کہنا تھا کہ اس ملک کے وسائل پر سب سے پہلا حق غریب اور بے گھر کا ہے نہ کہ بااثرطبقات کا۔ افسوس کہ میری کسی نے نہ سنی۔ میں نے اس معاملہ پر بہت لکھا لیکن نہ حکومت نے کچھ کیا، نہ عدلیہ بولی۔ پارلیمنٹ بھی خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ میڈیا نے بھی اس معاملہ میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

افسران سے تو کیا گلہ وہ تو ریاستی وسائل کو اپنا حق سمجھ کر فخر سے لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان غریب کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار میں آتے ہیں لیکن حکومت سنبھالتے ہی وہ خدمت صرف اشرافیہ کی ہی کرتے ہیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ پی پی پی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر ووٹ لیا لیکن غریب بچارے کو بے یار و مددگار مرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ ن لیگ نے بھی وعدے کیے کہ غریب کو گھر دیں گے، اُن کے لیے نوکریوں کے لیے انبار لگا دیں گے لیکن میاں نواز شریف صاحب کی حکومت بتا دے کہ انہوں نے کہیں غریب کے لیے چھت فراہم کرنے کا وعدہ کسی ایک شخص کے لیے بھی پورا کیا؟؟ ہم نے ریاست کو صرف اشرافیہ کی خدمت کے لیے متعین کر دیا ہے جبکہ غریب کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں۔ سرکاری پلاٹ، زرعی زمینیں، مہنگی مہنگی سرکاری گاڑیاں، ملک کے اندر اور بیرون ملک بہترین علاج، اعلیٰ تعلیم کے مواقع سب کچھ ریاست نے اشرافیہ کے لیے مختص کر دیا ہے۔ حال تو یہ ہے کہ ٹیکس بھی غریب سے لے کر امیر پر یہاں خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم میڈیا والے خاموش ہیں کیوں کہ ہم بھی اشرافیہ کا حصہ بن چکے۔ سوچتا ہوں کہ ہم اپنے رب کو کیا جواب دیں گے۔ آخر یہ ناانصافی کب اور کیسے ختم ہو گی۔

انصار عباسی
 

No comments:

Powered by Blogger.