Header Ads

Breaking News
recent

دیوان عام

دیوان عام کی تعمیر شہاب الدین شاہجہان کے حکم پر تخت نشینی کے اگلے سال
جلال الدین اکبر کے دولت خانہ خاص و عام کی جنوبی دیوار سے متصل اور مستی (مسجدی) دروازے کے مغرب میں 1628ء میں آصف خاں کی زیر نگرانی شروع ہوئی اور تین سال بعد 1631ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ دیوان عام سطح زمین سے تقریباً پانچ فٹ بلند سنگ سرخ سے بنائے گئے چبوترے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا طول 730 فٹ جبکہ عرض 460 فٹ ہے۔ دیوان عام کی تعمیر کے وقت اس کے چاروں طرف کمرے تھے۔ مشرق مغرب اور جنوب میں داخلی راستے تھے۔ آج ان کمروں کے نشانات تک باقی نہیں ہیں لیکن سنگ سرخ کے چالیس بلند ستونوں پر مشتمل کھلا ہوا دیوان عام ایک وسیع چبوترے پر اپنی جگہ قائم ہے دیوان عام کے چبوترے کے اردگرد سنگ سرخ کا خوبصورت جنگلہ تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کا کچھ حصہ باقی تھا مگر آج کل اس جنگلہ کو ازسرنو تعمیر کیا گیا ہے۔

دیوان عام کے شمال کی جانب تخت شاہی ہے۔ جسے جھروکہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ عہد مغلیہ میں یہاں بے شمار دفعہ جشن کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ دیوان عام کا مقصد تخت شاہی کے سامنے کھڑے ہونے والوں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس دیوان کے دائیں بائیں اور سامنے راستے تھے جن سے امراء، وزراء اور دیگر ملازمین داخل ہوتے تھے۔ دیوان عام میں بادشاہ سلامت تقریباًروزانہ جلوہ افروز ہوتا تھا۔ اس وقت مقابل کے نقارخانہ میں فوجی انداز میں نوبت بجتی۔ 1597ء میں شہنشاہ جلال الدین اکبر کشمیر سے واپس لاہور پہنچا تو اس وقت آگ لگنے سے دیوان عام کو بہت نقصان پہنچ چکا تھا۔ اکبر نے قلعہ لاہور کے دیوان کی دوبارہ مرمت کروائی۔
مشہور مورخ برنیئر کے مطابق دیوان عام کے تخت پر بیٹھے بادشاہ کے سامنے سے انسانوں، گھوڑوں اور ہاتھیوں کا جگمگاتا ہوا جلوس گزارا جاتا تھا۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت امور سلطنت میں مصروف ہو جاتا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں دیوان عام کا نام ’’تخت‘‘ رکھ دیا گیا۔ لیکن یہ سکھ حکمران خود شاہی تخت پر کسی وجہ سے کبھی براجمان نہ ہوا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد اس کی ارتھی جلائے جانے سے پہلے کچھ وقت کے لیے دیوان عام میں رکھی گئی۔ 1891ء میں سکھوں کی باہمی چپقلش کے نتیجے میں دیوان عام کو بہت نقصان پہنچا۔ 

سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بیوی مہارانی چند کور کے خلاف جب سکھ سردار شیر سنگھ نے بادشاہی مسجد کے میناروں سے زمبورک توپوں کے ذریعے گولہ باری کی تو دیوان عام کا بہت ساحصہ گر گیا جسے انگریزوں نے شاہی قلعہ لاہور پر تسلط حاصل کرنے کے فوراً بعد ہی ازسر نو تعمیر کیا۔ یہ نئی تعمیر انگریزی طرز تعمیر کے مطابق ہے۔ اس طرح اس عمارت کی مغلئی شکل تبدیلی ہو گئی۔ اور اس کی تمام محرابوں کو اینٹوں سے پُر کرکے ایک وسیع ہال میں تبدیل کر کے لکڑی کے تختے لگا کر کمرے بنا لیے گئے اور اسے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1927ء تک یہ عمارت بطور ہسپتال استعمال ہوتی رہی۔ 1927ء میں محکمہ آثار قدیمہ نے دیوان عام کو اپنی تحویل میں لے یا اور تمام اضافی تعمیرات کو ہٹا کر ایوان کو پھر کشادہ کر دیا گیا۔

جاوید اقبال

No comments:

Powered by Blogger.