Header Ads

Breaking News
recent

سوشل میڈیا کی شرانگیزی روکنا ضروری ہے ؟

تنقید اور تذلیل میں فرق ہے اور یہ فرق برقرار رہنا چاہیے۔ اعتراض اور دشمنی و بغض ایک جیسے نہیں اس لیے انہیں گڈ مڈ کسی بھی طور پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ رائے اور بہتان تراشی ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور انہیں مختلف ہی دیکھا جانا چاہیے۔ توہین اور سوال ایک جیسے نہیں، اس لیے توہین کو سوال یا کسی دوسرے بہانے کو justify نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ آزادی رائے کے نام پر توہین، بہتان تراشی، تذلیل، بغض و دشمنی سب کو جائز قرار دیتا ہے۔ ہمارا آئین اور ملکی قوانین مذہب، ریاست، ریاستی اداروں اور حتیٰ کہ عام شہریوں کے معاملات میں کچھ ریڈ لائنز واضح کرتا ہے جس کا مقصد آزادی رائے کے حق کو ذمہ داری سے ادا کرنا ہوتا ہے۔ 

کیوں کہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو معاشرے میں انتشاراور افراتفری پھیلے گی، خون خرابہ ہو گا، نفرتوں میں اضافہ ہو گا اور لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ ایسی ہی صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا کو سدھارنے کے لیے کچھ عرصے سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہمارے درمیان موجودایک طبقہ ہے کہ آزادی رائے کے نام وہ سوشل میڈیا کو ہر قسم کا فتنہ و فساد پھیلانے کی آزادی دینے کا حامی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جب توہین مذہب کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی تو یہ طبقہ خوش نہ تھا۔ اب فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں اور فوجی قیادت کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف جب ایف آئی اے نے پکڑ دھکڑ شروع کی تو پھر شور مچ اٹھا کہ سوشل میڈیا کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سے پکڑے گئے یا پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے افراد میں کچھ واقعی بے قصور ہوں لیکن اکثریت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ واقعی انہوں نے ریڈ لائنز کراس کیں۔ 

دی نیوزکے سینئر صحافی احمد نورانی کے مطابق پکڑے گئے افراد میں سے کچھ کو تو انہوں نے دو تین سال پہلے ٹیوٹر پر اس لیے بلاک کر دیا تھا کیوں کہ وہ نہ صرف انتہائی خطرناک حد تک دھمکیاں دیتے تھے بلکہ گندی اور غلیظ گالیاں دینے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نورانی کے مطابق ان افراد کا تعلق تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سے تھا۔ اب کسی کو ہراساں کرنا، دوسروں کی مائوں بہنوں کو گالیاں دینا، ریاستی اداروں کی ہرزہ سرائی کرنا، عدلیہ کا مذاق اڑانا اور سب سے اہم توہین مذہب جیسی شر انگیزی کرنا کہاں کی آزادی رائے ہے اور اس کا تنقید کے نام پر کیسے تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تو دوسروں کے نام پر جعلی فیس بک اور ٹیوٹر اکاؤنٹ بنا کر اس جعلسازی کے ذریعے اپنے اپنے ایجنڈے کو پورا کیا جاتا ہے۔ 

کچھ عرصہ قبل مجھے ایک صاحب ملے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ فیس بک کے ذریعے میرے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میرا تو کوئی فیس بک اکاونٹ نہ کبھی تھا نہ ہے۔ ان صاحب نے کہا میرے حوالے سے بنائے گئے اس اکاؤنٹ میں تو ایک فرقہ کے خلاف بہت کچھ لکھا جاتا ہے۔ اُن صاحب کی بات سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔ میں نے فوری اپنے ایک دوست کے ذریعے چیک کروایا تو پتا چلا کہ میرے نام سے چھ یا سات فیس بک اکاؤنٹ چل رہے تھے جو سب کے سب جعلی تھے۔ میں نے پی ٹی اے سے رابطہ کیا اور ان تمام فیس بک اکاونٹس کو بلاک کروا دیا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد پھر کوئی چار پانچ جعلی فیس بک اکاؤنٹ میرے نام کے کھل گئے جن کو بند کروانے کے لیے حال ہی میں، میں نے دوبارہ پی ٹی اے سے درخواست کی۔ 

یہاں یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اپنی جگہ لیکن اس کا منفی استعمال پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جسے روکنے کے لیے حکومت کو ہر حال میں اپنا کردار کرنا پڑے گا جو افراد سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی قسم کی فتنہ انگیزی میں مصروف ہیں انہیں پکڑ کر سزا دی جائے تا کہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے خیالات شئیر کرنے کا پابند بنایا جا سکے۔ بغیر ذمہ داری کے آزادی رائے کا کوئی تصور نہیں۔ سوشل میڈیا کو سدھانے کے سلسلے میں وزیرداخلہ کا کردار بہت مثبت رہا جس پر انہیں سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کو فری ہینڈ دینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو کھلی چھٹی دے دیں کہ وہ اپنے پروپیگنڈہ اور جھوٹ کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے جیسے جی چاہے سازشیں بنتے رہیں۔ اپنے آپ سے اس سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے؟؟

انصار عباسی

No comments:

Powered by Blogger.