Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی پہاڑوں کی شہزادی راکا پوشی

ہم نے پیچھے دیکھا تو ٹھٹک گئے۔ برف پوش چوٹیوں کی خوبصورت قطار منظر پر چھائی ہوئی تھی جو کافی دور تھی، لیکن ہمارے عقب میں موسم صاف اور چمکیلا تھا اس لئے واضح تھی۔ ڈرائیور ہماری محویت پر کچھ حیران تھا۔ ’’یہ کونسی چوٹی ہے۔ ‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’یہ کئی چوٹیاں ہیں ہاراموش، دیراں ،راکا پوشی اور پتہ نہیں کون کون سی ‘‘ ’’راکا پوشی !‘‘ میں نے زیرِ لب دوہرایا۔ راکا پوشی۔۔۔ پاکستان کے پہاڑوں کی شہزادی اور سلسلۂ قراقرم میں میری پہلی پسند۔

کوئی اپنی پہلی پسند کو اتنی جلدی بھول جایا کرتا ہے؟ زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا۔ کل ہی کی تو بات ہے۔ صرف پانچ سال پہلے کریم آباد کی ایک خوبصورت صبح تھی اور میں شہر سے باہر ایک چھوٹی سی پہاڑی کی چوٹی پر بے حس و حرکت کھڑا راکا پوشی کی دلکشی او ر رعنائی کو آنکھوں کے رَستے دِل میں بساتے ہُوئے عہدِ وفا استوار کر رہا تھا۔ اسے ہمیشہ یاد رکھنے کا وعدہ تو مجھے یاد تھا لیکن خود اسے میں نے بھلا دیا تھا۔ راکاپوشی کا نقش تو نا پائیدار ہو ہی نہیں سکتا، جذبہ کی سچّائی ہی مشکوک تھی! ہم نے اس خوبصورت منظر کی کچھ تصاویر لیں اور دوبارہ روانہ ہو گئے۔ ہم تاتو گاؤں کے قریب پہنچنے والے تھے اور ہم نے رائے کوٹ پل سے یہاں تک کسی بھی قسم کے سائے یا پانی کا نشان تک نہ دیکھا تھا۔

بے آب و گیاہ چٹیل پہاڑ اور اِنہی پہاڑوں سے لڑھک کر نیچے آئے ہوئے چٹان نما پتھر یا پتھر نما چٹانیں۔ دیکھنے کو اور کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اِس راستے پر ہم نے ایک ضعیف العمر مقامی شخص کو دیکھا، وہ اپنی کمر پر غالباً گندم کی بوری اٹھائے ہوئے اپنی لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ لیکن یکساں رفتار سے فاصلہ طے کر رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر چلتا، پھر کسی بڑے پتھر پر بوری کا وزن منتقل کر کے چند منٹ سانس لیتا اور دوبارہ سفر شروع کر دیتا۔ جب یہ سڑک نہیں بنی تھی تو ٹریکرز اور مقامی لوگ پیدل ہی رائے کوٹ پل سے تاتو گاؤں تک آتے تھے اور دروغ بر گردن ’’تارڑ صاحب ‘‘ کئی ٹریکرز صرف اس لئے دار فانی سے کوچ کر گئے کہ انہوں نے رائے کوٹ پل سے کوچ کرتے وقت پانی کا کافی ذخیرہ ساتھ لانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ہم تاتو گاؤں کے پاس سے گزر رہے تھے جو درختوں کے تنوں اور پتھروں سے بنے چند جھونپڑوں پر مشتمل تھا۔

تاتو کا اصل اور مقامی تلفظ ’’ تَتَّو ‘‘ ہے جس کے معنی گرم کے ہیں۔ ایک جگہ سے بھاپ کے مرغولے اٹھ رہے تھے جو کافی بلندی تک جا رہے تھے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ گرم پانی کا چشمہ ہے اور یہی تتّو نام کی وجہ تسمیہ ہے۔ اس کے بقول اگر مرغی کے انڈے کو کپڑے میں باندھ کر چشمے میں رکھ دیا جائے تو دو منٹ میں وہ فل بوائل ہو جاتا ہے۔ سڑک نہیں بنی تھی تو پید ل راستہ چشمے کے قریب سے گزرتا تھا اور یہ جگہ ایک مصروف کیمپنگ سائٹ تھی۔ چشمے کے کنارے ہر وقت کافی رش رہتا تھا۔ غیر ملکی ٹریکر اور ٹریکریاں چشمے کے پانی کو بالٹی میں ٹھنڈے پانی سے ملا کر نہاتے تھے تو مقامی لوگ یہ منظر دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ جیپ روڈ نے سفر آسان اور مختصر کر دیا تھا، پورے ایک دن کا ٹریک کم ہو گیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی تاتو گاؤں کے گرم پانی کے چشمے کا اعزاز بھی چھن گیا تھا۔

ڈاکٹر محمد اقبال ہما





No comments:

Powered by Blogger.