Header Ads

Breaking News
recent

عرب ایران تنازع : پاکستان کیا کرے؟

سعودی عرب کی زیرسرپرستی اسلامی ممالک کا جو اتحاد بن رہا تھا، اس سے متعلق 14جنوری 2017 کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’راحیل شریف اور عرب اتحاد ‘‘ کے زیرعنوان ’’جرگہ‘‘ میں عرض کیا تھا کہ : 

’’دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ اتحاد بظاہر سعودی بنا رہے ہیں لیکن اصل سرپرستی امریکہ کر رہا ہے ۔ حکومت پاکستان اور دیگر ممبر ممالک کے ساتھ سعودی عرب نے جو خط و کتابت کی ہے ‘ اس میں بھی امریکی کردار کا ذکر موجود ہے ۔‘‘
لیکن ہمارے حکمران تسلسل کے ساتھ میرے اس دعوے کو جھٹلا کر کہتے رہے کہ اس اتحاد کے ساتھ امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ۔ اب جب اس کے تاسیسی اجلاس کا نام عرب اسلامک امریکہ سربراہی کانفرنس قرار پایا تو بلی تھیلی سے باہر آ گئی ۔ اسی طرح ہمیں بتایا جاتا رہا اور تسلسل کے ساتھ بتایا جاتا رہا کہ اس اتحاد اور اس کے تحت تشکیل پانے والی فوج ، جس کی سربراہی یا مشاورت کے لئے جنرل راحیل شریف سعودی عرب گئے ہیں، کا ایران سے کوئی سروکار نہیں لیکن کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کی نہ صرف چار شقوں میں ایران کا ذکر موجود ہے بلکہ اتحادی ریزرو فوج جو چونتیس ہزار افراد پر مشتمل ہوگی ، کی ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بوقت ضرورت شام اور عراق میں دہشت گردوں سے لڑے گی۔ گویا پاکستانی حکمرانوں کے دعوئوں کے برعکس ثابت ہو گیا کہ یہ اتحاد صرف اسلامی ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اس کا ہدف صرف داعش اور القاعدہ سے نہیں بلکہ ایران اور اس کے پراکسیز سے بھی نمٹنا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر ان حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ۔

اپنی دانست کے مطابق اس اہم ترین سوال کا جواب دینے سے قبل یہاں میں اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستانی حکمرانوں اور اپنے آپ کو راحیل شریف اور دفاعی معاملات کے رازدان قرار دینے والے ریٹائرڈ فوجیوں کے جھوٹے دعوئوں کی وجہ سے میں اپنی معلومات کے بارے شش و پنج کا شکار ہو گیا ۔ ایک طرف میری وہ معلومات تھیں جن کی بنیاد پر جنوری میں مذکورہ کالم لکھا اور دوسری طرف پوری حکومت اور عسکری حلقوں کے دعوے تھے ۔ چنانچہ جب ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ اس اتحاد سے امریکہ کا سروکار نہیں اور اس کا ایران سے کوئی سروکار نہیں تو میں نے بھی تحفظات کے ساتھ سہی لیکن بہر حال اس میں پاکستان کی شمولیت اور جنرل راحیل شریف کی ذمہ داری کے حق میں رائے دی ۔

سوچا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی شاید وہاں ایسی پوزیشن ہو گی کہ وہ پاکستانی مفادات کا تحفظ کریں گے اور اس اتحاد کو فرقہ واریت یا پھر ایران مخالف سرگرمیوں کی طرف جانے نہیں دیں گے لیکن ریاض میں تین روزہ قیام کے دوران مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی قطعاً وہ پوزیشن نہیں جو بیان کی جا رہی تھی۔ جبکہ فیصلہ سازی یا پالیسی سازی میں ان کے کردار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر جس اتحاد کے مقاصد میں اعلانیہ طور پر ایران کا ذکر کیا گیا ہو، اسے کیوں کر اس طرف جانے سے روکا جا سکتا ہے ۔ وہاں تو پاکستان کے وزیراعظم کو تقریر کا موقع اس لئے نہیں دیا گیا کہ کہیں وہ امریکہ اور سعودی عرب کے بیان کردہ مقاصد اور اہداف میں اگر مگر نہ نکالیں تو اس ملک کے ایک ریٹائرڈ فوجی سربراہ جو وہاں سے تنخواہ لے رہے ہوں کو تو فیصلہ سازی میں شریک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چنانچہ پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو فوراً واپس بلایا جائے اور پاکستان اتحاد میں اپنے کردار کو اس حد تک رکھے جس حد تک ترکی اور اومان جیسے ممالک رکھیں گے۔

بلاشبہ سعودی عرب اور ایران دونوں پاکستان کے لئے اہم ترین ممالک ہیں ۔ ایک عرب دنیا کا قائد جبکہ دوسرا پڑوسی ہے ۔ دونوں کے ساتھ ہمیں بہترین تعلقا ت کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ساتھ ساتھ دونوں کے شرسے اپنے آپ کو بچانا بھی چاہئے ۔ ان کے باہمی تنازع میں ہمیں قطعاً فریق نہیں بننا چاہئے کیونکہ ان کے تنازع کا اسلام سے کوئی سروکار ہے اور نہ کسی اصول سے ۔ دونوں کا جھگڑا قومی اور تاریخی ہے ۔ ایک عربی زعم کا شکار ہے اور دوسرا پارسی زعم کا ۔قومیت اور مفادات کی اس جنگ میں دونوں مذہب اسلام کو بھی ہتھیار کے طور پر استعما ل کر رہے ہیں او رفقہ کو بھی ۔ دونوں کی اس جنگ کی وجہ سے آج شام بھی لہو لہو ہے اوریمن بھی ۔ ان کی اس جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے جبکہ نقصان عراقی، شامی اور یمنی مسلمانوں کے حصے میں آرہا ہے ۔

ایران نے اسٹرٹیجک مقاصد کے لئے القاعدہ سے بھی تعلقات بنا لئے اور فقہی لحاظ سے شدید مخالف طالبان کے ساتھ بھی ۔ اسی طرح وہ عراق میں امریکہ کا بھی پارٹنر ہے۔ غرض وہ دنیا کی ہر طاقت اور قوت کو گلے لگانے کو تیار ہے لیکن عربوں کے ساتھ اس کی رقابت اتنی گہری ہے کہ ان کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح سعودی حکمران امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد میں بھی عار محسوس نہیں کرتے اور اسرائیل تک کو گلے لگالیں گے لیکن ایران کو کوئی رعایت دینے کے روادار نہیں ۔ اسلئے ہمیں ان کی اس لڑائی سے دور رہنا چاہئے ۔ ان کے ساتھ تعلقات سے ہمیں ہر طرح کی جذباتیت اور مذہب کو نکال دینا چاہئے ۔ جس کا ہمارے ساتھ جو رویہ ہو، ہمیں بھی اسی طرح کا رویہ اپنانا چاہئے ۔ جو ہمیں عزت دے ، ہمیں اسے عزت دینی چاہئے ۔ جو ہمیں جتنا فائدہ دے، ہمیں بھی جواب میں اس کو اتنا فائدہ دینا چاہئے ۔ 

دونوں کو اب ہمیں یہ شٹ اپ کال دینی چاہئے کہ وہ اپنے جھگڑوں میں ہمارے ملک کو نہ گھسیٹیں کیونکہ پہلے سے ہمارے جھگڑے بہت ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں کہ وہ پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا پھر ایران کے وفادار ہیں ۔ کچھ فقہ کی بنیاد پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اور کچھ پیسے کے لئے ۔ ان سب کو بھی اب شٹ اپ کال دینی چاہئے ۔ اگر کسی کو پاکستان کے مفاد سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کا مفاد عزیز ہو تو اسے ملک بدر کر کے وہاں بھیج دیا جائے ۔ مذکورہ دونوں ممالک پر بھی واضح کر دیا جائے کہ وہ مزید ہمارے ملک میں اپنی پراکیسز کا کاروبار بند کر دیں اور جو بھی معاملہ کرنا ہو، وہ پاکستانی حکومت اور ریاست سے کریں۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں بعض مذہبی شخصیات اور کئی جماعتوں کو دونوں طرف سے پیسہ ملتا ہے ۔ ایک مذہبی کونسل میں ایک کا مبینہ پیسہ زور دکھا رہا تھا تو دوسری مذہبی کونسل میں دوسرے کی مبینہ سرمایہ کاری زوروں پر ہے ۔ اب تو معاملہ یہاں تک آ گیا ہے کہ بعض مذہبی لیڈر ایک سے اور تو بعض دوسرے ملک سے کھا رہے ہیں۔

سلسلہ اب کئی جرنیلوں تک دراز ہو گیا ہے اور جنرل پرویز مشرف نے تو کھل کر اعتراف کرلیا ہے کہ وہ دبئی اور لندن میں سعودی پیسے سے محلات خرید چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان دونوں ممالک سے متعلق حساسیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ جو بھی معاملہ ہو دونوں کی پراکسیز متحرک ہو جاتی ہیں ۔ نہ جانے ہم پاکستانی کیوں ان دو ممالک کے بارے میں ذہنی مرعوبیت کے شکار ہیں تیل کی دولت ان کے پاس زیادہ ہو گی اور قومی یا تاریخی زعم کے وہ بلاشبہ شکار ہیں لیکن الحمدللہ انسانی اور مذہبی آزادیوں ، ذہنی و تخلیقی یا پھر سماجی حوالوں سے ہم ان سے سو سال آگے ہیں ۔ بس ہمیں پاکستانی بننے کی ضرورت ہے اور مذہبی یا پھر فقہی حوالوں سے دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے صرف اور صرف قومی مفاد کی بنیاد پر سوچنا چاہئے ۔ یہ نیشن اسٹیٹس کا دور ہے ۔ مذہب اور فقہ خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر تو ضروراستعمال کئے جاتے ہیں لیکن عملاً کوئی ملک ان بنیادوں پر تعلق نہیں رکھتا ۔

ہماری خارجہ پالیسی بھی اب بس یہ ہونی چاہئے کہ جو عزت دے ، اسے عزت دو۔ جو پاکستان کے مفاد کا خیال رکھے ، ہم اس کے مفاد کا خیال رکھیں ۔ کسی کو کسی اور ملک کی دوستی اور دشمنی پاکستان سے زیادہ پیاری ہے تو وہ خوشی سے وہاں چلاجائے لیکن فقہی، مذہبی یا مالی بنیادوں پر دوسروں کی دشمنیوں کو پاکستان میں نہ لائے ۔ سعودی عرب اگر دوستی کے لئے یہ شرط رکھے کہ ہم اس کی خاطر ایران کو دشمن بنالیں تو ہم بھی یہ لکیر کھینچ دیں کہ وہ ہماری خاطر ہندوستان کی دشمنی مول لے ۔ یقینا وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر ایران یہ مطالبہ کرے کہ ہم سعودی عرب سے دوستی ختم کردیں تو ہم بھی مطالبہ کریں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستی ختم کر دے اور یقینا وہ بھی ایسا نہیں کرے گا۔ جب ان میں سے کوئی ہماری خاطر دوست اور دشمن بدلنے کو تیار نہیں تو ہم کیوں ایسا کریں۔

سلیم صافی
 

No comments:

Powered by Blogger.