Site is Related to Pakistan News, Pakistan Politics, Pakistan History and Pakistan Travel.

Breaking

Tuesday, April 25, 2017

میاں صاحب، محفوظ راستہ اختیار کریں

پاکستان کی عدالت عظمی نے پاناما کیس میں اپنا جو فیصلہ سنایا ہے، اس پر وزیر
اعظم نواز شریف کی جماعت پا کستان مسلم لیگ (ن) اور ان کے مخالفین پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان ، جماعت اسلامی کے سنیٹر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید سمیت منقسم عناصر مٹھائیاں کھا اور کھلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماء اور کارکن کس خوشی میں مٹھائی کھا رہے ہیں، سمجھ سے بالا تر ہے۔ عدالت کے دو ججوں ، بنچ کے سربراہ جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ اور جسٹس جناب گلزار احمد نے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا ہے۔ ججوں کی جانب سے نااہل قرار دینے کا واضح مطلب بیان کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں۔

بنچ کے تین ججوں جسٹس جناب اعجاز افضل ، جسٹس جناب شیخ عظمت سعید اور جسٹس جناب اعجاز الاحسن نے معاملات کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے تیرہ سوالات کی فہرست فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف اداروں کے افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی اور تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کے لئے نام طلب کئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر وزیراعظم اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو اس ٹیم کے سامنے پیش ہونا ہو گا اور ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے دوران ان سوالات کی روشنی میں جواب دینا ہوں گے جو سپریم کورٹ کے ججوں نے تیار کئے ہیں۔ اس سارے عمل میں مٹھائی کھانے اور کھلانے جیسی بات اس لئے نہیں ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین ایوان کے قائد کو ان کے ماتحت اداروں کے افسران کے سامنے پیش ہونا ہوگا جو بذات خود و زیراعظم کے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے۔ مٹھائی کھانے اور کھلانے کا معاملہ وزیراعظم کے مخالفین کی حد تک تو اس لئے سمجھ میں آتا ہے کہ وزیراعظم کو کٹہرے میں تو کھڑا کرا دیا گیا۔ وہ وزیراعظم جو کل قومی احتساب بیورو کے خلاف تیور چڑھا رہے تھے ، اب اس ادارے کے کسی افسر کے سوالات کے جواب دینے کے پابند ہوں گے۔ نیب، ایف آئی اے، اسٹیٹ بنک، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن ، آئی ایس آئی، کے اداروں کو عدالت کے اس فیصلے کی روشنی میں توقیر حاصل ہو گی۔
پاکستان میں حکمرانوں نے اپنے اپنے وقت میں سرکاری اداروں کو جس انداز میں بے توقیر کیا اور کرتے رہتے ہیں، یہ ایک ایسا موقع ہے کہ ادارے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی توقیر بحال کرائیں اور اس پر قائم رہیں۔ جو بھی حکمران ہوتا ہے وہ ایسے رویہ کا اظہار کرتا ہے جیسے یہ ادارے اس کی وجہ سے ہیں، ان کا ریاست سے تعلق نہیں ہے اور اس کے ماتحت ہیں۔ جب اداروں کے بااختیار ہونے کی بات کی جاتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ریاست کے تابع تمام اداروں کو اپنی اپنی جگہ کام کرنے کا آزادانہ اختیار ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی ہے کہ ریاست اور اداروں سے زیادہ اپنی ذات میں الجھے حکمرانوں نے اپنے من پسند افسران کے ذریعہ ان اداروں کو بے توقیر کر دیا۔ عوام جس طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں اور مسائل کے قلعہ میں محبوس ہیں وہ اسی بے توقیری کا نتیجہ ہے۔ اعلیٰ ترین یا کم درجے کا سرکاری افسر ریاست کا ملازم ہوتا ہے اور اسے ہر قیمت پر ریاست کا وفادار ہی رہنا ہوتا ہے لیکن نا اہل اور دوسروں کا حق مار کر ترقی حاصل کرنے والے خوشامدی افسران کیا جانیں کہ ریاست سے وفاداری در حقیقت اپنے مستقبل سے وفاداری ہوتی ہے۔

مستقبل یہ نہیں ہے کہ وزیراعظم یا کسی بھی وزیر یا وزیر اعلیٰ کی خوشامد کر کے اپنی ترقی اور مراعات کا راستہ ہموار کر لیا جائے۔ سرکاری ادارے اور ان میں موجود افسران کہاں تک سمجھ سکے ہیں کہ پاکستان کی عدالت عظمی نے انہیں اپنی توقیر بحال کرانے کا جو موقع فراہم کیا ہے ، اس سلسلے میں خود ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔ اس مقدمہ میں حکومت کی جا نب سے وکلاء کو کئی کروڑ روپے، فیسوں کی مد میں ادا کئے گئے، اس کا جواب کون دیگا کہ کیا یہ مقدمہ حکومت کے خلاف تھا یا وزیراعظم کی ذات کے خلاف تھا۔ کیا کسی افسر نے تحریر میں کہیں اس بات کی نشان دہی کی کہ یہ مقدمہ وزیراعظم کی ذات سے متعلق ہے ، حکومت کا کیا لینا دینا ۔ نواز شریف ، ان کی بیٹی اور بیٹوں کی طرف سے وکالت کے لئے شاہد حامد، مخدوم علی خان، سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے ۔

اس تماش گاہ میں ایسے افراد یا گروہوں کی اس ملک میں کمی نہیں جو عدالتوں سے بھی مرضی کے فیصلوں کے لئے اپنی خواہشات کے گھوڑوں پر سوار امید کے چراغ لئے پھرتے ہیں۔ پاناما کیس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ کسی کو غم کھائے جاتا ہے کہ سارے ججوں نے وہ فیصلہ کیوں نہیں دیا جو دو جج صاحبان نے دیا۔ کسی کو اعترا ض ہے کہ منقسم فیصلے پر ایک وزیراعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے ، دوسرے منقسم فیصلے پر وزیراعظم اپنے عہدے پر موجود رہتے ہیں۔ کوئی فیصلے کو اس طرح جانچ رہا ہے کہ کون سے جج صاحب کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جس کی بنیاد پر فیصلہ وہ صادر نہیں کیا گیا جس کے لئے وہ امید کے چراغ لے کر گھوم رہے تھے۔ عجیب بد قسمتی ہے کہ ہم اپنی عدلیہ پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اعتماد کے اس بحران میں ماضی میں عدلیہ کے ججوں کا کیا دھرا بھی ہے جن کے امتیازی فیصلوں نے خود عدلیہ کو بے توقیر کیا۔ بیس اپریل کے فیصلے پر جب طرح طرح کے تبصرے آنا شروع ہوئے تو ایک معزز جج جسٹس جناب عظمت سعید شیخ نے فیصلے کے ساتھ ایک ا ضافی نوٹ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ ’’ پاناما فیصلے پر بحث گمراہ کن ہے۔

بد قسمتی سے جو باتیں کی جارہی ہیں اور جس رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ ناقص معلومات پر مبنی اور حقائق کے برعکس ہے۔ ایسی تمام باتوں اور افواہوں کو رد کرنے کی ضرورت ہے‘‘ آپ اندازہ کریں کہ بنچ کے ایک معزز جج کو یہ کہنا پڑا کہ بحث گمراہ کن ہے۔ امیدوں کے چراغ لئے اپنی خواہشات کی تکمیل پانے پر بضد لوگ یہ تو نہیں کر سکے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان کے تمام شہروں میں معمولات زندگی کو اس وقت تک معطل کرا دیتے، سڑکوں اور دفاتر کے سامنے رات دن بیٹھ جاتے جب تک وزیراعظم مستعفی نہیں ہو جاتے یا کم سے کم تفتیش کے دورانیہ میں حکومت سے علیحدہ نہیں ہو جاتے۔ اسی پاناما کے پیش نظر بعض ملکوں میں وزرائے اعظم حکومتوں سے گئے۔

اگر سوشل میڈیا ہی مسائل کا حل ہوتا تو دنیا بھر میں پارلیمنٹ کی بجائے سوشل میڈیا ہی حکومت چلا رہا ہوتا۔ سوشل میڈیا پر تبصروں کی بہتات کرنے والوں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ عدالت عظمی نے وزیراعظم کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جو ان کے عہدہ کی شان کے بر عکس ہے۔ لیکن کیا کیا جائے، مٹھائی کھانے اور کھلانے والوں کا مطمح نظر ہی یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کی نظروں میں سرخ رو ہو جائیں خواہ ان کے اس عمل کی روشنی میں وزیراعظم کا قد کتنا ہی بونا کیوں نہ ہو جائے۔ ہمارے ایک سینئر صحافی ملک عزیز اللہ کہتے ہیں کہ ان کی مرحومہ والدہ کہا کرتی تھیں کہ شرم دیوار تو ہے نہیں جو کسی پر گر جائے گی۔ یہ تو ایک احساس کا نام ہے۔

میاں نواز شریف جب سے سیاست میں آئے ہیں، ایک مسلہ رہا ہے کہ اپنے گرد انہوں نے ایسے بونے جمع کئے ہوئے ہوتے ہیں جو انہیں کھائی کی طرف جاتے ہوئے بھی روکنے کی ہمت نہیں کرتے ہیں۔ ایسے ہی سیاسی بونے ایوب خان، یحیی خان، ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی زوال کا سبب بنے تھے۔ نواز شریف کو یہ بونے کیوں کر مشورہ دے سکتے ہیں کہ عالی جاہ، مستعفی ہونے میں عافیت ہے۔ عالی جاہ، حکومت سے علیحدہ ہونے میں ہی لیگ کا وجود برقرار رہ سکتا ہے اور پارلیمنٹ میں جا کر یہ فیصلہ کرانے میں ہی عافیت ہے کہ عام انتخابات کا اعلان کرا دیا جائے۔ بجائے اس کے کہ ملک میں ایک ایسا وزیراعظم حکمرانی کرے جس کی ساکھ پر دھبہ لگ گیا ہو ، جب تک وہ دھبہ مٹے۔ 

اگر تفتیش کرنے والی ٹیم بھی اسی نتیجے پر پہنچتی ہے جس پر جسٹس جناب آصف کھوسہ اور جسٹس جناب گلزار پہنچے تھے، تو اس صورت میں وزیراعظم کے پاس آج موجود محفوظ راستہ بھی برقرار نہیں رہے گا۔ بند گلی میں داخل ہونا سیاسی خود کشی ہو گی۔ پتلی گلی سے نکل جانے میں کچھ نہ کچھ عافیت ہو گی۔ فیصلہ تو جیسے ہمیشہ ہی ہوتا آیا ہے، نواز شریف ذاتی اور وزیراعظم کی حیثیت سے سے خود ہی کیا کرتے ہیں، اس مرتبہ بھی انہیں ہی فیصلہ کرنا چاہئے ۔ وزیراعظم کے بظاہر مجنوں تو انہیں اپنی دستار بچانے کے لئے فیصلہ نہیں کرنے دیں گے ۔ میاں صاحب ، ملاحظہ ہو، احمد فراز کہتے ہیں :

میرے دشمن کا کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک
دیکھنا اب کے مرا دوست کماں کھینچتا ہے

علی حسن

Post a Comment