Header Ads

Breaking News
recent

دریائے سندھ ڈیلٹا کیا ہے؟

دریا، تغیر اور ثبات کی ایک حقیقت ہے اور یہ دونوں سچائیاں بہتے پانی میں تحلیل
ہو کر لمبا سفر طے کرتی ہوئی بالآخر سمندر کی آغوش میں سو جاتی ہیں لیکن دریا کے بہتے پانی کے ہر قطرے کے ساتھ ریت اور مٹی کے ننھے ننھے ذرات بھی رفیق سفر ہوتے ہیں جو کنارے پر ہی ٹھہر کر اپنے بعد آنے والے ساتھی پانی کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ ان کے اکٹھے ہونے سے وجود پانے والی چیز کو ہی ہم ’’ڈیلٹا‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ننھے ننھے ریت و مٹی کے ذرے جنہوں نے اپنے وجود سے دریائے سندھ کے کھو جانے والے پانیوں کی یادمیں انڈس ڈیلٹا قائم کیا تھا اور ہزاروں برس سے سمندر سے اپنے ساتھیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے کرتے اتنے تھک چکے ہیں کہ خود سمندر کی گود میں میٹھی نیند سو رہے ہیں اور دریائے سندھ کی عظیم الشان یادگار انڈس ڈیلٹا پر انسانی زندگی رفتہ رفتہ سمندر کی ہیبت سے مرعوب ہو کر کوچ کر رہی ہے، سمندر آگے اور آگے بڑھتا چلا آرہا ہے، زندگی پیچھے اور پیچھے ہٹتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کی ہتھیلی اور انگلیوں کی شکل والے ڈیلٹا میں سے سترہ کھاڑیاں نکلتی تھیں یہ کھاڑیاں کراچی سے لے کر زیریں سندھ کی ساحلی پٹی تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈیلٹا کی حدود پاکستان میں کراچی سے لے کر بھارتی سرحد رن آف کچھ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انڈس ڈیلٹا کے علاقوں میں متعدد میٹھے پانی کی جھیلیں بھی موجود تھیں۔ دریائے سندھ کے مون سون سیزن کے دوران یہ جھیلیں پانی سے بھر جاتی تھیں جہاں نہ صرف مقامی پرندے بلکہ موسم سرما کے دوران ہجرت کر کے آنے والے پرندوں سارس، کونج، پلیکن مرغابی اور کئی اقسام کے آبی پرندے یہاں ٹھہرتے تھے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ڈیلٹا کے علاقے میں میٹھے پانی کی گیارہ جھیلیں تھیں ان جھیلوں میں کاجری، جھم، کاٹھوڑ، تل، وسن، کلمکان چھانی، تلی، سیر، چوبتی ماور اور کڑمک جھیلیں بھی شامل ہیں لیکن سمندر کے آگے بڑھ آنے سے یہ تمام جھیلیں آج کھارے پانی کے بڑے بڑے تالابوں کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ 

انڈس ڈیلٹا کے خطے میں پیداوار کی شرح سندھ بھر میں سب سے زیادہ تھی اور یہ اضافی پیداوار سندھ کی بندرگاہوں سے مسقط، دوار کا، عدن گومتی اور خلیج فارس کی بندرگاہوں کو برآمد کی جاتی تھی۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر کیے جانے والے مطالعے اور تجزئیے ایک ایسے سنگین قومی معاملے کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی اور تلخیص کرتے ہیں جو آگے چل کر اور بھی سنگین ہو سکتا ہے۔ حالات کے پیش نظر ڈیلٹا کے علاقے کی پہلے ہی سے تشویش ناک صورتحال اور یہاں سے قدرتی ماحول اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے بہت ہی اہم اور ہنگامی اقدامات انتہائی لازمی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مطالعاتی جائزوں اور ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی روشنی میں حالات کی بہتری کے لیے بعض اہم سفارشات بھی تجویز کی گئی ہیں۔ انڈس ڈیلٹا میں ایسے ایسے مقامات اور موضوعات بکھرے پڑے ہیں جن پر اگر باقاعدہ تحقیق کی جائے تو تاریخ کے کئی نظریات باطل اور کئی نئی نئی باتیں سامنے آجائیں گی۔ انڈس ڈیلٹا کو جہاں سمندر کے آگے بڑھنے سے مسلسل خطرہ ہے وہیں یہ آثار قدیمہ بھی اپنی ان کہی کہانیوں کے ساتھ پانی کی تہہ میں ڈوب کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہم ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں بچانے کے لیے سنجیدہ کوششوں پر غور کر سکتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق پروڈیوسر معروف ادیب و محقق اور سینکڑوں دستاویزی فلموں کے خالق عبید اللہ بیگ نے برسوں پہلے انڈس ڈیلٹا پر چار مختلف دستاویزی فلمیں بھی تیارکی تھیں جو پی ٹی وی سے نشر ہو چکی ہیں۔ آج انڈس ڈیلٹا کی حالت ہماری سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے انڈس ڈیلٹا بقا کے خطرے سے دو چار ہے اس کی سترہ کی سترہ کھاڑیاں کھارے پانی سے بھر چکی ہیں اور خود اس کا مجموعی رقبہ بھی اب کم ہو کر صرف دس فی صد ہی رہ گیا ہے اگرچہ نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اس وقت قلت آب کے مسئلے سے دو چار ہے لیکن انڈس ڈیلٹا کے مسائل کے ساتھ ساتھ اس کا بقا ہمارے شاندار ماضی کی روایتوں کی امین اور ہماری پہچان ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے اس طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ ڈیلٹا ہمارا مشترکہ قومی ورثہ ہے۔ اسے بچانے کے لیے قربانیاں اور وسائل بھی ہمیں مشترکہ طور پر فراہم کرنے پڑیں گے۔

شیخ نوید اسلم

No comments:

Powered by Blogger.