Header Ads

Breaking News
recent

پاناما کیس کے فیصلے پرجشن کیوں ؟

پیش گوئی درست تھی۔ پاناما لیکس مقدمے کے فیصلے کے یاد گار ہونے میں کسی
کو کلام نہیں ۔ حتمی نتائج، جو جیتنے اور ہارنے والوں کا تعین کرتے ہیں، کے برعکس اس فیصلے کے نتیجے میں صرف ہارنے والے ہی سامنے آئے ، جو کہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے ۔ نواز شریف کیمپ سے بات شروع کرتے ہیں۔ وہاں جشن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ حقیقت سے آنکھیں چُرانے اورسیاسی مخالفین کا مذاق اُڑانے کی رسم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اس میں خوشی کا پہلو سمجھ سے بالا تر ہے، نواز شریف کا اس کیس سے بچ نکلنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص برف اور پتھروں کے بلندی سے گرنے والے مہیب تودے کی لپیٹ میں آنے کے باوجود بچ نکلے، جبکہ وہ زخموں سے چکناچور ہو چکا ہو۔ ایک وزیر ِاعظم کا مالیاتی بدعنوانی اور رقم کی مشکوک ترسیل کی تحقیقات کرنے والی نیم فوجی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کا تصور کسی بھی باوقار سیاست دان کے لئے شرم سے سر جھکا لینے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ موجودہ وزیر ِاعظم کے لئے یہ ایک کاری گھائو سے کم نہیں کہ اس کیس میں دوججوں نے اُنہیں دو ٹوک الفاظ میں بد دیانت کہا جبکہ باقی تین نے اُن کے الفاظ پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔

اکثریتی فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹے بیرونی ممالک میں جائیداد کی بابت اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ اختلافی نوٹ لکھنے والوں نے چاقو ذرا گہرا چلا دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے قانونی دلائل سے جوڈیشل مہم جوئی کا تاثر ابھرتا ہو، لیکن اُنھوں نے دوٹوک اندازمیں وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے بہت کاری ضرب لگائی ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کی مثال زندگی بھر مندمل نہ ہونے والا زخم ہے۔ اس ’’عزت افزائی ‘‘ پر مٹھائی بانٹنا عقل و فہم سے ماورا ہے ۔ جب جے آئی ٹی نے کام شروع کیا تو دامن مزید داغدار ہو گا۔ شک کی تپش اور اپوزیشن کی تضحیک سے پہنچنے والی اذیت رسانی سے مفر ممکن نہیں، لیکن تحقیقات اور تلاشی میں یہ کچھ تو ہوتا ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن کے ہاتھوں میں بھی کامیابی کے کنگن نہیں سجے۔ سیاست میں بھی ،جیسا کہ قانون میں، کسی چیز پر قبضہ ہونا 9/10 کامیابی ہوتی ہے ۔ پی ٹی آئی ، پی پی پی ، جماعت ِاسلامی اور کچھ دیگر ’’ضمنی پارٹیوں ‘‘، جیسا کہ پی ایم ایل (ق) اور سیاسی اداکار، شیخ رشید ، سب نے یہی امید لگائی ہوئی تھی کہ نواز شریف کو چلتا کردیا جائے گا۔ چاہے وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے کتنے ہی قریب کیوں نہ پہنچ گئے تھے، اب اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ستاون دنوں تک فیصلے کی تاخیر نے اُن کی توقعات کو غیر حقیقی حد تک بڑھا دیا تھا۔ اب فیصلے کے بعد حکومت اپنی جگہ پر موجود، نواز شریف اپنے منصب پر برقراراور اُن کی صاحبزادی ،جو اُن کی ممکنہ سیاسی وارث بھی ہوسکتی ہیں اور جو میڈیا میں تشہیر کردہ پاناما اسکینڈل کا بطور ِ خاص نشانہ تھیں، کو بری کر دیا گیا ہے۔ جج صاحبان کا کہنا ہے کہ وہ زیر ِ کفالت اولاد نہیں۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے کوشش کی تھی کہ اُنہیں نواز شریف کی مبینہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے درمیان ایک ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کریں ، لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ۔

عمران خان کے لئے یہ موقع (اُن کے تخیل کے مطابق) اُنہیں وزیر ِا عظم ہائوس تک پہنچانے والا ایک اور شارٹ کٹ تھا جو ہاتھ سے نکل گیا۔ اگر نواز شریف وزیر ِاعظم ہائوس میں موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پی ایم ایل (ن) پنجاب میں ایک ناقابل ِ شکست سیاسی قوت رہے گی ۔ یہ بات تواتر سے کہنے کے بعد کہ اُنہیں بنچ پر اعتماد ہے اور وہ اس کے فیصلے کو قبول کریں گے، اب پی ٹی آئی کے رہنما اس منقسم فیصلے پر بوکھلائے ہوئے ہیں ۔ ان کی سراسیمگی کا برملا اظہار اس حواس باختہ رویے سے ہوتا ہے کہ ایک طرف فیصلہ سننے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، اس کا بطور تاریخ ساز فیصلہ، خیر مقدم کیا ، تو دوسری طرف جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا گیا۔ وزیر ِاعظم کے مستعفی ہونے پر اپوزیشن کا اتفاق ِرائے بھی پختہ بنیاد نہیں رکھتا۔ 

پی پی پی کی نواز لیگ پر چڑھائی کرنے کی وجہ سندھ میں عزیر بلوچ کے اعترافات کے بعد آصف زرداری کی مشکلات ہیں۔ اعتزاز احسن کا آئی ایس آئی کے چیف کی غیر جانبداری پر شک غالباً اُن کے وسیع تر تاثر کی غمازی کرتا ہے کہ وزیر ِاعظم کی تلاشی لینے والی جے آئی ٹی میں شامل افسران انہی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جو وزیر ِاعظم کے ماتحت ہیں۔ تاہم اصل معاملہ کچھ اور ہے ۔ اس کا تعلق اعتزاز احسن کے باس، آصف علی زرداری اور ریاستی اداروں کے درمیان سرد جنگ سے ہے جو سکوت اور باہمی افہام و تفہیم کے مختصر دور کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے ۔ اصل مسئلہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹوں کی تفتیش کرنے والی اس جے آئی ٹی کا نہیں کہ یہ ماتحت اداروں پر مشتمل ہے ، بلکہ اُس جے آئی ٹی کا ہے جس کے سامنے عزیر بلوچ نے ایسے اعترافات کیے ہیں جو پی پی پی کو ہضم نہیں ہو رہے ۔ کچھ دیگر خوف بھی دامن گیر ہے کہ اگر موجودہ وزیر ِاعظم کے خلاف جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو سابق صدر کے ماضی کے اعمال کا جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی جے آئی ٹی کی مخالفت کر رہی ہے ۔ اس حملے میں اعتزاز احسن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم پس ِ پردہ ان کی ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں ہے۔

یہ اہداف پی ٹی آئی کے مقاصد سے کسی طور ہم آہنگ نہیں۔ اس کا واحد مقصد شریف برادران کی چھٹی کرانا ہے ۔ اہداف کی نیرنگی نواز شریف کے استعفے کے لئے چلائی جانے والی ملک گیر مہم کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔اس مسئلے پر جماعت ِاسلامی کا اپنا کوئی موقف نہیں ۔ اس کے امیر کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ قومی سیاسی چیلنجز کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے ۔ کبھی ملکی سیاست کے ایک اہم اور فعال عامل ، جماعت ِاسلامی ، کواب اس طرح یوٹرن لیتے ہوئے بے مقصد سرگرداں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن سیاسی بھونچال پیدا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے ۔ اپنی ناقص گورننس ، کھلے دل سے قرض لینے اور خرچ کرنے اور تباہ کن خارجہ پالیسی سازی کے باوجود پی ایم ایل (ن) اقتدار پر موجود رہے گی۔ پاناما لیکس سے کسی سونامی نے جنم نہیں لیا، اس نے صرف ارتعاش کی لہریں پیدا کی ہیں جو میڈیا کے کچھ عامل ایک بھرپور لہر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو بری طرح شکست ہوئی ہے ۔

پس ِ تحریر: چیف جسٹس آف پاکستان کی عمران خان کو یہ ہدایت برمحل ہے کہ دنیا بھر میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن کہیں اتنا شور نہیں مچتا۔ نیز سپریم کورٹ پر بداعتمادی پیدا کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے ۔

طلعت حسین

No comments:

Powered by Blogger.