Header Ads

Breaking News
recent

بھتہ خور ہیکرز

عالمی مارکیٹ میں کام کرنے والی شائد ہی کوئی ایسی ملٹی نیشنل کمپنی ہو کہ جس کی اپنی ویب سائٹ نہ ہو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر اب تمام بڑے برانڈز کی مجبوری بن گئی ہے، جس کے پیش نظر ان بڑے اداروں میں ایک منظم آئی ٹی ڈیپا رٹمنٹ ضرور ہوتا ہے۔ کمپنی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکائونٹس صارفین کو اپنی مصنوعات کی جانب راغب کرتے ہیں اور ان سے لاکھوں کی تعداد میں صارف بذریعہ انٹرنیٹ منسلک بھی ہوتے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے حیران کن طور پر بڑی کمپنیز کی ویب سائٹس کو ہیک کرکے اس پر ایسے مواد اپ لوڈ کردیا جاتا ہے کہ کمپنی اور صارف دنوں کے لیے پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ 
انٹرنیٹ سکیورٹی کے ایک ماہر بروس شنائر نے اپنے ایک بلاگ میں انتباہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ کے اہم اداروں پر ایک سال سے شدید حملے جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان اداروں کے دفاعی نظام میں کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش ہیں۔بروس کے ’ابتدائی اندازے‘ کے مطابق ان سلسلہ وار حملوں کے پیچھے چین یا روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ان حملوں میں کسی ویب سائٹ پر لاتعداد ڈیٹا بھیج کر اسے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہیکر ویب سائٹ کے مالکان کو ڈی ڈوس (سسٹم پراضافی بوجھ) کی دھمکی دے کر تاوان وصول کرتے ہیں۔ بروس کے مطابق یہ حملے کہیں بڑے پیمانے پر کیے جا رہے ہیں اور ان کا دورانیہ بھی عام حملوں سے بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ حملے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیوں کہ اس میں بھیجے جانے والا ڈیٹا سلسلہ وار لہروں کی شکل میں ارسال کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 31 دسمبر 2015ء کو بی بی سی کو بھی ڈی ڈوس حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انٹرنیٹ کمپنی ویری سائن کی ایک حالیہ رپورٹ سے شنائر کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے، جس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ڈوس حملے ’زیادہ اور پیچیدہ‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ آربر نیٹ ورکس نامی کمپنی کے مرکزی انجینئر رولینڈ ڈابنز کہتے ہیں کہ یہ بات ’واضح طور پر‘ غلط ہے کہ ان حملوں کے پیچھے صرف ملکوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ’بعض حملہ آوروں کو ملکوں کی سرپرستی حاصل ہے، کچھ غیر سرکاری نظریاتی حملہ آور ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو مجرمانہ طور پر مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

عمیر لطیف

 

No comments:

Powered by Blogger.