Header Ads

Breaking News
recent

ہم اپنے ملک سے کیوں بھاگ رہے ہیں ؟

کوئی حکومت اس لیے قائم کی جاتی ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا
کرے تا کہ وہ ایک باعزت زندگی کا سفر طے کر سکیں۔ حکمرانوں کی ذاتی عبادات یا نیکی سے ان کی ذات کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا وہ اصل نیکی ہے جوکہ ایک حکمران کی اولین ذمے داری ہے۔ ہم تو اس ذات کے پیروکار ہیں جس نے درس ہی انسانیت کی بھلائی کا دیا اور اپنے بدترین دشمنوں کے حق میں بھی کلمہ خیر کہا۔ حضورؐ کے بعد خلفائے راشدین بھی اس پر عمل پیرا رہے اور حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ دجلہ کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا حساب مجھے دینا ہو گا۔

موجودہ زمانے کے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے یہ مثالیں تو ان کے گوش گزار کی جا سکتی ہیں لیکن اس طرح کی طرزحکمرانی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں، کجا کہ یہ عوام کی بھلائی کے لیے کام کریں بلکہ انھوں نے عوام الناس کو معاشی مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے تاکہ وہ حکمرانوں کے قابو میں رہیں۔
ہم نے جب سے اپنے معاشی نظام کو جدید دنیا کے بے رحم معاشی نظام سے منسلک کیا، اس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور آئے روز دنیا بھر کی معیشت کی بدلتی صورت حال کے مہلک وار ہم پر مسلسل جاری ہیں۔ ردوبدل کے اس نظام نے ہمیں اس بری طرح جکڑ لیا ہے کہ اس سے جان چھڑانے کی وہی صورت حال ہے کہ ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔‘‘ اپنی معیشت کے استحکام اور عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے ہم نے مجبوراً ڈالر کو بنیادی کرنسی بنایا جو کہ اس وقت ہمارے روپے کے مقابلے میں کہیں مستحکم تھی جس کی وجہ سے بہتری آنے کے بجائے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا۔
اس معاملے کو کچھ عرصہ تک تو ہمارے امپورٹ کیے گئے آئی ایم ایف کے پروردہ حکمرانوں نے مصنوعی طور پر روکے رکھا لیکن وہ جوں ہی اپنے وطن واپس روانہ ہوئے اور جمہوری حکومت نے باگ ڈور سنبھالی، ہمارے روپے کی قدر یکلخت کمی کی شکار ہو گئی جس سے نہ صرف بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا بلکہ ہماری معیشت ایک ناقابل برداشت بوجھ تلے دب گئی جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی اور ابھی بھگتتی رہے گی۔ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے خاص طور پر عوام کو فراہم کی جانے والی اجناس کی قیمتوں کا تعین بھی ہوتا ہے خاص طور پر ہماری وہ زرعی پیداوار جس کا انحصار اس کی بیجائی سے لے کر برداشت اور منڈیوں تک پہنچانے میں ڈیزل پر ہے۔ ہمارے ملک میں رواج رہا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔ حکومتی سطح پر اس سلسلے میں سخت اقدامات کے ذریعے اس کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی منڈی میں پچھلے ماہ کے دوران تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ہوا لیکن ہمارے معاشی اکاؤنٹنٹس نے اس میں 10 فیصد سے زائد اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ معمولی اضافہ حکومت خود برداشت کرتی یا پھر اگر ان میں اضافہ ہی مقصود تھا تو اتنا کیا جاتا جتنا کہ عالمی منڈی میں ہوا تھا تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم پڑتا لیکن ہماری حکومت نے اس کو اپنی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا ہوا ہے کیونکہ یہ واحد ذریعہ ہے جس سے عوام کی جیب سے پیشہ نکالا جا سکتا ہے اور اس کو حکومتی خزانہ بھرنے میں مدد ملتی ہے۔

ملک میں مہنگائی کے طوفان نے عوام الناس کو اس قدر پریشان کر رکھا ہے کہ ایک معاصر میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران 57 لاکھ پاکستانیوں نے ملک کی ابتر معاشی حالت اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ترک وطن کیا اور اس میں زیادہ تعداد مزدور طبقے کی ہے جس کا تمام تر دارومدار روزانہ اجرت پر ہے۔ بیرون ملک سکونت اختیار کرنے والوں کے لیے پسندیدہ ملک سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک ہیں جہاں پر روزگار ملنے میں نسبتاً آسانی ہے لیکن اب یہ ممالک بھی دنیا کے بدلتے معاشی حالات کے شکنجے میں جکڑے جا رہے ہیں اور ان کی معیشت بھی کمزور ہو رہی ہے۔ ملک میں روزگار کے محدود وسائل کے باعث ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بیرون ملک حصول روزگار کے لیے منتقلی لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے ملک میں ہنرمند اور قابل افرادی قوت میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ حکومت کا اولین کام عوام کو سہولیات کی فراہمی تو ہے ہی لیکن سڑکوں اور پلوں کے ذریعے روزگار کی فراہمی ممکن نہیں۔

اس کے لیے صنعتوں کا جال بچھانے کی ضرورت ہے جو کہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم توانائی یعنی بجلی کی وافر فراہمی میں خودکفیل ہوں اور وہ صنعتکار جو اپنی صنعتیں اس بحران کی وجہ سے دوسرے ممالک منتقل کر چکے ہیں انھیں واپس لے آئیں تاکہ روزگار کے وسیلے پیدا ہوں اور ہم ملکی ترقی کا انحصار کسی کمیونسٹ ملک کے بجائے اپنے زور بازو پر کریں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں اپنے معاشی ماہرین کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جو ان کے پاس فالتو مقدار میں بھی پڑی رہتی ہے لیکن وہ صرف خاص مقاصد کے لیے ہی استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے جو موجود نہیں ہے، بس ایک ہم ہیں جو ملک سے باہر ادھر ادھر رہتے ہیں اور مفید دورے کرتے ہیں جس سے اہل خانہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

عبدالقادر حسن

No comments:

Powered by Blogger.