Header Ads

Breaking News
recent

افغانستان کی تباہی، بڑی طاقتوں کا کارنامہ

افغانستان کا امن و سکون گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے درہم برہم چلا آرہا ہے۔ دسمبر 1979ء میں سابقہ سوویت یونین نے اس سرزمین پر فوج کشی کر کے وہاں قابض ہونے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے۔ اس وقت یہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی دفاعی طاقت تھی، اس لئے افغانستان کے پسپا ہونے کے خدشے سے امریکی حکومت نے افغانستان کی دفاعی مدد کرنے کی حکمت عملی اپنانے کو ترجیح دی۔ پاکستان کو بھی روس کی فوجی یلغار سے اپنی دفاعی حیثیت کو خطرات محسوس ہوئے۔ یوں پاکستان حکومت نے افغانستان کے لوگوں کی مدد کا فیصلہ کیا۔ بیرونی فوجی حملوں سے پاکستان کی علاقائی سلامتی کے دفاع کے لئے میدان عمل میں آ کر برسر پیکار ہونا، بلاشبہ بہت ضروری تھا۔ سوویت یونین کی طرف سے افعانستان پر مسلط جنگ کا مقابلہ، افغانستان کے جفا کش اور جواں ہمت لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیوں سے کیا۔

اس دوران، امریکی مالی اور دفاعی امداد بھی اہل افغانستان کے لئے کافی کار آمد اور موثر ثابت ہوتی رہی۔ پاکستان کے طول و عرض میں گاہے گاہے بہت تباہ کن دھماکے اور خودکش حملے، وقوع پذیر ہوتے رہے۔ جن میں ہزاروں بے قصور افراد، خواتین اور بچے جان بحق ہوتے رہے۔ امریکی حکومت افغانستان میں سوویت یونین سے برسر پیکار لوگوں کو باقاعدگی سے دفاعی امداد فراہم کرتی رہی۔ ان حالات میں تقریباً دس سال بعد، سوویت یونین کی ایک لاکھ سے زائد افواج سخت مزاحمت کے مقابلے میں اپنی جارحانہ اور ظالمانہ جنگی پالیسی جاری نہ رکھ سکیں، کیونکہ ان حملہ آور افواج کو اپنی کامیابی کا کوئی یقینی امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اس طرح سوویت یونین کی مخدوش و مفلوج معاشی حالت جنگ جاری رکھنے سے قاصر ہو گئی۔ نتیجتاً سوویت یونین اپنی شکستہ حال اور بچی کھچی افواج واپس اپنے علاقوں میں لے جانے پرمجبور ہو گیا اور سوویت یونین میں شامل ریاستوں نے یکے بعد دیگرے محض چند ماہ کے عرصے میں اس بڑے اتحاد سے علیحدگی کے اعلانات کر کے آزادی اختیار کرلی۔
اس کے بعد امریکہ بہادر نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر دیگر اتحادی ممالک کی مسلح افواج کے ساتھ حملہ کر دیا اور ملک کے چپے چپے پر شب و روز بمباری اور گولہ باری کی، جو بعض علاقوں پر آج کل بھی جاری ہے۔ سابقہ مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے جان و مال کو نقصان سے دو چار کرنے کے لئے ہر ممکن حربے اختیار کئے۔ اس عرصے میں افغانستان میں لاکھوں بے قصور لوگ اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہونے کے علاوہ اپنی بے شمار قیمتی املاک کی تباہی سے دو چار ہو گئے ہیں۔ دیگر لاتعداد افراد بے گھر، زخمی اور اپاہج ہو گئے ہیں۔ جن کا ذرائع ابلاغ میں ذکر بہت کم پڑھنے اور سننے میں آیا ہے۔ یہ ہے امریکہ بہادر کا اصل کارنامہ۔۔۔ ایک غریب اور دور دراز خطہ ارض پر واقع ملک افغانستان کے عوام کے ساتھ، جو اب بھی بے سروسامانی کے حالات کے باوجود، امریکہ کی بڑی قوت کے مقابلے میں، جو انمردی سے نبرد آزما ہیں۔

مقبول احمد قریشی ایڈوکیٹ

No comments:

Powered by Blogger.