Header Ads

Breaking News
recent

کشمیر ڈائری : ’بیٹی کی موت میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران انڈیا مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس کی کارروائیوں میں تقریباً 100 عام شہری ہلاک ہوئے اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اس وقت ہزاروں کشمیری نوجوان جیلوں میں قید ہیں اور کشمیری صنعت پر بھی اس کا برا اثر پڑا ہے۔ ان حالات سے کشمیری لوگ ایک عجیب سی ذہنی الجھن کا شکار ہیں اور ماہرین کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں کشمیری خواتین کو طرح طرح کی ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ایسی خواتین کی تعداد میں حالیہ دنوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے.
ماہرین کے مطابق گذشتہ چھ ماہ کے حالات نے تو صورت حال کو ابتر کر دیا ہے اور اس سے خواتین بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ ضلع کلگام کے دمہال ہانجی پورہ کی رہنے والی نسیم بیگم کی 16 سالہ بیٹی یاسمین جان نو جولائی کو اپنے گھر کے باہر سیکورٹی فورسز کی گولی سے ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس دن سے لے کر آج تک نسیمہ صدمے میں ہیں۔ ان کے گھر کے باہر سناٹا ہے۔ جہاں نسیمہ اب پوری طرح خاموش رہتی ہیں وہیں ان کے شوہر غم سے نڈھال ہیں۔

سسکتی لیتی ہوئی وہ کہتی ہیں: 'میں اس لمحے کو کیسے بھول سکتی ہوں جب میری بیٹی کی لاش کو گھر لایا گیا۔ وہ تو اپنے بھائی کو تلاش کرنے نکلی تھی اور واپس اس کی لاش آئی۔ یہاں ہر طرف گولیوں اور آنسو گیس کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ ہر طرف خوف تھا۔‘ انھوں نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ان کی بیٹی کا 12 ویں جماعت کا نتیجہ آیا۔ وہ پاس ہو گئیں لیکن انھیں نیند کے لیے دوائیں لینی پڑتی ہیں۔ 'اس دن سے خوف اور میری بیٹی کی موت میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہے۔'
نسیمہ کے شوہر عبد الرحمن وانی بیٹی کی موت سے نڈھال اور بیوی کے ذہنی الجھن کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'میری بیوی اس دن سے صرف رو رہی ہیں۔ اب یہ امراض قلب کا شکار ہو چکی ہیں۔'

سری نگر کے بیمنا کی رہائشی 48 سالہ شمیم ​​بھی اپنے بیٹے کی جدائی اور اس کی گرفتاری کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے بیٹے کو گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ بہت پریشان ہیں۔ ان کا 18 سالہ بیٹا گذشتہ تین ماہ سے جموں کے کوٹ بلوال جیل میں سنگ بازی کے الزام میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید ہے۔ وہ کہتی ہیں: 'جب سے میرا بیٹا گرفتار کیا گیا تب سے میں سو نہیں پاتی۔ مجھے دوا کا سہارا لینا پڑتا ہے، خاص طور پر امراض قلب کی دوائیں۔ بیٹے کی گرفتاری سے پہلے میں بالکل ٹھیک تھی۔ اب کئی بیماریوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ 'جس رات پولیس آئی اور بیٹے کو لے کر گئی، پورے محلے میں خوف کا ماحول تھا۔ میرے دماغ میں اب بھی وہ چیخ پکار گونج رہی ہے۔ مجھے کئی ڈاکٹروں کے پاس علاج کے لیے لے جایا گیا ہے۔'

نفسیاتی امور کے سرکاری ہسپتال کے سابق سربراہ ڈاکٹر مشتاق مرغوب کہتے ہیں کہ گذشتہ 28 سالوں سے پہلے ہی جو ذہنی الجھنیں خواتین میں تھیں ان میں اب بہت اضافہ ہوا ہے۔' وہ کہتے ہیں: 'گذشتہ چار یا پانچ مہینوں میں کشمیر کے جو حالات رہے، ان میں کرفیو بھی تھا، ہڑتال بھی تھی، تشدد بھی تھا۔ کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا تو ایسی صورت حال میں کشمیری خواتین میں ذہنی تناؤ بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہے۔' ڈاکٹر مرغوب بھی کہتے ہیں کہ وہ تو اب مریض کو دیکھنے کی بجائے کمیونٹی میں جاتے ہیں جہاں ان کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ مریض کون نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا: 'یقینی طور پر جن مریضوں کو میں نے دیكھا ہے اس میں ‎وہ خواتین زیادہ ہیں جو گذشتہ چھ ماہ کے حالات کی داستانیں لے کر آئی ہیں۔'

ایسے جو لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں وہ ماہرین نفسیات کے پاس جانے سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں سماج میں بدنامی کا خوف رہتا ہے۔
سری نگر میں نفسیاتی امور کے ماہر ڈاکٹر مقبول احمد کہتے ہیں کہ وہ 'گذشتہ کچھ مہینوں سے جن مریضوں کو دیکھ رہے ہیں ان میں 60 فیصد خواتین ہیں۔'
ڈاکٹر مقبول کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2016 سے اکتوبر 2016 تک ان کے دو ہسپتالوں میں تقریباً 46،000 مریض آئے۔

ماجد جہانگير
بی بی سی، سرینگر

No comments:

Powered by Blogger.