Header Ads

Breaking News
recent

راولپنڈی کی تاریخی جامع مسجد

اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ 
مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹرزاہداعوان

 

No comments:

Powered by Blogger.