Header Ads

Breaking News
recent

کنگن پور

ضلع قصور، تحصیل چونیاں کا ایک قصبہ۔ یہ نہر دیپالپور کے کنارے چونیاں سے جانب مغرب بیس میل اور قصور ریلوے جنکشن سے ۸۳ میل کے فاصلے پر ہے۔ دفاعی اعتبار سے اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ضلع قصور کا پاک بھارت سرحد کے قریب آخری قصبہ ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابتداً اسے ایک عورت کنگنا رائے نے تیرہ سو برس پہلے آباد کیا تھا اور اس کا نام کنگن پور مشہور ہوا۔ محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملہ کے زمانے میں یہ بستی اُجڑ گئی اور پھر کئی سو برس تک ویران رہی۔ تقریباً تین سو سال قبل علی اکبر مغل نے قصبہ پٹی سے آکر اس پرانے ٹیلے کے اوپر اس کی دوبارہ آبادکاری کی اور اسے پُرانے نام سے موسوم رکھا۔ اس روز سے مغل قوم یہاں کی مالک بنی۔ پھر کھتری، اروڑے اور راجپوت وقتاً فوقتاً آتے گئے اور بستے گئے۔ 


قصوری پٹھانوں کی اس علاقے میں عملداری ہوئی تو انہوں نے یہاں ایک قلعہ بنایا جس میں انگریزی دور میں پولیس کی چوکی قائم ہوئی۔ سکھوں کے عہد میں جوند سنگھ موکل یہاں کا جاگیردار تھا جس نے بھی یہاں ایک قلعہ بنوایا تھا۔ انگریزوں کے پنجاب پر قبضے کے بعد یہ قلعہ مسمار کر دیا گیا۔ ۰۷۸۱ء میں اس کی آبادی ۰۹۳۱ تھی جبکہ ۴۳۳ گھر یہاں موجود تھے۔ ۹۱۹۱ء کی سرکاری رپورٹ کے مطابق یہاں تھانہ اور ڈاکخانہ موجود تھے۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گوردوارہ موجود ہے۔ جو باباگورونانک کی زندگی کے ایک واقعہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا۔

کنگن پور کا گوردوارہ ۹۳۹۱ء میں تعمیرہوا تھا۔ جو اب خستگی کی حالت میں ہے۔ سکھوں کے مذہبی مقامات کے مُصنف اقبال قیصر کے مطابق کنگن پنجاب کا واحد علاقہ ہے جہاں گلہڑ کی بیماری بکثرت پائی جاتی ہے. کنگن پور میں ستلج رینجرز کا وِنگ ہیڈکوارٹر قائم ہے۔ کنگن پور کی علمی و ادبی شخصیات میں عباد نبیل شاد، اسلم شاہد، اسلم عابد، اسلم شیراز، باقر رضا اور نذیر احمد زاہد کے نام نمایاں ہیں۔ کنگن پور کی آبادی ۱۸۹۱ء میں ۹۰۰۲۱ اور ۸۹۹۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۳۴۶۸۱ نفوس پر مشتمل تھی ۔ اب اس کی آبادی ۵۲ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ 

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

No comments:

Powered by Blogger.