Header Ads

Breaking News
recent

جانیے کہ انٹرنیٹ آپ کے بارے میں کیا جانتا ہے؟

کیا آپ کو کبھی یہ احساس ہوا ہے کہ کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے؟ کتنا ڈراؤنا احساس ہوتا ہے، لیکن اگر ہم آپ کو بتائیں کہ آپ انٹرنیٹ پر جو کچھ کر رہے ہیں، ان سب کو دیکھا جا رہا ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو ایک چھوٹا سا براؤزر ایکسٹینشن ’’گھوسٹری‘‘ ہے ،جو بتاتا ہے کہ کسی عام ویب سائٹ پر کتنے ٹریکنگ سکرپٹس ہوتے ہیں۔ صارفین کا یہ ڈیٹا حاصل کر کے یہ ویب سائٹس اشتہارات دینے والوں کو فروخت کرتی ہیں، لیکن کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جو اسے بالکل نئے مقام تک لے جاتی ہیں۔ جیساکہ گوگل اور فیس بک۔ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پر خرچ ہونے والے ہر ایک روپے میں سے 60 پیسے ان کمپنیوں کی جیب میں جاتے ہیں۔ دونوں اپنے صارفین کی معلومات حاصل کرنے کی اعلیٰ ترین صلاحیتیں رکھتی ہیں۔ گوگل کی 79 سے زیادہ مصنوعات ہیں اور اس کا موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ اس وقت دنیا کی 70 سے 80 فیصد سمارٹ فون ڈیوائسز پر موجود ہے۔ 

آن لائن سرچ میں بھی لگ بھگ 79 فیصد گوگل کا قبضہ ہے۔ گوگل سالانہ اشتہارت سے 67 ارب ڈالرز سے زیادہ کماتا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ہم صارف کی صرف تین قسم کی معلومات جمع کرتے ہیں، جو کام ہم کرتے ہیں، جو ہم تخلیق کرتے ہیں اور ہمیں ’’ہم‘‘ بنانے والے کام۔ ہم گوگل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ای میل پڑھتے اور بھیجتے، ویب براؤزر استعمال کرتے ہیں، ایپ سٹور اور ایپس انسٹال کرتے ہیں اور موبائل پر آپریٹنگ سسٹم بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ گوگل جانتا ہے کہ ہم دن کا بیشتر وقت کس جگہ پر گزارتے ہیں۔ ہماری تصاویر، ویڈیوز اور آواز تک کے بارے میں جانتا ہے ،جو ہم کبھی کبھار اپنے کیمرے سے ریکارڈ کرتے ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہم کون سا موبائل استعمال کرتے ہیں؟ 

ہمارے پاس کتنے موبائل ہیں؟ لیپ ٹاپ کون سا ہے؟ اگر ڈیسک ٹاپ استعمال کرتے ہیں ،تو اس کے اقوات کیا ہیں؟ ہم کون سے گانے سنتے ہیں؟ کون سی ویڈیوز میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بہت کچھ۔ اس دوران ہماری ویب سرچ، براؤزنگ کے طریقے، دلچسپیاں اور سب کچھ گوگل کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے اور وہ اپنے اشتہاری پروگرام ’’ایڈورڈز‘‘ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اگر کسی موضوع پر ایک دوبار سرچ کر لیں، تو ہمیں اسی حوالے سے مختلف ویب سائٹس پر اشتہار نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گوگل آپ کے بارے میں کیا کچھ جانتا ہے؟ تو گوگل پر ہی ’’Google Takeout‘‘ سرچ کریں۔ یہاں آپ کو وہ پیج ملے گا، جہاں آپ کا سارا ڈیٹا محفوظ ہے، جسے آپ ڈاؤنلوڈ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا دیکھیں، یہ آپ کا نامہ اعمال ہے۔ 

(انٹر نیٹ سے ماخوذ)

No comments:

Powered by Blogger.