Header Ads

Breaking News
recent

ٹویٹر کے دلچسپ حقائق

ٹویٹر ایک آن لائن خبر رساں اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ہے۔ ٹویٹر کے صارفین 140 لفظوں پر مشتمل اپنے پیغامات آن لائن چھوڑ سکتے ہیں، جسے ’’ٹویٹ‘‘ کہتے ہیں۔ ٹویٹر پر رجسٹرڈ صارفین نئی پوسٹ کر سکتے ہیں اور پڑھ بھی سکتے ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ حضرات صرف پوسٹ پڑھ سکتے ہیں۔ فیس بک کی طرح ٹویٹر نے بھی اپنی ایک ایپلی کیشن متعارف کروا رکھی ہے جبکہ کئی اہم پوسٹوں سے ٹویٹر اپنے صارف کو بذریعہ SMS بھی آگاہ کرتا ہے۔ ٹویٹر کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست سان فرانسسکو میں واقع ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کی 25 شاخیں مزید ہیں۔ ٹویٹر کی ڈیزائننگ اور اعداد و شمار پر کام 2006ء میں ہی شروع کر دیا گیا تھا، تاہم اسے جولائی 2007ء میں عام استعمال کے لیے متعارف کروایا گیا۔ آغاز کے کچھ عرصہ بعد ہی ٹویٹر دنیا بھر کے لوگوں میں مقبول ہو گیا۔
عالمی شہرت سمیٹتے ہوئے 2012ء تک ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 100 ملین تک پہنچ گئی جو ہر روز قریباً 340 ملین پوسٹ کیا کرتے تھے۔ 2013ء میں اسے دنیا کی 10 سب سے زیادہ انٹرنیٹ پر تلاش کی جانے والی ویب سائٹس میں شامل کر لیا گیا۔ ٹویٹر نے گذشتہ امریکی الیکشن 2016ء میں انتخابات کو براہ راست متاثر کیا۔ صارفین کی بڑی تعداد نے پوسٹ کے ذریعہ اپنے رائے سے آگاہ کیا۔ ٹویٹر کا خیال نیویارک یونیورسٹی کے طالب علم جیک ڈور سے کے ذہن میں آیا۔ ڈورسے دراصل ایک ایسا انفرادی SMS گروپ بنانا چاہتے تھے، جس میں شامل تمام افراد کو تازہ ترین خبروں اور دیگر معلومات سے آگاہ رکھا جا سکے۔ 

ڈورسے نے ٹویٹر سے قبل اپنی ویب سائٹ کا نام ’’فرینڈ سٹالکر ‘‘ تجویز کیا، لیکن چند وجوہات کی بنا پر جلد ہی تبدیل کر دیا۔ بعدازاں دوستوں کے مشوروں اور کاروباری نظریے سے دیکھنے پر ڈورسے نے آن لائن انٹرنیٹ سروس 15 جولائی 2006ء میں بحال کر دی۔ بقول ڈورسے وہ ’’فلیکر(سوشل ویب سائٹ)‘‘ سے متاثر تھے۔ امریکی خفیہ ایجنسی CIA ہر روز ٹویٹر پر 5 ملین ٹویٹس کنگھالتی ہے۔ ٹویٹر پر چائنا میں پچھلے 7 سالوں سے پابندی عائد ہے۔ ہر منٹ میں ٹویٹر پر 3 لاکھ 50 ہزار ٹویٹ کیے جاتے ہیں، یعنی ٹویٹر پر ایک دن میں کی جانے والی پوسٹوں سے 10 ملین صفحوں کی کتاب تیار کی جا سکتی ہے۔ مشہور گلوکار جسٹن بائیبر کے ٹویٹر پر سپین کی آبادی سے زیادہ فالوورز ہیں۔

ٹویٹر کے44 فیصد رجسٹرڈ صارفین نے آج تک کوئی ٹویٹ ہی نہیں کیا۔ 2013ء میں کسی ہیکر نے ایسوسی ایٹ پریس کا اکاؤنٹ ہیک کر کے یہ پیغام چھوڑا کہ ’’وائٹ ہاؤس میں 2 بم ہیں جو جلد ہی پھٹنے والے ہیں‘‘۔ ہیکر کی اس حرکت سے امریکن سٹاک مارکیٹ منٹوں میں گر گئی۔ دنیا بھر کے 90 فیصد انٹرنیٹ صارفین ٹویٹر استعمال نہیں کرتے۔ 2013ء میں ٹویٹر نے انکشاف کیا کہ 123456 انتہائی عام پاس ورڈ ہے، جو قریباً 120,000 افراد کے زیرِ استعمال ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی کہ گذشتہ ریو اولمپکس میں ایک انگلش کھلاڑی کو صرف اس بناء پر گولڈ میڈل سے نواز دیا گیا کہ ٹویٹر پر اس کے 9000 فالوورز دوسرے کھلاڑی سے زیادہ تھے۔

دانش احمد انصاری

 

No comments:

Powered by Blogger.