Header Ads

Breaking News
recent

سرتاج عزیز کا دورہ بھارت ۔ بھارت کی ناکامی

بھارت کے حوالہ سے ہمارے قومی جذبات بہت گرم ہیں۔ نہ ہم بھارت سے کوئی میچ ہارنا برداشت کر تے ہیں۔ اور نہ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کہیں بھی ہم سے آگے ہو۔ ہمارے قومی جذبات بھارت کے حوالہ سے شدید ہیں۔ اسی لیے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز کی شرکت کے حوالہ سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ سرتاج عزیز کو اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن یہ تو بھارت چاہتا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کر دے۔ اسی لیے گزشتہ دو ماہ سے بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحدیں گرم کی ہوئی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت بھارت نے پاکستان میں سار ک کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ بھارت کی خو اہش تھی کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کر دے تا کہ اسے اس کانفرنس میں کھلا میدان مل جائے۔ فری ہینڈ مل جائے۔ وہ اپنی مرضی کا اعلامیہ جاری کر سکے۔ لیکن پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ بلکہ اس کے ساتھ دشمن کی سرزمن پر اپنا موقف پیش کر کے سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا بھارت کی کامیابی تھی اور شرکت بھارت کی ناکامی ہے۔ لیکن شاید عام آدمی کو یہ بات سمجھنا نا مشکل ہے۔
سفارتکاری جذبات سے عاری کھیل ہے۔ یہ دل کا نہیں دماغ کا کھیل ہے۔ دشمن کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کر اپنی بات کرنے کا نام ہی سفارتکاری ہے۔ اگر دشمن سے بات چیت بند کر دی جائے تو سفارتکاری ختم ہو جاتی ہے۔ عالمی کانفرنسوں میں عالمی برادری کے سامنے دشمن کی بات کا جواب دینا ہی سفارتکاری ہے۔ بائیکاٹ کوئی سفارتکاری نہیں۔ ایسے میں پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے سفارتی ناکامی نہیں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر پاکستان شرکت نہ کرتا تو اعلامیہ میں پاکستان کا شکریہ نہ آتا۔ بلکہ بھارت کو کھل کر من مانی کرنے کا موقع مل جاتا۔ جہاں تک افغان صدر کی تقریر کا تعلق ہے تو یہ بھی کوئی سرپرائز نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کافی عرصہ سے خراب ہیں۔ افغان صدر نے یہ تقریر کوئی پہلی دفعہ نہیں کی ہے۔ جو ہم اس قدر پریشان ہیں۔ موصوف مسلسل کافی عرصہ سے ایک ہی اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ ہوائی کارگو شروع کرنے کا اعلان کوئی کامیابی نہیں بلکہ ناکامی کا عتراف ہے۔ بھارت کافی عرصہ سے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے پاکستان سے راستہ مانگ رہا ہے۔

افغانستان نے بھی بارہا پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اسے بھارت کے ساتھ زمینی راستہ سے تجارت کے لیے راہداری دے۔ لیکن پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے ہوائی کار گو ٹریڈ کا اعلان کوئی کامیابی نہیں نا کامی کا اعتراف ہے۔ یہ اعلان ہے کہ یہ دونوں ممالک پاکستان پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اور انھوں نے اپنی ناکامی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب بھارت نے پاکستان میں سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے تو جواب میں پاکستان نے بھارت میں ہونے والی عالمی و علاقائی کانفرنسوں کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا۔ کیا یہ سفارتی آداب نہیں۔ کہ جب بھارت پاکستان میں ہونے  والی کسی بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار نہیں تو پاکستان بھارت میں ہونے والی کانفرنسوں میں کیوں شرکت کر رہا ہے۔

اس کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ جب کہ جواب میں پاکستان نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہوا۔ سفارتکاری میں اپنے اپنے اہداف اور اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ اگر بھارت کی جانب سے سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کا علان کا ہی جائزہ لیا جائے تو جب بھارت پاکستان کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس مین شرکت سے نہیں روک سکا تو عالمی سطح پر تنہا نہیں کرے گا۔ یقیناً بھارت نے بیک چینل سے بھر پور کوشش ہو گی کہ پاکستان کو اس کانفرنس میں مدعو نہ کیا جائے لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔اس تناظر میں پاکستان کی شرکت بھارت کی ناکامی ہے۔ لیکن ہمارے نادان دوست مسلسل اس کو پاکستان کی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جہاں تک سرتاج عزیز صاحب کو گولڈن ٹیمپل میں جانے سے  روکنے کا سوال ہے تو اس کو خالصتان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے باہر سکھ خالصتان کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔ ایسے میں اگر سرتاج عزیز خالصتان کے و فد سے ملاقات کر کے انھیں پاکستان کی جانب سے اخلاقی حمایت کا یقین دلوا دیتے تو بھارت میں مودی سرکاری کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ۔ مودی پہلے ہی پاکستانی سفارتکاروں کی کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقاتوں سے پریشان ہے ایسے میں اگر خالصتان کے رہنماؤں کی بھی پاکستانی سفارتکاروں سے ملاقاتیں شروع ہو جائیں تو مودی کے لیے مسائل بڑھ جائیں گے۔

ہمیں اپنے نادان دوستوں کو سمجھانا ہو گا کہ بھارت کے ساتھ سفارتکاری کا کھیل دو اورد و چار کا نہیں ہے۔ جہاں دشمن کا دشمن دوست ہو تا ہے وہاں دوست کا دوست بھی دوست نہیں ہو تا۔ دوستیوں اور دشمنیوں کے اس کھیل میں دروازے بند نہیں کھلے رکھنا ہو ںگے۔ بھارت کے ساتھ برابری کے تعلقات کے لیے ضروری نہیں حماقتیں بھی برابری کی کی جائیں۔ کسی بھی حماقت کا جواب اتنی بڑی حماقت سے دینا کوئی عقلمندی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ دشمن کی سرزمین پر اپنا موقف پیش کرنا ہی اصل سفارتکاری ہے ۔ یہ درست ہے کہ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ سرتاج عزیز نے بات تو کی لیکن لہجہ بہت نرم تھا۔ وہ بھارت اور افغانستان کو اسی لہجے میں جواب دے سکتے تھے۔ جب افغانستان نے امداد لینے سے انکار کیا تھا تو انھیں اپنے پناہ گزین  فوراً واپس لینے کا کہا جا سکتا تھا۔

 مودی کو بلوچستان کی درانداذی کا طعنہ دیا جا سکتا تھا۔ لیکن سرتاج عزیز نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوست اس کو کمزوری بھی کہہ رہے ہیں۔ اورباقی اس کو حکمت عملی بھی کہہ رہے ہیں۔ اس ضمن میں میری رائے بھی یہی ہے کہ کم از کم افغانستان کو تو سخت جواب کی ضرورت تھی۔ افغانستان کے حوالہ سے نرم رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ درست ہے کہ اشرف غنی افغانستان کے ممنون حسین ہی ہیں۔ اصل طاقت عبداللہ عبداللہ کے پاس ہے اور انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی جا چکی ہے۔ لیکن پھر بھی افغانستان کی حوالہ سے سفارتی حکمت عملی اور لہجہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ افغانستان کے حوالہ سے ماسکو اور چین کے ساتھ بھی ایک سہ فریقی مذاکرات ہونے والے ہیں۔ جن میں بھارت اور امریکا نہیں ہیں۔ شاید ان مذاکرات تک افغانستان کے ساتھ حالات کر مزید خراب نہ کرنے کی حکمت عملی کے تحت اشرف غنی کو رعایت دی جا رہی ہے۔ تا ہم سرتاج عزیز کا دورہ امرتسر بھارت کی ناکامی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.