Header Ads

Breaking News
recent

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ

وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔ 
منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔

اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔ 

اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔
 
زرتاشیہ میر

No comments:

Powered by Blogger.