Header Ads

Breaking News
recent

چناب

پنجاب کے بڑے دریائوں میں سے ایک، اس کا پنجابی لفظ ’’چن‘‘ چاند اور فارسی لفظ ’’آب‘‘(پانی) سے مل کر بنا ہے۔ یہ دریا ہماچل پردیش میں تانڈی کے مقام پر دو معاون دریا ’’چندر‘‘ اور’’بھاگ‘‘ کے اتصال سے وجود میں آتا ہے۔ یہ دونوں معاون دریا ہمالیائی پہاڑیوں میں گلیشیئر پگھلنے سے وجود میں آئے۔ بھارت میں یہ دریا ’’چندر بھاگ‘‘ کہلاتا ہے۔ ہماچل پردیش سے جموں و کشمیر میں داخل ہوتا اور پھر پنجاب چلا آتا ہے۔ دریائے چناب تریموں کے مقام پردریائے جہلم سے ہم آغوش ہوتا ہے۔ احمد پور سیال کے قریب دریائے راوی بھی اس سے آملتا ہے۔

اوچ شریف کے قریب ستلج دریا ملنے پر ’’پنجند‘‘ کا تاریخی مقام وجود میں آتا ہے (پانچواں دریا ’’بیاس‘‘ ہے ،جو فیروز پور کے مقام پر ستلج سے ملتا ہے) چناب آخر میں مٹھن کوٹ کے نزدیک دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ قریباً 960 کلو میٹر لمبا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی رو سے اس کا پانی پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔ پنجاب میں بسنے والوں کے لیے چناب ایسی ہی دیومالائی حیثیت رکھتا ہے، جیسی ’’رائسن‘‘ جرمنوں یا ’’ڈینوب‘‘ آسٹروی وہنگرین باشندوں کے لیے۔ ہیر رانجھا اور سوہنی مہینوال کی لوک داستانوں میں چناب کا کردار بڑا اہم ہے۔

 (پاکستان کی سیر گاہیں)

No comments:

Powered by Blogger.