Header Ads

Breaking News
recent

مان لیجیے، پاکستان سے بڑھ کر بہتر جگہ کوئی نہیں

حارث کی کال آئی تو سب اس جانب متوجہ ہوگئے۔ حارث اپنے والدین کا لاڈلے تھا جس کی وجہ سے اُسے یہاں ہر قسم کی سہولیات میسر تھی، لیکن بیرون ملک جا کر وہ بالکل اکیلا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے اُس کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جب جب اُس سے رابطہ ہوتا ہے تب تب ہم یہ اُمید کرتے ہیں کہ حارث کو اب اچھی نوکری مل گئی ہو گی اور وہ وہاں اچھی زندگی گزار رہا ہو گا، مگر ہر بار حارث کا ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ ’’بس بھائی کیا پوچھتے ہیں، دیکھیں انشاء اللہ بہت جلد کچھ ہوجائے گا‘‘۔ حارث کا تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اُس کے حالات سن کر ہمیں ضرور مایوسی کے گہرے بادل اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیتے ہیں، مگر شکر یہ کہ ہر ہر بار اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مایوسی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا کہ؛ ’’خبردار مایوسی کفر ہے‘‘۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل ایک عرصے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ امسال بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر اس کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں اوورسیز پاکستانیز کمیشن فعال دکھائی دیا۔ پنجاب میں اس پر کچھ مزید پیش رفت بھی ہوئی اور اضلاع کی سطح تک کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ جنہیں ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہوئیں۔ کمشنر اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب نے دعویٰ بھی کیا کہ اب تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی 4 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 50 فیصد حل کی جا چکی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جارہا ہے۔
گزشتہ روز ایک رپورٹ نظروں سے گزری۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، آسٹریلیا، عراق، ایران، بھارت، افغانستان سمیت 86 ممالک کی جیلوں میں 21 ہزار 790 پاکستانی قید ہیں، جن میں سے بی کیٹیگری کے کیسز میں 10 ہزار 127 کی تعداد میں پاکستانی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت سمیت کئی ممالک میں تو بغیر کسی الزام کے بھی متعدد پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔ بیرون ملک جیلوں میں بند پاکستانیوں کے ورثاء سالوں سے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور دیگر دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے لیکن کوئی نوید نہ ملی۔ متعلقہ سفارتخانوں نے بھی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔ میڈیا کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کئی پاکستانی معمولی جرائم کی پاداش میں کئی کئی برسوں سے جیلوں میں قید ہیں۔

بھارت سمیت چند ممالک میں موجود پاکستانی قیدیوں کو سزائیں پوری ہونے کے باوجود رہائی نہیں دی گئی۔ جاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اس مسئلہ پرموجودہ دور حکومت میں 3 مرتبہ رپورٹس مانگیں، جس پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ بھی دی لیکن پھر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ یہ بات بھی درست ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس دستاویزات مکمل نہیں تھیں اور اکثر معمولی جرائم پر کئی کئی برس سے قید کاٹ رہے ہیں۔

بیرون ممالک پاکستانیوں کی مشکلات کے لئے متعلقہ اداروں کو پہلے سے کہیں بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا دوست حارث بھی ایک سال قبل سعودی عرب میں رزق حلال کی تلاش کے لیے گیا، لیکن وہاں اسے بھی وہاں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے یہ سوچتے ہیں کہ شاید بیرون ممالک جاکر وہ بہت بہتر زندگی بسر کریں گے، مگر حارث کی باتیں سن کر شاید مجھے یہ محسوس ہوا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جب حارث سعودی عرب کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اُس الوداع کرنے حیدرآباد سے پورا خاندان کراچی آیا ہوا تھا۔ اُس وقت تو سبھی خوش تھے کہ حارث باہر جا رہا ہے، اب اُس کے حالات اچھے ہوجائیں گے، وہ وہاں خوش رہے گا مگر کسی اور کے دیس میں جا کر کیا ہوتا ہے یہ وہاں جاکر ہی معلوم چلتا ہے۔

حارث بھائی کو رخصت کرتے وقت ایک بات کا احساس تھا کہ واپسی کے لئے آنا ان کے اپنے بس کی بات نہیں ہے۔ صرف جانا اپنے اختیار میں ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ کچھ روز قبل بیرون ملک سے واپس آئے ایک شخص نے بتایا کہ وہ جس مقصد کے لئے گیا تھا وہ تو کہیں کھو کر رہ گیا کیونکہ اُس کےعلاوہ انہیں وہاں بہت سے دیگر کام بھی کرنے پڑتے تھے۔ حقوق کی باتیں کرنے والے خود کس طرح نسل پرستی میں ڈوب کر حقوق سلب کرتے ہیں اس بات کا اندازہ حماد سعید کی باتوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں کی مقامی پولیس اور مقامی باشندے تو گویا مقدس گائے ہیں۔ آپ کو وہ کچھ بھی کہیں، ماریں، آپ کا استحصال کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر آپ نے ہلکی سی آواز بھی بلند کی تو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی اور رہی سہی کسر وہاں کی پولیس پوری کردے گی۔

اپنے حق میں آواز بلند کرنے کا ایک ہی صلہ ملتا ہے اور وہ ہے قصور وار ٹھہرایا جانا اور پھر کچھ دن جیل میں گزارنا۔ حماد کے وہاں پہنچتے ہی ان کے ضروری کاغذات لے کر اپنے پاس رکھ لئے گئے۔ پھر اس وقت تک نہیں دیئے گئے جب تک جیل کی ہوا کھانے کے بعد انہیں ملک کے لئے واپس زبردستی کے انداز میں بھیج نہ دیا گیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ جتنا کمایا تھا اتنا ہی لگ گیا، واجبات بھی نہیں ملے اور الٹا جان کے لالے پڑ گئے۔ ایک دوست عبداللہ بھی کچھ دن قبل ہی لوٹے ہیں، اچانک غائب ہوئے اور کچھ دن بعد ان کا پغام موصول ہوا کہ مقامی حضرت سے الجھ بیٹھے تھے، جس کا خمیازہ انہیں کئی روز جیل میں گزارنے کی صورت میں ملا اور اس کے بعد اب انہیں ٹھیک ٹھاک بےعزت کرکے ملک واپس بھیجا جارہا ہے اور ایک دو دن میں قانونی کارروائی کے بعد عزت سے روزی روٹی کمانے کے لئے جانے والے عبداللہ سمیت کئی پردیسیوں کو نکال باہر کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز 25 اکتوبر 2016ء کو اس معاملے پر اجلاس طلب کرچکی ہے اور بیرون ممالک پاکستانیوں کی قید کے حوالے سے غور کیا گیا ہے۔ تاہم ضرورت ان اجلاسوں کی نہیں ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کبھی سوچا کہ جن کے لال بیرون ممالک قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں، غیروں کے رحم و کرم پر ہیں ان کے گھروالوں کی راتیں اور دن کیسے کٹتے ہوں گے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جن کا انگ انگ اپنے رشتوں کے ساتھ ایسے جڑا ہوا کہ درد کہیں ہو تو تکلیف دوسری جانب بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایک بہن اپنے بھائی کے لاڈ و پیار میں، ایک ماں اپنے بیٹے کی ممتا میں، ایک بھائی اپنے بھائی کے پیار میں اور ایک خونی رشتہ اپنے خونی رشتے کی تکلیف میں ویسے ہی یہاں تڑپتے ہیں جیسے وہاں ان کے لال غیروں کے قید خانوں میں تڑپتے ہیں۔

جانے والوں کو بھی سمجھ بوجھ کر جانا چاہیئے کہ دور کے ڈھول بہت سہانے ہوتے ہیں پیارے، مگر حقیقت شاید ویسی نہیں جیسی نظر آتی ہے۔ یہ اپنا دیس، اپنا ملک اور اپنا وطن ہے۔ جیسا بھی ہے جس طرح کا بھی ہے مگر اپنا ملک ہے، یاد رکھیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ سمیت تمام پاکستان کا نعم البدل کہیں نہیں ہے۔ یہاں کی مٹی اور اس میں بسی اپنوں کی اپنائیت دنیا کے کسی کونے میں کبھی بھی نہیں ملے گی۔ دو چار روپے تو مل جائیں گے مگر ماں کبھی نہیں ملے گی۔ عزت و شہرت کے بعد رسوائی تو مل جائے گی مگر بھائی، بہن اور دوست احباب کبھی نہیں ملیں گے۔ یہ ملک بہت کچھ دے رہا ہے اس لئے یہیں رہ کر اسے کچھ دیں اور پھر اس سے کچھ لیں۔

عارف جتوئی

No comments:

Powered by Blogger.