Header Ads

Breaking News
recent

کشمیر میں سکول کیوں جل رہے ہیں؟

چند ہفتوں میں کشمیر کے مختلف مقامات پر دو درجن سے زیادہ سرکاری سکول
پراسرار آتشزدگی کے باعث خاکستر ہوگئے ہیں۔ یہ وارداتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب حکومت علیحدگی پسندوں کی کال پر جاری ہڑتال کا زور توڑنے کے لیے سکول کھولنے اور امتحانات منعقد کرنے پر بضد ہے۔ اس دوران حکومتِ ہند نے بھی کشمیر کی انتظامیہ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ فوری طور پر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں، جس کے بعد پولیس نے سکول کھولنے کے لیے ایک ’ایکشن پلان‘ مرتب کیا ہے۔ اس حوالے سے حزبِ اختلاف کے رہنما اور سابق وزیراعلی عمرعبداللہ کہتے ہیں کہ ’سکول کھولنے کا عمل حالات ٹھیک ہونے کی علامت نہیں ہونا چاہیے۔‘ لیکن اس پیچیدہ پس منظر میں اہم سوال یہ ہے کہ سکول کیوں جل رہے ہیں؟

علیحدگی پسند پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’سکولوں کو نذرآتش کرنے والے تحریک کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔‘ لیکن ہند نواز سیاسی حلقوں اور بعض سماجی تنظیموں نے حریت کانفرنس کے اس بیان کو ناکافی اور مبہم قرار دیا ہے۔ عمرعبداللہ کی نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف حکومت سکولوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہے وہیں دوسری طرف علیحدگی پسند براہ راست ایک جُرم کی مذمت کرنے کے بجاے محض دامن جھاڑنے پر اکتفا کر رہے ہِیں۔ حالیہ دنوں رہا کیے گئے علیحدگی پسند رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ سکولوں کو جلانے میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور ان کے وزیرتعلیم نعیم اختر کا ہاتھ ہے۔
32 سال قبل جنوبی کشمیر میں پراسرار واردات میں خاکستر ہوئے بعض مندروں کی مثال دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ جن لوگوں کو اُس واقعے میں ملوث کے لیے سزا ہوئی تھی وہ محبوبہ مفتی کے والد اور سابق وزیراعلی مفتی محمد سعید کے کارکن تھے۔ یاسین ملک کے بقول ’مفتی صاحب اُس وقت کے وزیراعلی جی ایم شاہ کی حکومت گرانا چاہتے تھے۔ اگر اُس وقت حکومت گرانے کے لیے آپ مندر جلا سکتے ہو، تو آج تحریک کو بدنام کرنے کے لیے آپ سکول کیوں نہیں جلاسکتے۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک سنگین الزام ہے۔ اس کے جواب میں وزیرتعلیم اور حکومت کے ترجمان نعیم اختر نے کہا کہ یاسین ملک نے دراصل سکولوں میں آتشزدگی کے لیے طلبہ کو ہی بالواسطہ طور پر قصور وار ٹھہرایا ہے۔ سخت ترین الفاظ والے استعمال کرتے ہوئے نعیم اختر کا کہنا تھا ’یہ بالکل غلط بات ہے کہ امتحانات نے طلبا کو سکول جلانے پر مجبور کیا۔ طلبا نے تو کئی مقامات پر آگ بجھانے میں مدد کی۔ دراصل یہ یاسین ملک جیسے لوگوں کے امتحان کی گھڑی ہے، کیونکہ مسٹرملک اور ان جیسے لوگوں کو اب عوام کے ان سوالات کا سامنا ہے کہ آخر کیوں وہ لوگوں کو اقتصادی بدحالی اور ناخواندگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔‘
نعیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ علیحدگی پسند شیر پر سوار ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح کشیدگی جاری رہے۔

اس دوران ریاست کی عدالت عالیہ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ فوری طور اس معاملے کی تحقیقات کرے اور سکولوں کو تحفظ فراہم کرے۔ عدالتی حکم نامے کے فوراً بعد پولیس نے سکول جلانے کے الزام میں دس افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ مزید 16 افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ ادھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم کئی مسلح گروپوں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل‘ نے بھی سکولوں کو عوامی اثاثہ قرار دے کر آتشزدگی کی وارداتوں کا الزام سیکورٹی ایجنسیوں پر عائد کیا ہے۔

 دریں اثنا انسانی حقوق کے عالمی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک بیان میں حکومت ہند سے کہا ہے کہ سکولوں میں مقیم فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کو واپس بلایا جائے، طالب علموں اور اساتذہ پر حملوں کو روکا جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے سلامتی کا مناسب ماحول قائم کیا جائے۔ تنظیم کی ترجمان میناکشی گانگولی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کے لیے محفوظ ماحول قائم کرکے ’سیف سکول ڈیکلیریشن ‘ نامی عالمی قرارداد کی عملاً توثیق کریں۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق بچوں اور اساتذہ پر حملے، سکولوں کو فوجی کیمپ میں تبدیل کرنا یا بچوں کو جنگجو بنانے پر آمادہ کرنا ایسے عوامل ہیں جن سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ فی الوقت چار ہزار سکولوں میں سولہ لاکھ طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ ان سکولوں میں سرکاری سکولوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ غور طلب ہے کہ سینکڑوں نجی سکول وادی کے چپے چپے پر ہیں، آتشزنی کے لیے تخریب کاروں کو سرکاری سکول ہی کیوں ملتے ہیں؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکول جلانے کے پیچھے جو بھی ہاتھ کارفرما ہوں، لیکن یہ طے ہے کہ اس صورتحال پر سیاست ہورہی ہے۔

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر


No comments:

Powered by Blogger.