Header Ads

Breaking News
recent

بوریوالہ

ضلع وہاڑی کا شہر اور تحصیل۔ وہاڑی سے ۳۵ کلومیٹر مشرق کی طرف لودھراں قصور ریلوے سیکشن پر واقع ہے اور بذریعہ سڑک ملتان، لاہور، ساہیوال اور فیصل آباد سے ملا ہوا ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی ۴۰۰ فٹ کے قریب ہے۔ بوریوالہ کے مشرق کی طرف عارفوالہ، شمال مشرق میں چیچہ وطنی، مغرب میں وہاڑی اور جنوب کی طرف دریا ستلج کے پار ضلع بہاولنگر ہے۔ یہ علاقہ کسی زمانے میں ایک وسیع جنگل تھا اور یہاں کی لکڑی دوسرے علاقوں میں بھیجی جاتی تھی۔ ۱۹۰۵ء میں اس قصبہ کی جدید آباد کاری سے قبل یہاں جو چھوٹی سی قدیم آبادی تھی اسے بوڑا سنگھ نامی شخص نے آباد کیا تھا۔ اسی نسبت سے اس کا نام بوریوالہ مشہور ہوا۔ ایک اور روایت کے مطابق یہاں کی دو قدیم بستیوں کے اردگرد خود رو درخت اُکاں اور لئی کثرت سے اُگتے اور ان پر بُور پھولوں کی صورت میں لگتا، جسے مقامی مویشی بصد شوق کھا کر اپنا پیٹ بھرتے، وہی بُور بعدازاں بُورا مشہور ہوگیا، جسے آج بورے والا کہتے ہیں۔
اس روایت پر زیادہ یقین نہیں کیا جاتا۔ حقیقت میں یہاں پہلے ’’چاہ بوڑے والا‘‘ کی بستی موجود تھی۔ انگریزی دور میں جب پاکپتن نہر جاری ہوئی، تو اس علاقے میں زراعت کا رواج ہوا اور جنگل صاف ہونا شروع ہوگیا اس طرح آبادی چکوک میں تبدیل ہوتی گئی۔ بوریوالہ کو EB/۴۳۹ کا نام دیا گیا، پھر یہاں ریلوے ا سٹیشن قائم ہو گیا اور رفتہ رفتہ اسے ایک زرعی منڈی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ ۱۹۲۵ء میں یہاں منڈی قائم کی گئی۔ ۱۹۲۷ء میں اسے نوٹیفائیڈ ایریا کا درجہ حاصل ہوا۔ ۱۹۵۹ء میں میونسپل کمیٹی بنایا گیا جبکہ ۱۹۶۶ء میں میونسپل کمیٹی سکینڈ کلاس کا درجہ دیا گیا۔ ۱۹۴۲ء میں ۴۳۹ گائوں، یعنی ۸۰۴ مربع میل کا علاقہ میلسی سے الگ کر کے نئی تحصیل وہاڑی میں شامل کئے گئے، تو بورے والا وہاڑی کی سب تحصیل بن گیا۔ اس تحصیل کا رقبہ ۳۲۴۴۷۴ ایکڑ ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس علاقے میں زیادہ تر سکھ زمیندار تھے اور مسلمان ان کے مزارعے ہوتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہاں کافی تعداد میں مسلمان مہاجرین آکر آباد ہوئے۔ بھارت کے مشہور اداکار راجیش کھنہ کی پیدائش بوریوالہ کی ہے۔

ان کے والد ہیرا لال کھنہ قیامِ پاکستان سے قبل گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ علم وادب کے حوالے سے بوریوالہ میں کئی ادبی تنظیمیں اور شخصیات متحرک رہی ہیں۔ یہاں کے معروف ادیبوں اور شعراء میں غلام حیدر مستانہ، علی محمد ملوک، حکیم شہزاد اور اے غفار پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ غلام حیدر مستانہ ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸۲ء میں وفات پائی۔ ’’گلزر سسّی‘‘ اور ’’کشکول مستانہ‘‘ ان کی تصانیف ہیں۔ علی محمد ملوک ۱۹۳۵ء میں پیدا ہوئے۔ بوریوالہ کے مشہور روحانی بزرگ اور صوفی شاعر بابا فقیر اللہ قادری کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور شعر وشاعری کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے پنجابی اور اُردو دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ان کی پنجابی غزلوں کا مجموعہ ’’مور مچلدیاں سوچاں‘‘، ’’ساہواں دور سمندر پنیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ پنجابی اور اُردو کے شاعر اور ادیب فتح محمد ناز اور پروفیسر سیّد مسعود ہاشمی کا تعلق بھی بوریوالہ سے تھا۔ فتح محمد ناز کا انتقال ۱۹۷۸ء میں ہوا تھا۔ گلشن راز، حدیقہ راز، نوائے دلگداز آپ کی تصانیف ہیں جبکہ پروفیسر سیّد مسعود ہاشمی کی کتب پیش دستی، بیسویں صدی میں تنقید اور بارشوں کا مسافر (سفرنامہ) شائع ہوئیں۔

افسانہ نگار جمیل اور عدیل کا تعلق بھی بورے والہ سے ہے۔ موم کی مریم، زرد کفن میں نخل ایمن، بے خواب جزیروں کا سفر، سیاق و سباق، نایاب لمحے، تو جو ہم سفر ہو جائے، نفی اثبات، برجستہ، سرزمین آسمان میں چند روز، قیل و قال اور کانپتی شاخیں وغیرہ آپ کی تخلیقات ہیں۔ بوریوالہ کے دیگر شعراء میں محمود غزنوی، کاشف سجاد، پروفیسر جعفر سلیم، شبیر احمد جعفری، ڈاکٹر صفدر حسین برق، پروفیسر راشد سدھو، اقبال عاجز، فرہاد مغل، طاہرہ عروج، اکرم باجوہ، کلیم شہزاد، جاوید جوئیہ، عمران فہیم، افضل پارس، وحید اور بشارت کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ بوریوالہ کی آبادی ۱۹۷۲ء میں ۵۷۷۴۱، ۱۹۸۱ء میں ۸۶۳۱۱ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۱۵۲۰۹۷ نفوس پر مشتمل تھی۔ اب اس کی آبادی دو لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ 

اسد سلیم شیخ
(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)
 

No comments:

Powered by Blogger.