Header Ads

Breaking News
recent

شیخ فاضل : ۱۵۳۸ء کے لگ بھگ آباد ہوا

ضلع وہاڑی اور تحصیل بوریوالہ کا قصبہ شیخ فاضل، بوریوالہ سے چیچہ وطنی جانے والی سڑک پر دس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک سڑک گگو کے ساتھ بھی جا ملتی ہے۔ یہ قصبہ یہاں مدفون روحانی بزرگ شیخ محمد فاضل کے نام سے قریباً ۱۵۳۸ء کے لگ بھگ آباد ہوا۔ آپ عارفوالہ کے نواحی قصبہ شیخوپورہ جسے ٹبہ انگ پال بھی کہا جاتا تھا، وہاں سے اُٹھ کر تبلیغ دین کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ پرانی آبادی اب تک موجود ہے، پھر جب اس علاقے میں نہر پاکپتن جاری ہوئی ،تو اس کی آبادی میں اضافہ ہوا اور زراعت کو فروغ ملا، یہاں سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر سکھ بیاس گزرتا ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر چشتی خاندان کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں ہر سال شیخ محمد فاضل کا عُرس میلہ   ۱۲ تا ۱۴ ساون کو ہوتا ہے۔ یہ علاقے کا بڑا مشہور میلہ ہے، جس میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

 یہاں سکول، ہسپتال، ڈاکخانہ، کینال ریسٹ ہائوس، گرڈ سٹیشن موجود ہیں۔ میلسی کے نثر نگاروں میں پروفیسر سیّد زین الدین حسین نقوی مرحوم، پروفیسر سیّد محمد شبیر قطبی مرحوم، پروفیسر ڈاکٹر علی شیرطور، قاری نذیر احمد الٰہ آبادی، ممتاز خاں ڈاہر جنہوں نے تاریخ میلسی اور سیاحتِ لفظی نام کی کتب شائع کرائیں، مرید عباس خاور جن کے ناول صدیوں کا سفر اور شہر بے چراغ، سعید احمد سعید کا افسانوی مجموعہ تشنہ لب شائع ہوئے۔ دیگر نثر نگاروں میں مرید عباس الماس، سیّد امجد عقیل شمس، مظہر حسین مظہر، محمد افضل ثاقب، محمد شاہد حفیظ، طالب حسین بھٹی، حسینوی درویش میلسی، فرزانہ ریاض، کوثر پروین، آسیہ مقصود کا شمار بھی یہاں کے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ طارق نواز کی کتب روشنی کا سفر اور مشاہیر ضلع وہاڑی، محمد اکرم قصوری ایڈووکیٹ کا سفرنامہ پاک پربتوں کا دیس شائع ہوئے۔ میلسی کے شفیق الرحمن الٰہ آبادی کا شمار ادبی مضمون نگاروں میں ہوتا ہے۔ آئینہ خیال کے نام سے ان کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ 

(اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) 

No comments:

Powered by Blogger.