Header Ads

Breaking News
recent

نواز حکومت ، فنا اور بقا کے دوراہے پر

ڈان میں سیرل المیڈا کی خبر نے جو فتنہ جگایا تھا وزیر اطلاعات و نشریات پرویز
رشید کو فارغ کرنے سے کیا وہ ختم ہو گیا ہے یا فتنہ سامانی کا سلسلہ مزید پھیلے گا۔ حکومتی پارٹی کے اہم رکن مشاہد اللہ خان نے جب کہا حکومت اور فوج ایک صفحہ پر نہیں ہیں تو اس پر مثبت ، منفی انداز میں مختلف تبصرے ہوئے ۔ تاہم اس بیان میں اس حد تک صداقت ضرور تھی کہ حکومت اور فوج میں وہ ہم آہنگی نہیں جو آصف زرداری کے دور میں جنرل اشفاق پرویز کے حوالے سے فوج کے ساتھ تھی یا جنرل پرویز مشرف کی وساطت سے ق لیگ کی تھی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے فوج کے ہاتھوں جو دکھ اٹھائے اگرچہ اس کا کوئی کردار اب اپنی اس پوزیشن میں نہیں ہے لیکن ناخوشگوار لمحات کی تلخ یادوں نے ان کے دل و دماغ پر بدستور سایہ کر رکھا ہے اس پر گذشتہ دو ادوار جیسی ہم آہنگی اگر نہیں ہے تو یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ تاہم اس نیم ہم آہنگی میں بھی بہت بڑی دراڑ پڑ گئی ۔

جب مشترکہ اجلاس کے حوالے سے ڈان میں خبر خاص پیرائے میں شائع ہوئی جسے قومی سلامتی کے منافی سمجھا گیا اور یقینا یہ خبر اپنے اندر سنگینی کی صورت رکھتی ہے ۔ قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خبر کیوں شائع کرائی گئی ۔ اس خبر کی اشاعت سے کس مقصد کا حصول پیش نظر تھا اور کون کون اس کا ذمہ دار ہے فوج کی جانب سے اس وضاحت کے لیے اصرار تھا۔ اس معاملہ پر ’’مٹی پائو‘‘ کی آخری کوشش وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار ، وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی آرمی ہائوس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات تھی ۔ ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں حکومتی وفد اپنا مقصد حاصل نہ کر سکا ۔ ذرائع کے مطابق حکومتی سفارشات قبول نہیں کی گئیں اور یہ خبر جسے پلانٹڈ قرار دیا گیا ہے کے اصل کرداروں کو سامنے لانے پر اصرار برقرار رہا۔
فوج ایک منظم ادارہ ہے اس کا ہر کام نہایت باریک بینی سے ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے اس سلسلے میں شواہد اکٹھے کئے گئے جن میں خبر کی اشاعت کے ذمہ دار سیرل المیڈا سے تمام تفصیلات کا حصول بھی شامل ہے ۔ جس کے بعد اسے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی فوج کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ بڑھایا گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو اسی نوعیت کی آڈیو اور وڈیو ٹیپس بھیجی جاتی رہی ہیں اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری لوگوں پر مشتمل ایک گروپ جو حکومتی پے رول پر ہے بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ آرمی ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی وفد کو اس حوالے سے تمام شواہد فراہم کر دیئے گئے جن میں موبائل فون ، وائبر اور واٹس اپ کے ذریعہ سازش کے کرداروں کے باہمی رابطوں کی ریکارڈنگ شامل ہے ۔ بتایا گیا ہے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے یہ ’’کارنامہ‘‘ انجام دیکر حکومتی حلقوں کو یہ باور کرایا کہ ماسٹر سٹروک کھیل کر پہلی بار عسکری قیادت کو بیک فٹ کر دیا گیا ہے اور یہ کہ جنرل راحیل شریف ریٹائر ہونے والے ہیں اور جو بھی نیا چیف آئے گا اس حوالے سے وہ اور آئی ایس آئی دفاعی پوزیشن میں آ جائیں گے اور اس طرح من مرضی کے فیصلے ممکن ہوں گے ۔

اعلیٰ حکومتی حلقوں کے لئے اس میں یقینا آسودگی کے پہلو ہیں مگر معاملہ ’’ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘‘ والا بن گیا ہے کیونکہ ہدف کوئی سیاسی قوت نہیں فوج جیسا منظم ادارہ ہے جس نے جنگی بنیادوں پر تمام متعلقہ شواہد اکٹھے کئے اور حکومتی وفد کے سامنے رکھ دیئے ۔ حکومتی وفد نے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس میں وزیراعظم نواز شریف کا ہاتھ نہیں ہے جس پر کہا گیا کہ اس سازش کے کردار اب بھی حکومت میں شامل ہیں ۔ جس پر وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو فارغ کر دیا گیا ایک اطلاع کے مطابق سیرل المیڈا نے اس خبر کے سلسلے میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری سے بھی رابطہ کیا تھا ۔ اعزاز چودھری کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت کے صحافتی و سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ میں سفیر بننے کے آرزو مند ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ پنجاب کے آئی جی کو بھی تحقیقاتی کمیٹی طلب کر سکتی ہے پنجاب میں جن کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے فہرست دی گئی تھی ۔ ایک سال بعد بھی کارروائی نہیں ہو سکی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے صوبے میں رینجرز کو بھی آپریشن سے روکا ہوا ہے ۔ یہ سارے معاملات کیونکہ قومی سکیورٹی سے متعلق ہیں اس لئے فوج اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ 

اس لئے اس معاملہ کے تمام کرداروں کو سامنے لایا جانا یقینی امر ہے جن پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے ۔ جس کی سزا وارننگ سے قید اور موت بھی ہے اس لئے ممکن ہے بعض کرداروں کو قید اور بعض کو وارننگ دے دی جائے لیکن یہ امر طے ہے کہ یہ معاملہ منطقی انجام تک ضرور پہنچے گا ۔ تحقیقاتی ٹیم کی خاص بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ، آئی بی اور ایم آئی پر مشتمل ہے اس میں کوئی سول ایجنسی شامل نہیں ہے ۔ بعض حلقے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی ملوث کر رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم ہائوس میں قائم میڈیا سیل کی سربراہ ہیں البتہ میں ذاتی طور پر خوش گمانی رکھتا ہوں کہ ایک سابق فوجی آفیسر کی شریک حیات ہونے کے ناطے وہ فوج کے لیے منفی جذبات نہیں رکھتیں ۔ بیگم کلثوم نواز کی تحریک کے دوران جب (ن) لیگ کے کچھ کارکن ’’وردی والا ، وردی والا ‘‘ کے نعرے لگاتے تو کیپٹن صفدر فوری رد عمل ظاہر کرتے ’’یارو ، وردی والا نہیں صرف مشرف کا نام لو ‘‘مجھے لگتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ وفادار کام دکھا گئے یا انہیں استعمال کر لیا گیا اصل صورتحال کیا ہے یہ تو تحقیقات کے بعدہی سامنے آئے گی۔ جبکہ بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مریم نواز نے اس خبر کے اہم نکات وزیراعظم کے پریس سیکرٹری محی الدین وانی سے تیار کروائے اور وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید نے پرنسپل انفارمیشن آفسیر رائو تحسین کے ذریعہ اشاعت کا اہتمام کیا۔

جہاں تک پرویز رشید کا تعلق ہے ۔ پلانٹڈ خبر کے علاوہ ان کے فوج کے خلاف جارحانہ بیانات کو بھی عسکری حلقوں میں ناپسندیدگی سے دیکھا جا رہا ہے جس میں کسی فوجی آفیسرز یا جنرل نہیں بلکہ بطور ادارہ فوج کو ہدف تنقید بنایا گیا ۔ وزیراعظم سے ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے پرویز رشید کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا ۔ فوجی جرنیل ملک کو برباد کرتے ہیں پھر نواز شریف سے کہتے ہیں اسے دوبارہ مل کو پائوں پر کھڑا کرو ۔ اس بیان کی بھی وضاحت طلب کی گئی تھی جس کے بعد پرویز رشید نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں اور گذشتہ دو چار روز سے وہ اپنے دفتر میں نہیں جا رہے تھے ۔ علاوہ ازیں بعض ذرائع کے مطابق متذکرہ خبر کے علاوہ بعض دیگر معاملات میں بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی شکایات ہیں ۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے اتحادی محمود خان اچکزئی کو کابل بھیجا تھا تو انہوں نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں جبکہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بھی ایسا خطاب کیا تھا جس پر ملک بھر میں شدید غاضبانہ رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعظم ہائوس کی بجائے آرمی ہائوس میں ہوا اور حکومتی وفد کو آرمی ہائوس جانا پڑا ۔ بعض حلقوں کی اس رائے پر غور کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی حکومت کو فی الحال خطرہ نہیں ہے مگر اسے مزید برقرار رکھنے یعنی 2018ء تک حکومتی تسلسل جاری رکھنے کے لئے اپنے روائتی طرز عمل کو تبدیل کرنا ہو گا ۔ امریکہ کا طاقتور صدر بھی خارجہ پالیسی میں پینٹا گون کے مشوروں کو بنیاد بناتا ہے اس کے علاوہ وزیراعظم کی سیاسی بقا اس میں مضمر ہے کہ وہ حکومتی قوت کی بجائے (ن) لیگ کو مضبوط بنا کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کریں۔

 اسرا ر بخاری


No comments:

Powered by Blogger.