Header Ads

Breaking News
recent

ماچھیوال

ضلع وہاڑی اور تحصیل بوریوالہ کا یہ چھوٹا سا قصبہ بوریوالہ سے وہاڑی جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ یہ لنگڑیال قوم کے نامور فرد ملک ماچھیا کے نام پر سکھ دور حکومت میں آباد ہوا۔ اس خاندان کے مورث موضع گڑھ والا تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک سے ترک سکونت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہوئے، پھر دریائے بیاس کے خشک ہو جانے پر ضلع ملتان میں آبسے اور لُوٹ مار کا پیشہ اختیار کیا۔ رنجیت سنگھ کے عہد میں ملک اللہ بخش کو معافی عطا ہوئی اور اس کے پوتے ملک ماچھیا لنگڑیاں کو انگریزوں کے عہد میں مختلف خدمات کے عوض مختلف علاقوں میں جاگیریں عطا ہوئیں۔ اس خاندان کے ملک نہال اور ملک بہاول نے انگریزوں کی بڑی خدمات انجام دیں۔ 

ملک ماچھیا نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، گوگیرہ جنگ، جنگ کابل ۱۸۷۹ء اورمہم مصر و ابی سینا ۱۸۸۵ء اور مہم مالا کنڈ ۱۸۹۷ء میں نمایاں خدمات انجام دیں، جن کے صلہ میں ملک موصوف کو ماچھی وال کا رقبہ عطا ہوا۔ وہ ذیلدار مال اور ذیلدار پولیس بھی رہے۔ ملک ماچھیا کے لڑکے ملک محمد فاضل بعدازاں ضلع ساہیوال کی طرف اپنی زمینوں پر منتقل ہو گئے تھے۔ ماچھی وال کا پہلا نام ماچھیا نوالہ ہے ،مگر اب ماچھی وال ہوگیا ہے۔ یہاں ریلوے اسٹیشن، طلبا و طالبات کے سکول، ہسپتال اور کپاس اوٹنے اور تیل کے متعدد کارخانے بھی ہیں۔ اس علاقے میں کپاس اور گندم کی پیداوار عام ہوتی ہے۔ 

(اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

No comments:

Powered by Blogger.