Header Ads

Breaking News
recent

وادی کرم کے آبی مقامات

وادی کرم کے آبی مقامات جن میں دریائے کرم، بادان ڈیم اور مولو گلی ڈھنڈ شامل ہیں، آبی پرندوں کی نقل مکانی کے راستہ پر واقع ہونے کی وجہ سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ 

چشمہ بیراج
اس آبی مقام کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں نقل مکانی کرکے آنے والے دو لاکھ سے زیادہ آبی پرندے عارضی قیام کرتے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان میں موجود کسی بھی آبی مقام پر آنے والے پرندوں کی تعداد سے زیادہ ہے دریائے سندھ پر یہ آبی مقام میانوالی شہر سے 25 کلومیٹر جنوب مغرب میں پانچ چھوٹی چھوٹی جھیلوں پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر کا اصل مقصد آبپاشی کے لیے پانی ذخیرہ کرنا، بجلی پیدا کرنا اور ماہی پروری تھا، مگر اب یہ آبی پرندوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
 اچھالی جھیل
 نو شہر ہ کے مغرب میں 13 کلومیٹر پر سلسلہ کوہ نمک میں واقع اس جھیل کی سطح سمندر سے بلندی قریباً 700میٹر ہے۔ جھیل میں پانی کا انحصار قدرتی چشموں او ربارشوں پر ہے۔ یہ جھیل کی گہرائی او رپرندوں کی تعداد پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ نقل مکانی کے دوران سینکڑوں آبی پرندوں کے ساتھ سفید سر والی مرغابی جو کہ ایک نایاب بطخ ہے اس جھیل کو اپنا مسکن بناتی ہے۔ جھیل میں آبی پرندوں کے شکار پر پابندی ہے۔ 

زنگی ناور جھیل
کھارے پانی کی یہ جھیل مختلف اطراف سے ریت کے ٹیلوں پر گھر ی ہوئی ہے۔ اس میں پانی کا انحصار بارشوں پر ہے، جو نہ صرف اس کی گہرائی پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ اس کے کھارے یا نمکین ہونے کا دارومدار بھی انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔ مرغابی کی ایک نایاب نسل جس کو Morbled Teal کہتے ہیں ،اس جھیل پر افزائش نسل کرتی ہے۔ 

تونسہ بیراج
 دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کا ذخیرہ کوٹ ادو سے 20 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے، یہاں پر آبی پودوں اور درختوں کی بہتات نے آبی پرندوں اور دوسرے جانوروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا ہے اور کئی اقسام کے پرندے اور جانور یہاں پر افزائش نسل کرتے ہیں، اس مقام کی اہمیت اندھی ڈولفن کی وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے جو کہ دریا کے پانی میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ 

شیخ نوید اسلم

(پاکستان کی سیر گاہیں)
 

No comments:

Powered by Blogger.