Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کی خوبصورت جھیلیں

 ڈرگ جھیل کھارے پانی کی اس جھیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم میں دریائے سندھ کی گزر گاہ رہی ہوگی۔ اس پانی میں مون سون کی بارشوں اور قریب کے ندری نالوں میں داخل ہوتا ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کا رخ موڑنے اور آبی پودوں کی بہتات سے اس کی سطح اور رقبے میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ بگلوں کی کئی اقسام یہاںپر افزائش نسل میں مصروف رہتی ہے ۔ سردیوں میں ہزاروں آبی پرندے جھیل پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھیل میں آبی پرندوں کا شکار ممنوع ہے۔ 

کینجھر جھیل میٹھے پانی کی یہ بہت بڑی جھیل ٹھٹھہ شہر سے 19 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کو کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دو جھیلوں کلری اور کینجھرکو ملانے پر وجود میں آئی ہے۔ جھیل میں پانی دریائے سندھ سے نہر کے ذریعے آتا ہے ۔ جھیل کے زیریں حصے پر ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر پانی کو روکا گیا ہے، یہی ڈیم جھیل سے پانی کے اخراج کے کام بھی آتا ہے۔ اس کے پانی سے کراچی اور اردگرد کی آبادی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ موسم سرما میں ہزاروں پرندے ہجرت کرکے اس جھیل کو اپنا عارضی مسکن بناتے ہیں ۔ جھیل میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیرے پرند وں کو افزائش نسل کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں پر آبی پرندوں کا شکار بھی ممنوع ہے۔ 

ہالیجی جھیل میٹھے پانی کی ایک جھیل کے اطراف مستقل رہنے والے پانی اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جھیل کے چاروں اطراف بند بنا کر پانی ذخیرہ کیا گیا ہے ،یہ اپنے بہترین محل وقوع اور ماحول کی وجہ سے پرندوں کی جنت کہلاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کی بہترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ نقل مکانی کے موسم میں ہزاروں پرندے اس جھیل پر آتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کے آبی اور دیگر پرندوں کو ان افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔ جھیل کی اہمیت کے پیش نظر اس پر ہر قسم کے شکار پر پابندی ہے۔

شیخ نوید اسلم

(پاکستان کی سیر گاہیں)  

No comments:

Powered by Blogger.