Header Ads

Breaking News
recent

انڈیا میں پانی کےلیے جنگ

انڈیا میں یہ پورا ہفتہ جنوبی ہندوستان کی دو ہمسایہ ریاستوں، کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان ٹکراؤ کے نام سے منسوب رہا۔ بھارت کی سیلی کون ویلی کہے جانے والے شہر بنگلور میں پر تشدد مظاہرین نے تمل ناڈو کی درجنوں بسیں جلا کر راکھ کر دیں۔ درجنوں تمل باشندوں کو صرف تمل ناڈو کا ہونے کے سبب مارا پیٹا گیا اوران کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہی صورتحال تمل ناڈو کی بھی تھی۔ وہاں کرناٹک کی بسوں کو جلایا گیا، مسافروں کی پٹائی گئی اور پر تشدد مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں شہری ان ریاستوں سے نکل کر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔
دونوں ریاستوں میں یہ پرتشدد صورتحال دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازع سے پیدا ہوئی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک ملک کی دوہمسایہ ریاستیں نہیں بلکہ دو دشمن ملک ایک دوسرے کے خلاف بر سرپیکار ہوں۔ دریائے کاویری کرناٹک سے نکلتا ہے اور تمل ناڈو ہوتے ہوئے دوسری ریاستوں سے گزرتا ہے۔ دونوں ریاستوں کےدرمیان کاویری کے پانی کا تنازع سو برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ 1990 میں مرکزی حکومت نے ایک ٹرائیبونل قائم کیا۔ سولہ برس تک سماعت، تجزیے اور مطالعے کے بعد 2007 میں اس ٹرائیبونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے تحت کرناٹک کو کاویری کا کتنا پانی تمل ناڈو کے لیے جاری کرنا ہے یہ طے کر دیا گیا ہے۔
  
موجودہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب سپریم کورٹ نے کرناٹک کو پانی جاری کرنے کا حکم دیا۔ مون سون اس بار اچھا رہا ہے۔ دریائے کاویری میں خاصا پانی ہےاور ریاست کے پانی کے ذخائر بھی بھرے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ریاستوں کی سیاسی جماعتیں بالخصوص کانگریس اور بی جے پی پانی کے اس تنازع کو ریاستی قوم پرستی کی شکل دے رہی ہیں۔ ماہرین ایک عرصے سے متنبہ کرتے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کے سبب بھارت جیسے گھنی آبادی کے علاقوں میں پانی کے لیے فسادات ہوں گے ۔ بھارت میں اگرچہ سینکڑوں دریا، ندیاں اور آبی ذخائر ہیں لیکن آبادی کے بوجھ اور موسمی تبدیلیوں سے وہ کم پڑنے لگے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی رفتہ رفتہ نیچے ہوتی جا رہی ہے۔
کثافت اور شہری غلاظت نے بھی بہت سی ندیوں کو گندے نالوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ بہت سے دریا جو تبت سے بھارت میں آتے ہیں ان پر چین نے بڑے بڑے ڈیم بنانے شروع کر دیے ہیں۔ ان دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اور مقدار اب ڈیم کی ضروریات کے حساب سے گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ بھارت کا چین کےساتھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا اس طرح کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس طرح کا معاہدہ بھارت اور پاکستان کے مابین ہے۔

بھارت میں زراعت اور پینے کے پانی کا بیشتر انحصار ندیوں اور مون سون کی بارش پر ہے۔ بارش کے تقریباً چار مہینوں میں ندیوں کا بیشتر پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے۔ پندرہ برس قبل سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے اقتدار میں ایک بڑا منصوبہ دریاؤں کو ایک دوسرے سے ملانے کا بنایا تھا۔ اس کامقصد ہر موسم میں دریاؤں میں ملک کے ہر خطے میں پانی کی فراوانی کو یقینی بنانا تھا۔
 وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنےکے بعد ایک آبی کمیشن تشکیل دیا ہے جو اس منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ حکومت آئندہ دنوں میں پانی کی اہمیت اور قلت دونوں کو سمجھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں رفتہ رفتہ شدت آنےکےساتھ جنوبی ایشیا میں ایک طرف ساحلی علاقے سمندر کی اونچی لہروں سے زیر آب آنے لگیں گے اور دوسری جانب پانی کےذرائع محدود ہوجائیں گے۔

کرناٹک اور تمل ناڈو تو ایک ہی ملک کی دو ہمسایہ ریاستیں ہیں۔ اس وقت مون سون کا موسم ہے اور دونوں ریاستوں میں پانی کی اتنی قلت بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹکراؤ کا جو منظرہے وہ مستقبل کے سنگین خطرات کا اشارہ ہیں۔
جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت دنیا کی سب سےگھنی آبادیوں والے ملک ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ فسادات اور جنگوں سے بچنے کے لیےمستقبل کےلیے پانی کا انتظام ابھی سےکرنا شروع کردیں۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


No comments:

Powered by Blogger.