Header Ads

Breaking News
recent

نمل جھیل : پہاڑیوں کے دامن میں ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل

راولپنڈی، میانوالی روڈ پر میانوالی شہر سے قریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑیوں کے دامن میں ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے، جسے نمل جھیل کہتے ہیں۔ یہ جھیل فرنگی عہد میں 1913ء میں بنائی گئی۔ جھیل سے پہلے بھی یہاں کی زمین بے حد زرخیز اور سر سبز تھی۔ لوگ یہاں پر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں کنوؤں کی تعداد لگ بھگ سو کے قریب تھی۔ یہ علاقہ جو وادی نمل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کئی صدیوں سے آباد چلا آرہا ہے۔ اس حقیقت کا پتہ جھیل کے کنارے واقع قدیم قبرستان سے بھی ملتا ہے۔
نمل جھیل 1200 ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی گہرائی قریباً 20بیس فٹ ہے پہاڑوں سے آبی چشموں اور برساتی نالہ کے ذریعے آنے والا پانی جب یہاں پہنچتا ہے ،تو نمل کے کشادہ بازو اسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ جھیل کا یہ پانی میانوالی شہر اور اس سے ملحقہ دیہات کو سیراب کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے، جب جھیل کا پانی ڈیم کے آہنی درازوں میں سے ہوتا ہوا، دوسری طرف نالے میں آبشار کی صورت میں گرتا ہے، تو اس سے خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے۔ کنارے پر اللہ کے ایک برگزیدہ بندے حضرت حافظ جی کا مزار ہے۔ 7-6 شعبان کو حافظ جی کا عرس ہوتا ہے ۔ سالانہ عرس کے علاوہ ماہ محرم کی ساتویں اور آٹھویں تاریخوں کو بھی دور دراز سے لوگ جوق در جوق یہاں آتے ہیں اور اس مزار پر حاضری دیتے ہیں اس موقع پر یہاں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ عقیدت مندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر یہاں پر عارضی دکانیں بن جاتی ہیں۔ مزار سے ملحقہ ایک مسجد بھی ہے، جس میں آج بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صدائے دلنشین سنائی دیتی ہے ۔
1984ء سے مزار کا انتظام محکمہ اوقاف نے سنبھال رکھا ہے۔ مزار حافظ کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے ،جو دو کمروں لان اور خوبصورت صحن پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جھیل کا منظر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ مزار کی جانب آبادی خانقاہ حافظ جی کے نام سے موسوم ہے جبکہ دوسری طرف کی آبادی نمل گاؤں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ لوگ کشتیوں کے ذریعے اس جھیل کو عبور کرتے ہیں۔ کشتیوں کے علاوہ ان لوگوں کے لیے کوئی ذریعہ آمدروفت نہیں ۔نمل جھیل میں ایک فش فارم بھی بنایا گیا ہے، جس کا باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ اس کا انتظام ضلع کونسل میانوالی کے سپرد ہے ،یہاں مچھلیوں کا قابل ذکر ذخیرہ موجود ہے۔ لوگ یہاں پر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ مچھلی کے علاوہ جھیل میں مرغابیوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔ سابق صدر فلیڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم، سابق گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان مرحوم اور دیگر اعلیٰ شخصیات یہاں شکار کرنے اور تفریح کی غرض سے آتی رہی ہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ میانوالی، خوشاب، تلہ کنگ، چکوال اور دیگر ملحقہ شہروں کے لیے یہ جھیل ایک خوبصورت اور بے مثال تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر جمعہ کو یہاں پر لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پکنک منانے اور ان قدرتی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ متذکرہ بارانی علاقوں، خشک اور بے مزہ ماحول میں رہنے والوں کے لیے نمل جھیل سے بہتر کوئی تفریحی مقام نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جھیل کے انتظام و انصرام سے متعلقہ محکمہ کے ارباب بست کشاد اسے مزید خوبصورت حسین 
اور دلکش بنانے کے لیے خصوصی توجہ دیں تاکہ یہاں آنے والے لوگوں کو کسی تکلیف، الجھن اور پریشانی وغیرہ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بھر پور طریقے سے ان مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ 

ایس انور خان
( ’’پاک جمہوریت‘‘سے مقتبس)
 

No comments:

Powered by Blogger.