Header Ads

Breaking News
recent

فورٹ منرو : خوبصورتی کے سمندر سموئے ہوئے ہے

ملتان اور اس کا نواح سخت گرمی کے حوالے سے ملک بھر میں مشہور ہیں۔ جون، جولائی کے مہینوں میں یہاں کے باسی 50 ڈگری درجہ حرارت بھی برداشت کرتے ہیں۔ یہاں پڑنے والی اس قدر شدید گرمی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں لذیذ اور خوش ذائقہ آموں کی فراہمی کا سبب بنتی ہے ۔ پنجاب کے پرُفضا مقام مری سے 700 کلومیٹر دوری پر ہونے کی وجہ سے یہاں بسنے والے گرمیوں میں ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پرُ فضا اور سر د مقامات پر جانا پاکستان میں ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ اس لیے یہاں کے باسی صرف مری کے قصے سن کر ہی دل بہلاتے ہیں۔
 یہاں رہنے والوں کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کے قریب ہی صرف سوا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دوسرا مری موجود ہے۔ مری کی بلندی جتنا بلند فورٹ منرو سہولتوں اور رونق کے اعتبار سے مری کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن حُسن و دلکشی او ر قدرتی نظاروں میں وہ کسی سے کم نہیں۔ فورٹ منرو جانا اس کے قریب بسنے والوں کی استطاعت میں ہے اور آسان بھی ،لیکن افسوس کہ لوگ ابھی تک اس تفریحی مقام کے بارے میں مکمل معلومات نہیں رکھتے۔ فورٹ منرو جو تاریخ میں بھی ایک مقام رکھتا ہے ۔ آج بھی کسی ایسے مہربان کا منتظر ہے، جو آکر اس کی حالت سنوارے اور اسے جنوبی پنجاب کے لیے مری بنا دے۔ اس خوبصورت مقام تک پہنچنے کے لیے ڈیرہ غازی خان سے لورا لائی کی طرف سفرکرنا پڑتا ہے اور راستے میں مشہور قصبہ سخی سرور آتا ہے۔
خشک اور سلیٹی مائل پہاڑوں کی قدرتی تراش خراش اس قدر جاذب نظر ہے کہ دیکھنے والوں کا خدا پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ ڈیرہ غازی سے ساٹھ کلومیٹر پر واقع یہ پرُ فضا مقام اپنے اندر خوبصورتی کے سمندر سموئے ہوئے ہے۔ پہاڑوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ندی نالے جنہیں یہاں رود کوہیاں کہا جاتا ہے اپنی طغانیوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ بارش کے دنوں میں یہاں سے گزرنے والا پانی اس قدر تیز ہوتا ہے کہ سامنے آنے والی ہر چیز بہا لیے جاتا ہے، ان رودکوہیوں کا لاکھوں کیوسک پانی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے اور یہ قدرتی وسیلہ کسی مصرف میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ سردار فاروق احمد لغاری کی دور صدارت میں فورٹ منرو کی تعمیر و ترقی کے ساتھ رودکوہیوں کے پانی کو استعمال میں لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیموں کے کئی منصوبے بنے، لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔

فورٹ منرو جانے والا راستہ سیاحوں کو ہمیشہ اپنی یاد دلاتا رہتا ہے۔ پہاڑوں کے گرد بل کھاتی اور چڑھتی چڑھاتی سڑک دیکھنے والوں کے لیے دلفریب منظر پیش کرتی ہے۔ سڑک پر رینگنے اور گھوں گھوں کی آوازیں نکالتے ٹرک دور سے کھلونا محسوس ہوتے ہیں۔ جب کوئی ٹرک ہارن بجاتا ہے، تو اس کی آواز کافی دیر تک پہاڑوں میں گونجتی رہتی ہے ان پتھریلے پہاڑوں پر سفر کرتے ہوئے کئی ایسے خطرناک موڑ بھی آتے ہیں کہ جہاں سے گزرتے ہوئے نئے آنے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور زبان پر اللہ اللہ کا ورد ہوتا ہے، لیکن جب ڈیرہ غازی خان سے پرخطر راستہ طے کرکے لوگ یہاں پہنچتے ہیں، تو انہیں خوشگوار موسم کے سوا کوئی سہولت نصیب نہیں ہوتی۔

یہاں چند سرکاری ریسٹ ہاؤس ہیں، جو صرف خواص کے لیے کھلتے ہیں اور عوام انہیں باہر باہر سے دیکھتے ہیں۔ کچھ وڈیروں، سرداروں اور تمن داروں نے بھی یہاں گھر بنا رکھے ہیں۔ منرو نامی انگریز کے نام پر یہاں تعمیر ہونے والے ملبے کے اب نشان باقی ہیں۔ دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر ہونے والے مضبوط قلعوں کا مٹ جانا یقینا ہمارے لمحہ فکریہ ہے۔ فورٹ منرو کے مقام پر ایک خوبصورت جھیل بھی ہے، جسے ڈیمس جھیل کہا جاتا ہے۔ یہ جھیل سیاحوں کے لیے دلکش نظارہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان یوتھ ہوسٹل ایسویسی ایشن اور پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریش والوں کو یہاں اپنے یوتھ ہوسٹل اور ہوٹل موٹل کے قیام عمل میں لانا چاہیے، جو یہاں سیر و سیاحت کے فروغ میں ایک اہم قدم ہوگا۔ فورٹ منرو میں سب سے زیادہ رونق 14 اگست کو ہوتی ہے۔ جشن آزادی کے موقع پر یہاں ایک میلہ لگتا ہے ،جس میں لوگ دور دور سے شریک ہوتے ہیں اور رش اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ سڑک کئی کئی گھنٹے بلاک ہو جاتی ہے۔

قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے اسلحہ یہاں ہر طرف عام ہے۔ دکانوں پر بندوقوں کی گولیوں اس طرح بکتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں ٹافیاں، کسی کے پاس اورکچھ ہو نہ ہو، بندوق ضرور ہوتی ہے۔ نوجوان ہرطرف کندھوں پر بندوقیں سجائے پھرتے ہیں۔ فورٹ منرو میں ایک اور قابل ذکر چیز یہاں کا پیالہ ہے۔ پہاڑوں سے پانی بوندوں کی شکل میں ایک پتھر پر گرتا ہے اور سالوں کے اس تسلسل نے پتھر کو پیالے کی شکل دے دی ہے۔ پہاڑوں میں موجود اس پیالے کو لوگ بڑے اشتیاق سے دیکھتے اور خوش ہوتے ہیں۔ فورٹ منرو ہی ایک مارکیٹ بھی موجود ہے  جو صرف گرمیوں کے سیزن میں ہی آباد ہوتی ہے۔ مارکیٹ کی کچی دکانیں موسم میں سج جاتی ہیں اور موسم ختم ہونے پر اجڑ جاتی ہے۔ فورٹ منرو سے تھوڑے فاصلے اہم مقام رکنی ہے، جو سمگل شدہ اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے بے حد مشہور ہے۔ رکنی صوبہ بلوچستان میں واقعہ ہے۔ فورٹ منرو آنے والوں کی اکثریت رکنی کا چکر لگاتی ہے۔ 

(کتاب ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ سے مقتبس)  
 

No comments:

Powered by Blogger.